Inquilab Logo Happiest Places to Work

ادیشہ: بینک سے رقم نکالنے کیلئے بہن کی ہڈیاں لانا نظامی لاپرواہی کا نتیجہ: تحقیق

Updated: May 15, 2026, 9:02 PM IST | Bhubaneshwar

ادیشہ میں بینک سے جمع رقم نکالنے کیلئے بہن کی ہڈیاں لانے کے معاملے کی جانچ کے بعد نظامی لاپرواہی سامنے آئی ہے، رپورٹ کے مطابق قبائلی شخص کا یہ عمل طویل مدتی ادارہ جاتی لاپروائی، تاخیر سے ہونے والی دستاویزات، اور فلاحی حقوق سے انکار کا نتیجہ تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’’ غذا کے حق‘‘ مہم کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی دستاویز کے مطابق، ادیشہ میں ایک بزرگ قبائلی شخص کا اپنی بہن کی باقیات کو زمین سے نکال کر بینک کی شاخ تک لے جانا ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ طویل مدتی ادارہ جاتی لاپروائی، تاخیر سے ہونے والی دستاویزات، اور فلاحی حقوق سے انکار کا نتیجہ تھا۔رپورٹ کے مطابق ،۶۵؍ سالہ جیتو منڈا کو۲۷؍ اپریل کو اپنی بہن کلرا منڈا کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی بار بار کی کوششوں کے ناکام ہونے پر ان کی باقیات لانے پر مجبور ہونا پڑا، کیونکہ موت کے سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی میں انہیں رقم نہیں دی جا رہی تھی۔ واضح رہے کہ کلرا منڈا کی موت۲۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو طویل علالت اور شدید غربت کے باعث ہوئی تھی۔ مقامی ہیلتھ ورکرز اور گاؤں کے حکام کو ان کی موت کے باوجود، موت کا سرٹیفکیٹ تین ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری نہیں کیا گیا۔ یہ سرٹیفکیٹ بالآخر۲۹؍ اپریل کو اس وقت جاری ہوا جب اس واقعے نے میڈیا کی توجہ حاصل کر لی۔

یہ بھی پڑھئے: چالیس گاؤں میں ویکسین لگانے کے گھنٹے بھر بعد ڈھائی ماہ کی بچی فوت

رپورٹ نے اس تاخیر کو دو بڑی انتظامی ناکامیوں میں سے پہلی قرار دیا ہے۔ دوسری ناکامی جیتو منڈا کو بنیادی فلاحی فوائد حاصل نہیں تھےکیونکہ وہ اپنا گم شدہ آدھار کارڈ پیش نہیں کر سکتا تھا۔ راشن کارڈ اور بڑھاپے پنشن دونوں کا اہل ہونے کے باوجود، واقعہ کے میڈیا میں آنے تک اسے یہ حقوق دینے سے بار بارانکار کیا گیا۔جیتو اور اس کی بہن، جو بے زمین اور عمر دراز تھے، زیادہ تر کلرا کی ماہانہ ایک ہزار روپے کی بیوہ پنشن اور’’ غذا کے حق‘‘کے تحت سبسڈی والے راشن پر گزارہ کرتے تھے۔ ان کی کلبچت، تقریباً۱۹۶۰۰؍ روپے، جو دو بیلوں کو بیچنے کے بعد جمع کرائی گئی تھیں، کلرا کی بگڑتی صحت کے دوران حاصل نہیں ہوسکی۔بعد ازاں واقعے کے دن، جب دوبارہ رقم دینے سے انکار کیا گیا تو جیتو واپس گیا، اپنی بہن کی باقیات قبرستان سے نکالیں، ایک بوری میں رکھی، اور شدید گرمی میں پیدل بینک لے گیا تاکہ اپنی بہن کی موت کا ثبوت دے سکے۔ وہ بینک کے باہر تقریباً دو گھنٹے بیٹھا رہا، جس کے بعد پولیس آئی اور اسے، بغیر کوئی انتظام فراہم کئے باقیات دوبارہ دفنانے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ نے پبلک ٹرانسپورٹ میں پینک بٹن اور جی پی ایس ٹریکنگ لازمی قرار دیا

علاوہ ازیں حقیقت نامے میں کہا گیا کہ میڈیا کوریج کے بعد انتظامیہ کی تیز رفتار کارروائی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کے معاملے کو حل کرنے میں پہلے بھی کوئی حقیقی رکاوٹیں نہیں تھیں۔ کیونکہ چند دنوں میں جیتو کو راشن کارڈ ملا، سوشل سیکیورٹی پنشن کے لیے اندراج ہوا، اور اس کی بہن کے اکاؤنٹ کی رقم اس کے نئے کھولے گئے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی۔تاہم رپورٹ نے اس واقعے کو ریاستی  نظام کی ناکامی قرار یا جسے روکا جا سکتا تھا، ساتھ ہی مقامی ہیلتھ حکام، بینک عملے اور پولیس اہلکاروں کے طرز عمل کی تحقیقات کے ساتھ ریاستی سطح پر اصلاحات کی سفارش کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آدھار سے متعلق مسائل کمزور شہریوں کو ضروری حقوق سے محروم نہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK