Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس اور امریکہ بڑی جوہری طاقتوں کی حیثیت سے عالمی سلامتی کے مشترکہ ذمہ دار: پوتن

Updated: July 04, 2026, 10:38 PM IST | Kremlin

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بیان میں کہا کہ روس اور امریکہ سب سے بڑی جوہری طاقتوں کی حیثیت سے عالمی سلامتی کے مشترکہ ذمہ دار ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ ماسکو اور واشنگٹن دونوں عالمی جنگوں میں اتحادی رہے ہیں۔

Vladimir Putin and Donald Trump during a meeting. Photo: INN
ولادیمیر پوتن اور ڈونالڈ ٹرمپ ایک ملاقات کے دوران ۔ تصویر: آئی این این

کریملن کے مطابق، امریکی صدر ڈوانلڈ ٹرمپ کو امریکی آزادی کی ۲۵۰؍ ویں سالگرہ کے موقع پر بھیجے گئے ایک پیغام میں روس سے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ’’ آزادی کے اعلامیے پر دستخط نے نہ صرف ریاستہائے متحدہ کی پیدائش کی نشاندہی کی بلکہ عالمی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل بھی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ روس نے برطانوی حکمرانی سے آزادی کی جدوجہد میں شمالی امریکی نوآبادیات کی غیر مشروط حمایت کی۔ ‘‘اور یاد دلایا کہ ماسکو اور واشنگٹن دونوں عالمی جنگوں میں اتحادی رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی اداروں کے اسرائیل سے اربوں یورو کے معاہدوں کا انکشاف

مزید برآں پوتن نے کہا، ’’ہم دو عالمی جنگوں میں اتحادی تھے، ہم نے مل کر انسانیت کو نازی ازم کے خوفناک ظلم سے نجات دلائی، اور پھر جدید عالمی نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور آج، روس اور امریکہ دو سب سے بڑی جوہری طاقتوں کے طور پر عالمی سطح پر سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے خصوصی ذمہ دار ہیں۔‘‘پوٹن نے کہا کہ’’ انہیں یقین ہے کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعمیری، مساوی اور باہمی فائدہ مندتعلقات دونوں ممالک اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے مفادات کی خدمت کریں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ۳۸؍ بار ایک ہی جنگ ختم کرنے پر ٹرمپ نوبیل امن انعام کے مستحق: ہنٹر بائیڈن کا طنز

واضح رہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا میں امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ روس نے اپنا وقار کسی حد تک بحال کرنے میں کامیابی حاصل کرلی، حالانکہ امریکہ نے روس پر متعدد بین الاقوامی پابندیاں عائد کی ہیں، جس میں عالمی بازار میں روسی تیل کی فروخت پر پابندی بھی ہے۔بعد ازاں پوتن کی قیادت میں روس چاہتا ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں اس کا بھی  عمل دخل بڑھے، تاکہ امریکہ یک طرفہ طور پر عالمی فیصلوں پر اثر انداز نہ ہوسکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK