Updated: August 24, 2026, 9:08 PM IST
| London
برطانیہ میں ایک خوفناک سڑک حادثے میں ۷؍ افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت نے ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خطرناک ڈرائیونگ کو فروغ دینے والی ویڈیوز فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حادثہ ہفتہ کی صبح ٹیس سائیڈ کے اے ۶۶؍ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب غلط سمت میں چلنے والی ووکس ویگن پاسات ایک پولیس گاڑی سے ٹکرا گئی۔
برطانیہ میں خطرناک ڈرائیونگ سے متعلق سوشل میڈیا مواد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ٹیس سائیڈ کے اے ۶۶؍ روڈ پر ایک خوفناک حادثے میں دو پولیس افسران سمیت سات افراد کی موت کے بعد برطانوی حکومت نے ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ایسی ویڈیوز ہٹانے کو کہا ہے جن میں سڑک کے غلط رخ پر گاڑی چلانے یا خطرناک ڈرائیونگ کو تفریح اور مقبولیت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ حادثہ سنیچر کی صبح تقریباً ۳؍ بجکر ۳۹؍ منٹ پر ساؤتھ بینک، مڈلزبرو کے قریب اے ۶۶؍ پر پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ایک ووکس ویگن پاسات کو مشتبہ انداز میں چلتے دیکھنے کے بعد پولیس نے اس کا تعاقب کیا تھا، تاہم گاڑی جب دو طرفہ شاہراہ پر غلط سمت میں داخل ہوئی تو تعاقب ختم کردیا گیا۔ اس کے تقریباً 10 سیکنڈ بعد پاسات سامنے سے آنے والی مسلح پولیس گاڑی سے ٹکرا گئی۔ دونوں گاڑیوں میں موجود تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیشی حافظ نورالدین زکریا عالمی قرآن مقابلے میں اول، انعامات کی بارش
حادثے میں کلیولینڈ پولیس کے پی سی میتھیو بلیڈز (۳۷؍ سال)، اور پی سی ٹام کلاف (۳۸؍ سال) جان سے گئے۔ پاسات میں سوار پانچ افراد کی شناخت ۱۷؍ سالہ کول رابرٹ ورتھی، ۱۷؍ سالہ تھیو رے، ۱۸؍ سالہ مکائی سیڈنگٹن، ۲۳؍ سالہ مائیکل رابرٹ کاہل اور ۲۳؍ سالہ جیکب ماتوسیئک کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں افسران درست سمت میں سفر کر رہے تھے۔ حادثے کے حالات کی تحقیقات پولیس واچ ڈاگ Independent Office for Police Conduct (IOPC) بھی کر رہا ہے۔ حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر خطرناک ڈرائیونگ کو مبینہ طور پر ویوز اور مقبولیت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے والے مواد پر بھی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے ایک، مکائی سیڈنگٹن، ماضی میں خطرناک ڈرائیونگ سے متعلق ٹک ٹاک ویڈیوز میں نظر آیا تھا۔ تاہم ان ویڈیوز کی موجودگی کو حادثے کی براہ راست وجہ قرار نہیں دیا گیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بیجنگ میں ہیومنائڈ روبوٹس نے کئی انسانی ریکارڈ توڑ دیئے
برطانوی وزیر دفاع لیوک پولارڈ نے ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر موجود ایسے مواد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رابطہ کیا ہے جو سڑکوں پر اس قسم کے خطرناک رویے کی تشہیر کرنے والا مواد دکھا رہے ہیں، اور ان سے اسے ہٹانے کو کہا ہے۔‘‘ ان کے مطابق انٹرنیٹ کو ایسا محفوظ ماحول ہونا چاہیے جہاں خطرناک رویے کو ویوز اور مالی فائدے کے لیے فروغ نہ ملے۔ پولارڈ نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مزید کہا کہ وہ خود بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں نے طویل عرصے تک یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو خود منظم کرسکتی ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال ان کے لیے اس دعوے کو ثابت کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں چاہتا ہوں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں آگے بڑھیں اور کارروائی کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے حملے
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر پلیٹ فارمز خود خطرناک مواد نہیں ہٹاتے تو Online Safety Act کے تحت دستیاب اختیارات استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ پولارڈ نے کہا کہ حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسا مواد ہٹانے پر مجبور کرنے کے لیے قانونی اختیارات استعمال کرے گی۔ انہوں نے پلیٹ فارمز کے الگورتھمز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں جانتی ہیں کہ ان کے الگورتھمز کس نوعیت کے مواد کو زیادہ پھیلاتے ہیں۔ اس حادثے نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں خطرناک ڈرائیونگ سے متعلق حالیہ واقعات پر بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ اس سے چند روز قبل آئرلینڈ میں بھی ایک گاڑی کے موٹر وے پر مبینہ طور پر غلط سمت میں جانے کے نتیجے میں ۵؍ نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔ ان واقعات کے تناظر میں خطرناک ڈرائیونگ کو سوشل میڈیا پر چیلنج یا تفریح کے طور پر پیش کیے جانے کے رجحان پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان ماؤنٹ فیوجی: تھکن کی شکایت کرنے پر ۷؍ سالہ بچے کو والد نے تنہا چھوڑ دیا
ادھر اے ۶۶؍ حادثے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ اور ساتھیوں کی جانب سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ کلیولینڈ پولیس کی چیف کانسٹیبل وکٹوریہ فلر نے دونوں افسران کو ’’ہماری کمیونٹیز کی حفاظت کرنے والے بہادر افسران‘‘ قرار دیا۔ پی سی بلیڈز کے اہل خانہ نے انہیں ایک اچھا شوہر اور دو بچوں کے مخلص والد کے طور پر یاد کیا، جبکہ پی سی کلاف کے اہل خانہ نے انہیں اپنا ہیرو قرار دیا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دباؤ اس بات کی علامت ہے کہ خطرناک آن لائن رجحانات کو محض سوشل میڈیا سرگرمی سمجھنے کے بجائے ان کے ممکنہ حقیقی دنیا کے نتائج پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم اے ۶۶؍ حادثے کے اصل اسباب اور اس میں شامل افراد کے اقدامات سے متعلق تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے حادثے اور کسی مخصوص آن لائن مواد کے درمیان براہ راست تعلق کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔