• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روسی صدر پوتن کی ایلون مسک کی خلائی عزائم کی تعریف ، انہیں ذہین قرار دیا

Updated: October 30, 2026, 11:06 AM IST | Mascow

روسی صدر پوتن نے مسک کی تعریف کرتے ہوئے انہیں انتہائی ذہین شخص قراردیا، جبکہ ماسکو اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک بنانے پر کام کر رہا ہے۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN
روسی صدر ولادیمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

صدر ولادیمیرپوتن نے بدھ کو کہاامریکی ٹیک ٹائکون ایلون مسک واقعی ایک ذہین شخصہیں کہ انہوں نے ہزاروں سیٹلائٹس مدار میں بھیجے ہیں، جبکہ ماسکو اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ ایلون مسک امریکی ٹیک کمپنی SpaceX کے مالک ہیں، جو ناسا کے لیے راکٹ لانچ کرتی ہے اور اسٹار لنک کمیونیکیشن نیٹ ورک چلاتی ہے۔ روس، جو ایک خلائی طاقت ہے، طویل عرصے سے شہری اور فوجی دونوں استعمال کے لیے اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کنسٹیلیشن تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پوتن کے تبصرے یوکرین اور امریکہ کے درمیان اسٹار شیلڈ تک رسائی پر تنازع کے درمیان آئے ہیں، جو مسک کی SpaceX سے چلنے والا ملٹری گریڈ سیٹلائٹ نیٹ ورک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں مثبت پیش رفت کی اُمید

ماسکو میں روس-افریقہ سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک نمائش کے دورے کے دوران پوتن نے مسک کو ذہین کہا۔ انہوں نے مزید کہا’’اس کے مدار میں کتنے یونٹس ہیں، ۵۰۰۰؍ سے زیادہ۔ اور ہم اپنا پہلا قدم اٹھا رہے ہیں ۔ہم اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں، بشمول مسک، کیونکہ مدار میں ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرنا بہت ضروری ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا وینزویلا کو امریکہ کی۵۱؍ویں ریاست بنانے کا دعویٰ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان امریکہ-روس ڈیزل ڈیل پر جھگڑے کے بعدیوکرین نے اس ماہ اسٹار شیلڈ استعمال کرنے میں مسائل کی اطلاع دینا شروع کی۔تاہم ٹرمپ اور مسک دونوں نے بندش کے ذمہ دار ہونے سے انکار کیا، حالانکہ مسک نے بعد میں یوکرین پر فوجی مقاصد کے لیے SpaceX کی اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ بندش نے روسی ڈرونز کو روکنے کی اس کی کوششوں کو مایوس کیا ہے اور فرنٹ لائن پر اس کی لاجسٹکس کو سست کر دیا ہے، جبکہ یوکرین-روس تنازع اپنے پانچویں سال میں داخل ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK