روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کبھی جنگ بندی کا حکم جاری نہیں کیا، اور اس اعلان کو خونی پی آرقرار دیا۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 5:04 PM IST | Moscow
روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کبھی جنگ بندی کا حکم جاری نہیں کیا، اور اس اعلان کو خونی پی آرقرار دیا۔
ماسکو میں پریس بریفنگ میں روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ زیلنسکی کے ۵؍ تا ۶؍مئی کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے بعد کوئی آپریشنل ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔جہاں تک ہمیں معلوم ہے، انہوں نے جنگ بندی کا کوئی حکم ہی جاری نہیں کیا۔ یہ سب خونی پی آر ہے۔‘‘ زاخارووا نے یہ بھی کہا کہ روس کی طرف سے ۸؍ تا ۹؍مئی کے لیے جنگ بندی کی تجویز، جسے ان کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے۲۹؍ اپریل کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون کال کے دوران حمایت دی تھی، نے یوکرین میں اعصابی ردعمل پیدا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران -امریکہ امن معاہدہ کی قوی اُمید
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ زیلنسکی نے بعد میں اس تجویز کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی اور ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں یوم فتح کی پریڈ پر ممکنہ ڈرون حملوں کا اشارہ دیا۔تاہم ماریا نے کہا کہ زیلینسکی کے بیانات کو یورپی لیڈروں کی خاموش رضامندی حاصل ہے، جو ان لیڈران کی خصوصیات ہیں،یہ اپنی منافقت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن اب کوئی گنجائش باقی نہیں۔اس کے علاوہ زاخارووا نے یوکرین کے اعلان کردہ جنگ بندی کے دوران ٹاس کے صحافی الیگزینڈر پولی جینکو پر ہونے والے مبینہ حملے کا بھی حوالہ دیا جس کو انہوں نے ’’منافقت‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے امریکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے
بعد ازاں زاخارووا نے خبردار کیا کہ ماسکو کسی بھی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دے گا۔ انہوں نے آسٹریا کے روسی سفارت کاروں کو نکالنے پر کہا کہ ماسکو ویانا کے خلاف سخت اور تکلیف دہ اقدامات کرے گا۔آرمینیا میں زیلنسکی کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے زاخارووا نے کہا کہ اس سے روس میں `شدید غم و غصہ پیدا ہوا ہے اور دعویٰ کیا کہ ماسکو یاد رکھے گا کہ یریوان نے ایک ایسے پلیٹ فارم کی میزبانی کی جہاں روس کے خلاف دھمکیاں دی گئیں۔