ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ویزا منسوخی کی تیاری کررہا ہے، جس کا نشانہ تقریباً ۲؍ لاکھ غیر ملکی شہری بنیں گے، خاص طور پر ان حاملین کے ویزے منسوخ کیے جائیں گے جنہوں نے پناہ کی درخواست دی ہے یا اب دے رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 10:12 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ویزا منسوخی کی تیاری کررہا ہے، جس کا نشانہ تقریباً ۲؍ لاکھ غیر ملکی شہری بنیں گے، خاص طور پر ان حاملین کے ویزے منسوخ کیے جائیں گے جنہوں نے پناہ کی درخواست دی ہے یا اب دے رہے ہیں۔
اے پی کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ خارجہ آئندہ ہفتوں میں ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان جاری کردہ B1 اور B2 ویزوں کی منسوخی کا اعلان کرنے والا ہے، خاص طور پر ان حاملین کے ویزے منسوخ کیے جائیں گے جنہوں نے پناہ کی درخواست دی ہے یا اب دے رہے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ امریکہ میں ۲ ؍لاکھ تک غیرملکیوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جنہوں نے پناہ کے لیے درخواست دی ہے یا اس وقت پناہ کی تلاش میں ہیں۔اگر ایسا ہوا تو یہ امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی یکبارگیمنسوخی ہوگی اور اسے قانونی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اگر چیلنج یا نظرثانی نہ کی گئی تو محکمہ خارجہ آئندہ ہفتوں میں ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان اس پر عمل کیا جائے گا۔ یہ بات محکمہ خارجہ کی دستاویزات اور دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے اے پی کو موصول ہوئی ہے۔یہ کارروائی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے کے اشتراک سے کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکی پابندیوں سے کن ممالک پر اثر پڑیگا؟
بعد ازاں محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا،’’ہم ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر ان غیرملکیوں کے غیرتارکین ویزوں کی نشاندہی اور منسوخی کر رہے ہیں جو امریکہ میں قلیل مدتی سفرکا دعویٰ کرتے ہوئے آئے، لیکن پھر مستقل طور پر یہاں رہنے کے لیے پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ممکنہ طور پر منسوخ کیے جانے والے ویزوں کی تعداد پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ’’چونکہ یہ عمل جاری رہے گا، اس لیے منسوخیوں کی تعداد متحرک رہے گی اور مرحلہ وار کی جائے گی۔‘‘
تاہم عہدیداروں (جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی) کے مطابق، جن کے پناہ کے معاملے زیر التوا ہیں، ان میں سے بیشتر کو نئی درجہ بندی دی جائے گی، لیکن وہ کاروباری یا سیاحتی مسافر کا درجہ کھو دیں گے۔پیر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو سیاحتی اور کاروباری ویزوں کے ذریعے امریکہ میں داخل ہو کر پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔لینڈاؤ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، ’’امریکہ اور دنیا بھر کے لوگ جعلی پناہ کے دعووں سے تنگ آ چکے ہیں۔ پناہ امیگریشن قانون کو نظرانداز کرنے کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کولمبیا کے ایک شہری کا معاملہ پیش کیا جو ۲۰۱۵ء میں سیاحتی ویزے پر امریکہ آیا اور پھر پناہ کی درخواست دی۔ان کا کہنا تھا کہ نظام طویل عرصے سے پناہ کی درخواستوں سے بھرا ہوا ہے، اس عمل میں برسوں لگتے ہیں، دورانِ درخواست درخواست دہندگان ملک میں جڑیں جماتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: خطرناک ڈرائیونگ ویڈیوز پر حکومت کا ٹک ٹاک کو انتباہ، کارروائی تیز
واضح رہے کہ امریکہ میںB1 ویزے عام طور پر کاروباری دوروں کے لیے اور B2 ویزے سیاحت، خاندانی ملاقات یا طبی دیکھ بھال کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ دستاویزات یا عہدیداروں سے فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ویزا حاملینمیں سے کتنے پناہ مانگ رہے ہیں یا مانگ چکے ہیں اور کتنے منسوخی سے متاثر ہوں گے۔ دریں اثناءB1 اور B2 ویزوں کے موجودہ درخواست دہندگان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ امریکہ میں پناہ کے لیے درخواست نہیں دیں گے اور یہ ثابت کریں کہ ان کا اپنے ممالک واپس لوٹنے کا ارادہ ہے۔