حکومت کا کانٹریکٹروں کے ساتھ معاہدہ ختم ہوجانے کے سبب اناج کی سپلائی بند ہے ، اساتذہ خود اناج ادھار لے کر بچوں کو کھانا دے رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 10:44 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
حکومت کا کانٹریکٹروں کے ساتھ معاہدہ ختم ہوجانے کے سبب اناج کی سپلائی بند ہے ، اساتذہ خود اناج ادھار لے کر بچوں کو کھانا دے رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ جون میں سپلائی کنٹریکٹر کے ساتھ حکومت کا معاہدہ ختم ہونے اور اب تک اس کی تجدید نہ ہو پانے سے سرکاری اسکولوںمیں مڈے میل کیلئے اناج سپلائی نہیں ہو پا رہا ہے لہٰذا ہزاروں طلبہ نئے تعلیمی سال میں مڈڈے میل کی سہولت سے محروم ہیں ۔اس دوران محکمہ تعلیم نے ہیڈماسٹر اوراسکول انچارج کو اپنی سطح پر مڈڈے میل کیلئے ضروری اجناس کا انتظام کرنے کی ہدایت دی ہے ، لیکن بل کی ادائیگی نہ ہونے سے دکاندار اب قرض پر اناج دینے سے کترا رہے ہیں ۔ایسے میں اساتذہ کیلئے طلبہ کے مڈڈے میل کاانتظام کرنا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے ۔ تعلیمی تنظیموں نے محکمہ تعلیم سے فوری طور پر اس کا حل نکالنے کا مطالبہ کیاہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے طلبہ کا علاج کرانے کا حکم
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ مہاراشٹر کے تقریباً ۴۰؍ ہزار سرکاری اور امدادی اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت اپریل ۲۰۲۶ء کے بعدسے اناج کی فراہمی نہیں ہوسکی ہے جسکی طلبہ کوملنے والا کھانا اب ٹھیک سے نہیں مل پا رہا ہے ۔‘‘ انہوں نےکہا کہ ’’ریاست میں شالہ پوشن آہار یوجنا کے ڈائریکٹر شردگوساوی نے کانٹریکٹروں سے معاہدہ کی تجدید نہ ہونے تک اسکولوں کو مقامی دکانداروں سے چاول اور دیگر اشیائے خورد ونوش قرض پر لے کر طلبہ کو دوپہر کا کھانا فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے ،حالانکہ مڈڈے میل فراہم کرنے کی ذمہ داری اساتذہ کی نہیں ہے لیکن اب یہ کام بھی انہیںکرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا’’کرانہ کی دکان سے اُدھار اناج خریدنا ، اساتذہ کیلئے کتنا مناسب ہے ،اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسکے باوجود اساتذہ اُدھار اناج خرید کر بچوںکو مڈڈے میل فراہم کرنےکی کوشش کر رہے ہیں لیکن گزشتہ ۴؍ ماہ سے ان دکانداروں کی بقایا رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اب وہ اناج دینے میں کترا رہے ہیں اور بقایا بل کی ادائیگی کا تقاضہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ کو اناج کی حصولیابی میں مشکل درپیش ہے ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو: مڈ ڈے میل میں چکن بریانی پیش کرنے پر غور
ساجد نثار کے مطابق ’’ طلبہ کو غذائیت سے بھرپور اور معیاری کھانا فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ انتظامی تاخیر یا سپلائر کے معاہدوں میں رکاوٹ کا خمیازہ طلبہ اور اساتذہ کیوں بھگتیں؟ ‘‘
ساجد نثار کے بقول’’ہم نے حکومت مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکولی تعلیم و کھیل اور محکمہ پی ایم پوشن آہار کے ڈائریکٹر شرد گوساوی سے مطالبہ کیا ہےکہ ریاست کے تمام اسکولوں میں فوری طور پر غذائی اجناس کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جن اسکولوں نے اُدھار پر راشن حاصل کیا ہے ان کے بل کی فوری ادائیگی کی جائے ، معاہدہ میں ہونے والی تاخیر کی وجوہات کی جانچ کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے مؤثر اور بروقت نظام قائم کیا جائے ۔‘‘ یاد رہے کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں مڈڈے میل طلبہ کیلئے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ پسماندہ دیہاتوں میں بچوں کے اسکول آنےکا ایک سبب مڈے میل اسکیم بھی ہے جو انہیں پیٹ بھر کھانا فراہم کرتی ہے۔