غزہ کے حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران ۳؍ ہزار افراد جبری طور پر غائب کردئے گئے ہیں، فلسطینی مرکز کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ ان ۴؍ سے ۵؍ ہزار افراد سے الگ ہے جو ملبے تلے دبے ہوئے سمجھے جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 10:03 PM IST | Gaza
غزہ کے حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران ۳؍ ہزار افراد جبری طور پر غائب کردئے گئے ہیں، فلسطینی مرکز کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ ان ۴؍ سے ۵؍ ہزار افراد سے الگ ہے جو ملبے تلے دبے ہوئے سمجھے جاتے ہیں۔
ایک فلسطینی حقوق گروپ نے سنیچر کو، جبری گمشدگی کے متاثرین کے عالمی دن سے ایک روز قبل، کہا کہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اسرائیل کی جنگ کے دوران غزہ میں۲۵۰۰؍ سے۳۰۰۰؍ افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔فلسطینی مرکز برائے گمشدہ اور جبری طور پر گم کیے گئے افراد نے یہ تخمینہ ۳۱۷؍معاملات کے نمونے پر مبنی تجزیاتی مطالعے کی بنیاد پر جاری کیا، اور کہا کہ نتائج ایسے اشارے ظاہر کرتے ہیں جو غزہ میں جبری گمشدگی کے وسیع تر نمونے کے امکان کی تحقیقات کا جواز فراہم کرتے ہیں۔مرکز نے کہا کہ اس کا مطالعہ گمشدہ افراد کے اہل خانہ کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ اور دستاویز کیے گئے معاملات پر مبنی تھا، اور یہ غزہ میں گمشدہ یا جبری گم کیے گئے تمام افراد کے معاملات کی نمائندگی نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن قرار دے کرسیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘
بعد ازاں جانچے گئے ۳۱۷؍ معاملات میں سے۳۰۲؍ مرد تھے جبکہ۱۵؍ خواتین تھیں۔ اس نمونے میں۴۱؍ بچے اور۱۷؍ ایسے افراد شامل تھے جن کی عمریں۶۰؍سال یا اس سے زیادہ تھیں۔ جبکہ غزہ شہر میں سب سے زیادہ۸۹؍ معاملات درج کیے گئے، اس کے بعد شمالی غزہ میں۷۴ء، خان یونس میں۵۹؍، وسطی غزہ میں۳۷؍ اور رفح میں۳۲؍معاملات درج ہوئے۔گمشدگی کے حالات کے حوالے سے،۷۶؍ معاملات اسرائیلی فوجی چھاپوں یا محلوں کے محاصرے کے دوران پیش آئے، جبکہ ۶۰؍ معاملات اس وقت ہوئے جب افراد اپنے گھروں کو واپس جانے یا ضروری سامان لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ مزید ۴۲؍ معاملات نقل مکانی یا فوجی چیک پوسٹس سے گزرتے ہوئے درج کیے گئے، اور۳۹؍ معاملات اس وقت ہوئے جب لوگ خوراک کی تلاش میں تھے یا امداد کا انتظار کر رہے تھے۔
علاوہ ازیں مرکز نے صحت کی سہولیات کے محاصرے یا دھاوا بولنے یا مریضوں کی منتقلی سے منسلک ۲۲؍ معاملات اور صحافتی یا فیلڈ ورک سے متعلق ۱۰؍ معاملات بھی دستاویز کیے۔ مزید برآں علیحدہ طور پر، تنظیم نے اندازہ لگایا کہ۴۰۰۰؍ سے ۵۰۰۰؍ افراد لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور زور دیا کہ ان معاملات کو مشتبہ جبری گمشدگیوں کے ساتھ مخلوط نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ہزاروں مریض فوری طبی منتقلی کے منتظر، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا اظہار تشویش
واضح رہے کہ اپریل میں، فلسطینی وزارت انصاف نے کہا تھا کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک ۱۱۲۰۰؍سے زیادہ فلسطینیوں کے لاپتہ یا جبری گمشدگی کی اطلاع دی گئی ہے، جن میں۴۷۰۰؍ سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ جبری گمشدگی کی تعریف ریاستی حکام یا ان کے اختیار، حمایت یا رضامندی سے کام کرنے والے عناصر کی طرف سے کسی شخص کی گرفتاری، حراست یا اغوا کے طور پر کرتا ہے، جس کے بعد آزادی سے محرومی کو تسلیم کرنے یا شخص کے ٹھکانے یا انجام کو ظاہر کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔مرکز نے مطالبہ کیا کہ تمام گمشدہ افراد کے انجام کو ظاہر کیا جائے، بین الاقوامی کمیٹی برائےریڈ کراس کو قیدیوں تک رسائی دی جائے، اور جبری گمشدگی کے معاملات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی طریقہ کار قائم کیا جائے۔ یاد رہے کہ امریکی حمایت کے ساتھ، اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ کے خلاف اپنی جنگ شروع کی، جس میں۷۳؍ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے اور۱۷۴۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔