Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی حکام کے مطابق پابندیاں ایران کو حملوں سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں: رپورٹ

Updated: July 28, 2026, 10:04 PM IST | Washington

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اقتصادی پابندیاں ایران کو حملوں سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں، حکام کے مطابق ایرانی بمباری بند کرنا چاہتے ہیں، اور انہیں پیسہ چاہئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی حکام کی رائے ہے کہ ایران پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا بمباری سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچائے گا، ایکسوس نے منگل کو رپورٹ پیش کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے اندر گہرا معاشی بحران ہے۔ایرانی بمباری بند کرنا چاہتے ہیں اور وہ پیسہ چاہتے ہیں،’’ ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا۔ لیکن یہ تقریباً الٹ ترتیب ہے۔ وہ واقعی پہلے پیسہ چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران نے۱۳؍ دن کے حملوں کے بعد ہفتے کے آخر میں امریکی حملے روکنے کے بعد معاہدے پر بات چیت کی درخواست کی تھی۔حالانکہ ایران نے اس دعوے کی تردید کی۔ دوسری جانب عمان، قطر اور پاکستان کے ثالث پابندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک تجویز میں ایران اور عمان کو آبنائے ہرمز کی ٹریفک کے انتظام میں کردار دینا ہے، جو ملاکا اور سنگاپور آبنائے کے فریم ورک پر وضع کیا گیا ہے۔ بعد ازاں سینئر انتظامی اہلکار نے کہا رپورٹ میں کہا گیا،’’کچھ ایرانی یہ چاہتے ہیں۔ دوسرے نہیں چاہتے۔ یہ مسئلے کا ایک حصہ ہے۔ دریں اثناءایران مستقبل کے امریکی حملوں کے خلاف ضمانتیں، منجمد اثاثوں تک رسائی اور پابندیوں سے نجات چاہ رہا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ایران کو انعام دینے کی مخالفت کرتے ہیں اور اصرار کررہے ہیں کہ وہ اپنا باقی ماندہ جوہری مواد جمع کرائے ۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہرمز انتظام سنبھالنے سے متعلق عمان سے حالیہ مذاکرات میں امریکہ شامل نہیں: ایران

جبکہ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ایران پر دباؤ ڈالنے میں بمباری سے زیادہ وقت لے گی، جس سے جنگ اور زیادہ گیس کی قیمتوں کے نتیجے میں ریپبلکن کیلئے سیاسی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔مزید برآں  ایک امریکی اہلکار نے کہاخفیہ خبر کے مطابق  ایرانی شکایت کر رہے ہیں کہ وہ اپنےفوجیوں کو تنخواہ نہیں دے سکتے۔ اس بڑے تیل سے مالا مال ملک میں پٹرول کی قلت ہے،وہ معاشی پابندیوںسے زیادہ خوفزدہ ہیں۔‘‘حکام نے کہا کہ’’ ایران نے پہلے امریکی مذاکرات کاروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کو بتایا تھا کہ منجمد اثاثوں تک رسائی اولین ترجیح ہے۔‘‘ ایک اہلکار نے دعویٰ کیاوہ اسٹیو اور جیرڈ سے نقدی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ وہ اس کے لیے بے قرار ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی تیل تجارت، مالی نیٹ ورکس، ہتھیاروں کی خریداری اور شپنگ کو نشانہ بنانے والی زیادہ دباؤ مہم کے تحت افراد، بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں پر ایک ہزار  سے زیادہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ناقدین کے مطابق مبینہ طور پر نہ تو فوجی حملے اور نہ ہی معاشی دباؤ ایران کو ٹرمپ کے مطالبات قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کار بریٹ ایرکسن نے مشاہدہ کیا کہ ایران نے سال کے پہلے نصف میں تخمینہ۲۳؍ بلین ڈالر کی تیل آمدنی حاصل کی، جو بجٹ کی پیش گوئیوں سے زیادہ ہے۔‘‘معاشی جنگ ایران کی جنگ کے لیے بنیادی طور پر ایک ناکام طریقہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ٹرمپ ایران جنگ میں پھنسے ہوئے نظر آرہے ہیں‘‘

علاوہ ازیں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ’’ ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا اتحادیوں کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو وہ تماممتبادل کھلے رکھیں گے۔‘‘ جبکہ ایک اور امریکی اہلکار نے کہا،’’صدر کے پاس جیت کا متبادل ہے۔ امریکہ اس کو مکمل طور پر فوجی طور پر جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور امریکہ معاشی پابندیاں عائد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ایران کو مفلوج کر دیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK