• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دسمبر سہ ماہی میں کئی بڑی کمپنیوں کے نتائج کمزور، آگے بہتری کی امید

Updated: January 20, 2026, 5:07 PM IST | New Delhi

مالی سال ۲۰۲۶ء کی دسمبر سہ ماہی کے ابتدائی نتائج میں ہندوستانی کارپوریٹ شعبے کی بڑی کمپنیوں (انڈیا اِنک) کی کارکردگی کچھ کمزور نظر آئی ہے۔ انڈسٹری ماہرین کے مطابق، نئے لیبر قوانین سے متعلق ایک بار کے اخراجات (ون ٹائم چارجز) اور دیگر تبدیلیوں کی وجہ سے کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑا ہے۔

Indian Economy.Photo:INN
ہندوستانی معیشت۔ تصویر:آئی این این

 مالی سال ۲۰۲۶ء کی دسمبر سہ ماہی کے ابتدائی نتائج میں ہندوستانی کارپوریٹ شعبے کی بڑی کمپنیوں (انڈیا اِنک) کی کارکردگی کچھ کمزور نظر آئی ہے۔ انڈسٹری ماہرین کے مطابق، نئے لیبر قوانین سے متعلق ایک بار کے اخراجات (ون ٹائم چارجز) اور دیگر تبدیلیوں کی وجہ سے کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑا ہے۔
اب تک نفٹی ۵۰؍ کی تقریباً ۱۰؍ کمپنیوں نے اپنے نتائج کا اعلان کیا ہے، جن میں زیادہ تر آئی ٹی کمپنیاں اور چند بینک شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نتائج میں کوئی بڑا سرپرائز دیکھنے کو نہیں ملا۔ زیادہ تر کمپنیوں کے نتائج ملے جلے رہے یا توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔
 کمپنیوں کی آمدنی پر سب سے بڑا اثر نئے لیبر قانون کے نفاذ سے پڑا ہے۔ یہ قانون نومبر سے نافذ ہوا ہے، جس کے تحت اجرت، کام کی جگہ کی حفاظت اور سماجی تحفظ سے متعلق کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں پر عمل درآمد کے لیے کمپنیوں کو اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ ٹی سی ایس، انفوسس اور ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز جیسی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو نئے قوانین کے باعث نفاذ سے متعلق ایک بار کے اخراجات کی صورت میں۴۳۷۳؍ کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا، جس کے نتیجے میں اس سہ ماہی میں ان کے منافع میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی۔
 اگرچہ قلیل مدت میں منافع پر دباؤ ضرور ہے، لیکن آئی ٹی کمپنیوں کے لیے طلب کے حالات بہتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اب صرف تجربات تک محدود نہیں رہی بلکہ کمپنیوں کے روزمرہ کاموں میں براہ راست استعمال ہونے لگی ہے، جس سے نئے منصوبوں اور تقرری  کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ کئی بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے پورے سال کے لیے اپنی آمدنی کے اندازوں میں اضافہ کیا ہے یا ان میں ترمیم کی ہے۔ دیگر کمپنیوں کے مینجمنٹ نے بھی کہا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے مستقبل میں اچھی ترقی کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بیڈمنٹن اسٹار سائنا نہوال کا بین الاقوامی کھیل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

بینکنگ سیکٹر کی بات کریں تو انڈین  ریزرو بینک (آر بی آئی) کے بعض فیصلوں، جیسے پرائرٹی سیکٹر لینڈنگ اور زراعت سے متعلق قرض میں تبدیلیوں کا اثر بینکوں کی کمائی پر پڑا ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اثر عارضی ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، نان بینکنگ فنانس کمپنیاں (این بی ایف سی)، آٹو کمپنیاں اور نان فیرس میٹل کمپنیاں اس رزلٹ سیزن میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کیا ’’کافی وِد کرن‘‘ لانچ کرنے کیلئے سیمی گریوال کا ٹاک شو بند کیا گیا؟ سوشل میڈیا پر بحث

اب تک جن کمپنیوں نے اپنے سہ ماہی نتائج جاری کیے ہیں، ان میں ٹی سی ایس، انفوسس، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز، ٹیک مہندرا، وپرو، ایچ ڈی ایف سی بینک اور آئی سی آئی سی آئی بینک شامل ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۲۰۲۶ء  ہندوستان  کے لیے ایک ’’گولڈی لاکس ایئر‘‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دوران بہتر اقتصادی ترقی، شرح سود میں کمی، روپے میں استحکام اور عالمی خطرات میں کمی سے شیئر بازار کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر میٹلز، بینکنگ و فنانس، کیپٹل گڈز اور ڈیفنس سیکٹر میں تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ایچ ڈی ایف سی سیکورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءمیں نفٹی کی کمائی تقریباً ۱۶؍ فیصد بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ میں ۲۰۲۶ء کے لیے تقریباً ۱۱؍ فیصد ریٹرن کی توقع ظاہر کی گئی ہے اور سال کے اختتام تک نفٹی کا ہدف ۲۸۷۲۰؍پوائنٹس  بتایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK