• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس کے رکن نے AIPAC سے منسلک سپر PAC کو۱۵؍ لاکھ ڈالر دیئے: رپورٹ

Updated: September 05, 2026, 10:09 PM IST | Washington

ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس کے رکن نے AIPAC سے منسلک سپر PAC کو۱۵؍ لاکھ ڈالر دیئے، ارب پتی مارک روون، جو اپولو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او ہیں، نے فیڈرل الیکشن کمیشن کی فائلنگ کے مطابق، سال کے آغاز سے یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ کو۱۵؍ لاکھ ڈالر عطیہ کئے ہیں۔ یہ ایک سپر PAC (سیاسی ایکشن کمیٹی) ہے جو امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) سے وابستہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس کے رکن نے AIPAC سے منسلک سپر PAC کو۱۵؍ لاکھ ڈالر دیئے، ارب پتی مارک روون، جو اپولو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او ہیں، نے فیڈرل الیکشن کمیشن کی فائلنگ کے مطابق، سال کے آغاز سے یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ کو۱۵؍ لاکھ ڈالر عطیہ کئے ہیں۔ یہ ایک سپر PAC (سیاسی ایکشن کمیٹی) ہے جو امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) سے وابستہ ہے۔روون، جن کی مالیت۸؍ ارب ڈالر سے تجاوز کرتی ہے، ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ایگزیکٹو رکن ہیں، جو ایک اقوام متحدہ کی منظور شدہ باڈی ہے جسے ٹرمپ کے رکے ہوئے غزہ منصوبے کو آگے بڑھانے کا کام سونپا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میرے جانے کے بعد کوئی یہ کام نہیں کریگا اسلئے ہر جگہ خود اپنا نام لگا رہا ہوں: ٹرمپ

بعد ازاں دی انٹرسیپٹ نے جمعرات کوخبر دی  کہ یہ عطیہ روون کی دولت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور اس سے اس خارجہ پالیسی کو حمایت ملتی ہے جو اسرائیل کی حمایت اور غزہ پر اس کی جنگ کے دوران اس ملک کو امریکی اسلحے کی مسلسل فراہمی پر مرکوز ہے۔ واضح رہے کہ فروری میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے روون نے اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے علاقوں کو ان کی ترقیاتی صلاحیت کے تناظر میں بیان کیا۔انہوں نے کہا، ’’یہاں کی صلاحیت زبردست ہے۔ یہ پیسے یا ضمانت کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ امن کا مسئلہ ہے۔‘‘ جبکہ فیڈرل الیکشن کمیشن کی فائلنگ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے مارچ کے اوائل میں یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ (UDP) کو پہلا عطیہ دیا، جس میں۱۰؍ لاکھ ڈالر شامل تھے، اس کے بعد۲۳؍ جولائی کو مزید ۵؍ لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے میں بچوں کیلئےعارضی سنیما، کارٹون دیکھ کر چہروں پر مسکراہٹ لوٹی

علاوہ ازیں روون کی دوسری عطیہ کی اسی تاریخ کو، AIPAC سے منسلک سپر PAC نے مشی گن میں ترقی پسند فلسطین حامی امریکی سینیٹ کے امیدوار عبداللہ ایل سید کے خلاف مہم کے میلرز پر تقریباً ۵۰؍ہزار ڈالر خرچ کئے۔مسوری میں، UDP نے سابق ڈیموکریٹک نمائندہ کوری بش کے خلاف، اسرائیل حامی موجودہ نمائندہ ویسلی بیل کے مقابلے میں، فون بینکنگ پرایک لاکھ ڈالر خرچ کئے۔یہ واضح نہیں ہے کہ روون کے عطیات UDP کی کسی مخصوص سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کئے گئے یا نہیں۔ جبکہ روون اور UDP نے دی انٹرسیپٹ سے رابطہ کرنے پر جواب نہیں دیا۔ تاہم ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی ایڈووکیسی ڈائریکٹر، رائد جرار نے کہا کہ روون کے AIPAC کے سپر PAC کو بڑے عطیہ دہندہ اور ٹرمپ کے غزہ بورڈ کے رکن کے طور پر دوہرے کردار پر شفافیت کی ضرورت ہے۔جرار نے دی انٹرسیپٹ کو بتایا، ’’اب وہ ایک بورڈ میں بیٹھا ہے جو غزہ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ فلسطینیوں نے اسے منتخب نہیں کیا، اور نہ ہی امریکی ووٹروں نے۔ امریکیوں اور فلسطینیوں دونوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اصل میں کس کے مفادات پورے کئے جا رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوشش، امریکی ایلچی کیف جائیں گے

اس کے علاوہ روون فلسطین حامی طلباء کے مظاہرین کے کھلے نقاد رہے ہیں، انہوں نے ان کی کالوں کو’’یہود مخالف‘‘ قرار دیا، جبکہ AIPAC نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے اور حماس کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیل کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔فروری میں واشنگٹن میں ایک اجلاس میں، روون نے غزہ کی معاشی صلاحیت پیش کی، باوجود اس کے کہ علاقے کا۸۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے غزہ کے ساحل کی مالیت۵۰؍ ارب ڈالر، دوبارہ تعمیر شدہ مکانات کی مالیت۳۰؍ ارب ڈالر اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی مالیت مزید۳۰؍ ارب ڈالر بتائی۔روون نے کہا کہ ان اثاثوں کو ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے تحت رکھنے سے ’’غزہ کے باشندوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے وسائل کا تنازعات سے پاک انتظام ممکن ہو گا۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK