Updated: August 31, 2026, 5:58 PM IST
| Toronto
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ باہر سے آنے والوں کو پناہ دی ہے، حتیٰ کہ انہیں بھی جو ”حملہ آور“ بن کر آئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندو تمام مذاہب کا احترام اور انہیں قبول کرتے ہیں، جس کی بدولت ایسے گروہ آج ہندوستان میں ”پھل پھول“ رہے ہیں۔ ہندوستان بدستور مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں کا گھر ہے۔
کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ باہر سے آنے والوں کو پناہ دی ہے، حتیٰ کہ انہیں بھی جو ”حملہ آور“ بن کر آئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندو تمام مذاہب کا احترام اور انہیں قبول کرتے ہیں، جس کی بدولت ایسے گروہ آج ہندوستان میں ”پھل پھول“ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان بدستور مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں کا گھر ہے۔
بھاگوت نے ٹورنٹو میں ایک پروگرام میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ”بہت سے لوگ باہر سے ہندوستان میں حملہ آور بن کر آئے، لیکن وہ اب بھی وہاں اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ پھل پھول رہے ہیں۔ وہ اب ہندوستانی شہری ہیں۔ مسلمان وہاں ہیں، عیسائی وہاں ہیں۔ یہودی قلیل تعداد میں موجود ہیں کیونکہ بہت سے لوگ اسرائیل ہجرت کر گئے۔ پارسی وہاں ہیں۔ بہت سے لوگ پناہ کیلئے ہندوستان آتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی طور پر ہندوستان نے دنیا بھر کے مظلوم لوگوں کو پناہ دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم دکاندار کی حمایت، دیپک کمار کے خلاف ایف آئی آر پر سپریم کورٹ کی روک
’ہندو وشو بندھو - دوستی میں دنیا کو گلے لگائیں‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، بھاگوت نے عالمی سطح پر ہندوستان کی ترقی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ملک ”مہا شکتی“ یا سپر پاور بننے کے بجائے خدمت کے ذریعے ”وشو گرو“ بنا۔ انہوں نے کہا کہ ”اگرچہ مادی دنیا میں افراد جسم، ساخت اور رنگ و روپ میں مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم سب ایک ہیں۔ اس لئے دوسروں کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔“
بھاگوت نے دلیل دی کہ ہندوستان کا تنوع اس کے اتحاد کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ یہ اس کا اظہار ہے۔ انہوں نے ”اگر ہندو جاگتے ہیں، تو دنیا جاگتی ہے“ قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ ہماری روایت ہے، ہندوستان کا ڈی این اے... تنوع بذاتِ خود اتحاد کی ایک شکل ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ’’ بیرون ِ ملک سمجھداری کی باتیں اور ملک میں خاموشی‘‘
اس سے قبل امریکہ میں، بھاگوت نے سنیچر کے روز نیویارک میں ایک بین المذاہب مکالمے کے دوران مسلمانوں کے بارے میں آر ایس ایس کے موقف سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”اگر آپ خود کو ہندو کہنا چاہتے ہیں، تو آپ کو یہ ماننا ہوگا کہ تمام راستے ایک ہی (منزل کی) طرف جاتے ہیں۔ اور ہر انسان کی عزتِ نفس ہے۔ انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔“