• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرین لینڈ تنازع:تیسری عالمی جنگ آرکٹک میں ہوسکتی ہے: روس؛ گرین لینڈ کی وزیر لائیو انٹرویومیں آبدیدہ

Updated: January 16, 2026, 9:03 PM IST | Copenhagen/Moscow/Nuuk/Washington

’دی گارجین‘ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کی گرین لینڈ حاصل کرنے میں دیرینہ دلچسپی مبینہ طور پر ان کے ارب پتی دوست رونالڈ لاؤڈر کے مشورے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

گرین لینڈ کو ’حاصل‘ کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان روس نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک میں واقع اس جزیرے پر قبضہ کرنے کے کسی بھی امریکی اقدام سے عالمی سلامتی غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور دنیا ایٹمی تصادم کے خطرے کی طرف دھکیلی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف، یورپی لیڈران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کیلئے گرین لینڈ کو ’’حاصل‘‘ کرنے کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ 

پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونالڈ ٹسک نے کہا کہ ایک نیٹو رکن کی جانب سے دوسرے رکن کے علاقے پر قبضے کی کوشش سے شروع ہونے والا تنازع تباہ کن ثابت ہوگا۔ اس صورتحال کو ممکنہ ’’سیاسی آفت‘‘ قرار دیتے ہوئے ٹسک نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی بھی امریکی اقدام مغربی اتحاد کی بنیادوں کو ختم کردے گا اور اس سے اس دنیا کا خاتمہ ہو سکتا ہے ’’جسے ہم آج جانتے ہیں‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولینڈ گرین لینڈ میں فوج نہیں بھیجے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ نیٹو شراکت داروں کے درمیان کوئی بھی فوجی جارحیت عالمی استحکام کو چکنا چور کر دے گی۔ ڈنمارک نے بھی متنبہ کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملے کا مطلب عملی طور پر نیٹو کے اتحاد کا خاتمہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر ’حقِ خودارادیت‘ کے غلط استعمال پر ہندوستان کی پاکستان کو وارننگ

دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق فرانس اور جرمنی کے دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ ناروے اور سویڈن سے بھی فوجی اہلکاروں کی آمد متوقع ہے، کیونکہ یورپی ممالک آرکٹک میں سیکوریٹی کو مضبوط بنانے کیلئے ڈنمارک کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں شامل ہو رہے ہیں۔

بڑھتی ہوئی یورپی مخالفت کے باوجود، وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ یورپی افواج کی موجودگی ٹرمپ کے منصوبوں پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’اس سے گرین لینڈ کے حصول کے ٹرمپ کے مقصد پر بالکل فرق نہیں پڑے گا۔‘‘ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے اس خیال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’روس یوکرین تنازع ختم نہ ہونے کیلئے پوتن سے کہیں زیادہ زیلنسکی ذمہ دار‘‘

روس کا انتباہ: آرکٹک تیسری عالمی جنگ کا میدان بن سکتا ہے

روس کے سابق نائب وزیرِ دفاع دمتری روگوزین نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اسٹریٹیجک برتری کیلئے گرین لینڈ کو حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے منصوبے میں جزیرے پر ایٹمی حملے کی صلاحیتوں کی تعیناتی اور ٹرمپ کے ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل ڈیفنس نظام کی تعمیر شامل ہے۔ روگوزین نے خبردار کیا کہ گرین لینڈ کا جغرافیہ واشنگٹن کو روس اور چین پر برتری دے گا، جس سے اسٹریٹجک استحکام درہم برہم ہو جائے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ آرکٹک کا خطہ ایٹمی ہتھیاروں کیلئے تیز ترین راستہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے روس کے سرمت (’’شیطان-۲‘‘) میزائل کا تذکرہ کرتے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اس کے اصل تجربہ کی رپورٹ لکھنے کیلئے کوئی نہیں بچے گا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی محاصرے میں غزہ کیلئے ٹرمپ کی نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کی حمایت

گرین لینڈ کی وزیرِ خارجہ لائیو ٹی وی پر آبدیدہ

گرین لینڈ کی وزیرِ خارجہ ویوین موٹزفیلڈ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران جذباتی ہوگئیں۔ وہ گرین لینڈ اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بارے میں گفتگو کررہی تھی جو ناکام ہوگئے ہیں۔ ڈنمارک کے حکام نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ’’بنیادی اختلاف‘‘ کا حوالہ دیا ہے۔ مذاکرات کے متعلق بات کرتے ہوئے موٹزفیلڈ نے کہا کہ بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے گرین لینڈ کی چھوٹی سفارتی ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ ’’گزشتہ چند دن بہت مشکل رہے ہیں... بڑھتا ہوا دباؤ بہت شدید رہا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ گرین لینڈ کے باشندے خود کو محفوظ محسوس کریں۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی وزیرخارجہ کی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر گفتگو

ٹرمپ کو گرین لینڈ حاصل کرنے کا مشورہ ان کے ارب پتی دوست نے مشورہ دیا تھا: رپورٹ

’دی گارجین‘ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کی گرین لینڈ حاصل کرنے میں دیرینہ دلچسپی مبینہ طور پر ان کے ارب پتی دوست رونالڈ لاؤڈر (Ronald Lauder) کے ایک مشورے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ خیال سب سے پہلے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران پیش کرتے ہوئے عوامی سطح پر ڈنمارک سے گرین لینڈ ’’خریدنے‘‘ کے امکان کا اظہار کیا تھا۔ اس تجویز نے یورپی اتحادیوں کو حیران کر دیا تھا اور ڈنمارک و گرین لینڈ کے لیڈران نے اسے یکسر مسترد کر دیا تھا۔

سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے بتایا کہ ٹرمپ نے انہیں کہا تھا کہ ایک نامور کاروباری شخصیت نے اس خریداری کی تجویز دی ہے۔ بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس میں اس شخصیت کی شناخت رونالڈ لاؤڈر کے طور پر ہوئی، جو ٹرمپ کے پرانے ساتھی ہیں اور آرکٹک خطے سے ان کے کاروباری مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ماضی میں تصادم کے باوجود ٹرمپ اور نیویارک میئر ظہران ممدانی کے درمیان نجی پیغامات کا تبادلہ: رپورٹ

رپورٹس کے مطابق، اس گفتگو کے بعد وہائٹ ہاؤس کی ایک ٹیم نے گرین لینڈ میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے طریقوں پر غور شروع کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت میں اس تجویز کو مزید جارحانہ انداز میں دوبارہ زندہ کیا ہے اور اسے ایک بار پھر قومی سلامتی کی ترجیح کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK