• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس کا یوکرین پر میزائیل حملہ، زیلنسکی ۲۵؍ فیصد علاقے سے دستبرداری پر آمادہ

Updated: October 23, 2026, 5:03 PM IST | Kyiv

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی دباؤ کے درمیان موجودہ محاذِ جنگ برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ روس نے کیف اور دیگر علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جن میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب، روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

Zelenskyy and Putin. Photo: INN
زیلنسکی اور پوتن۔ تصویر: آئی این این

امریکی دباؤ کے درمیان یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کیلئے موجودہ محاذِ جنگ برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس تجویز کے تحت روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقے فی الحال اسی کے کنٹرول میں رہیں گے، جن کا مجموعی رقبہ یوکرین کے تقریباً ۲۵؍ فیصد حصے کے برابر بتایا گیا ہے۔ اس دوران روس نے رات بھر یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ یہ حملے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ’’انسان دوست‘‘ قرار دینے کے چند گھنٹوں بعد ہوئے۔ زیلنسکی کے مطابق کیف پر بیلسٹک میزائلوں کی تین لہروں میں حملے کیے گئے، جن میں کم از کم دو افراد ہلاک اور ۳۴؍ زخمی ہوئے۔ رہائشی عمارتوں، توانائی کی تنصیبات، ریلوے اسٹیشنوں، شاپنگ مالز اور ایک خانقاہ کو نقصان پہنچا۔ میٹرو کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آنگ سان سوچی کی پانچ سال سے زائد عرصے بعد بیٹے سے پہلی بار فون پر گفتگو

خارکیف میں روسی حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ۱۵؍ زخمی ہوئے، جبکہ سومی کے ۲۶؍ آبادی والے علاقوں پر تقریباً ۶۰؍ ڈرون حملوں میں ایک شہری ہلاک ہوگیا۔ زاپوریزیا، دونیتسک اور چرنیہیو میں بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ یوکرین کے مطابق گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران روسی حملوں میں کم از کم نو افراد مارے گئے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے اسکندر-ایم بیلسٹک میزائل، ایس-۴۰۰ فضائی دفاعی نظام اور اونکس کروز میزائل استعمال کیے۔ اونکس ۸۰۰؍ کلومیٹر تک مار کرنے اور روایتی یا جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس نے زیرکون ہائپرسونک میزائل بھی استعمال کیا، جو جوہری وارہیڈ لے جاسکتا ہے اور اب زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ یوکرین نے دعویٰ کیا کہ روس کے داغے گئے ۲۱۰؍ ڈرونز میں سے ۱۸۱؍ کو مار گرایا گیا۔

دوسری جانب، ماسکو کے میئر نے یوکرین پر روسی دارالحکومت کی جانب ۶۳۰؍ ڈرون داغنے کا الزام لگایا۔ ان میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا، تاہم دو افراد زخمی ہوئے۔ ان حملوں سے چند گھنٹے قبل پوتن نے روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اصولی رضامندی ظاہر کی تھی۔ کریملن کے مطابق یہ مذاکرات ۱۰؍ نومبر یا اس کے بعد ابوظہبی میں ہوسکتے ہیں، جہاں جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور یوکرین کی سلامتی یقینی بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ، اسرائیل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار: رپورٹ

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن سے ملاقات کرکے جنگ کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ وٹکوف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، امریکہ کو ڈیزل فروخت کرنے کے پوتن کے فیصلے پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے ریٹائرڈ امریکی استاد اسٹیفن ہبارڈ کی رہائی پر بھی پوتن کی تعریف کی۔ ۷۴؍ سالہ ہبارڈ کو ۲۰۲۴ء میں مبینہ طور پر یوکرین کی جانب سے لڑنے کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ رہائی کے بعد وہ ٹیکساس واپس چلے گئے۔

روس نے تازہ امن تجاویز کو زیادہ مؤثر قرار نہیں دیا، جبکہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کا خاتمہ پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ زیلنسکی نے بھی امریکہ اور روس کے ساتھ جلد مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کی، تاہم کیف کے شہری جنگ کے فوری خاتمے کے بارے میں پُرامید نہیں ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ روس پر پابندیاں نرم کرنے اور جنگ بندی کیلئے رعایتیں دینے کی کوششوں کو ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ پوتن نے بھی وٹکوف سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ روس کے خصوصی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی ایشیا کا بحران حل کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK