قطر کے سفارت خانے کو بھی نقصان، سعودی اور قطر نے افسوس کا اظہار کیا، دونوں ممالک کا گفتگو کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈنے پر زور۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 11:29 AM IST | Mascow
قطر کے سفارت خانے کو بھی نقصان، سعودی اور قطر نے افسوس کا اظہار کیا، دونوں ممالک کا گفتگو کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈنے پر زور۔
یوکرین جنگ کے تناظر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوکرین پر اوریشنک ہائپرسونک میزائل داغ دیئے ہیں۔ اس کی وجہ سے یوکرین میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ ایک عالمی نیوز ایجنسی کے مطابق اس اقدام کا مقصد یوکرین کو دباؤ میں لانے کے ساتھ ساتھ یورپ اور امریکہ کو واضح پیغام دینا ہے کہ روس کی فوجی طاقت کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: مینیسوٹا: آئی سی ای ایجنٹ کے ذریعے خاتون کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے
روسی صدر پوتن کی جانب سے اوریشنک ہائپرسونک میزائل کا حالیہ استعمال یوکرین اور مغربی ممالک کیلئے ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ روس نے اس میزائل کو پہلی بار نومبر ۲۰۲۴ء میں یوکرین کے خلاف استعمال کیا تھا، جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب یہ میزائل استعمال کئے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ میزائل داغنا دراصل امریکہ اور یورپی ممالک کو روسی فوجی طاقت کا پیغام دینا ہے۔ روس یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ روس کے فوجی اثاثوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور یورپ و امریکہ مذاکرات میں روس کے مؤقف کا احترام کریں۔ واضح رہے کہ اوریشنک میزائل جوہری اور روایتی دونوں طرح کے وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم حالیہ حملے میں جوہری ہتھیار کو استعمال نہیں کیا گیا۔ اس حملے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حملوں کو فوری طور پر روکنے اور گفتگو کے ذریعے حل ڈھونڈے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اگر ہم نے نہیں کیا تو روس یا چین، گرین لینڈ پر قبضہ کرلیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ
قطر کے سفار خانے کو نقصان
اس دوران اطلاع ملی ہے کہ روسی حملے میں یوکرین میں واقع قطر کے سفارتخانےکو نقصان پہنچا ہے۔ اطلاع کے مطابق یوکرین کی راجدھانی کیف میں بمباری کے دوران قطر کے سفارتخانے کی عمارت بھی زد میں آ گئی۔ حالانکہ اب تک کسی کی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے لیکن سعودی عرب نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرکے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت اس امر پر زور دیتی ہے کہ ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے مطابق سفارتی مشن کے ارکان اور ان کی عمارتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب نے روسی یوکرینی بحران کے پُر امن حل کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کے اپنے موقف کی تجدید کی ہے۔ اس سے قبل قطر نے بھی جمعہ کی شب بم باری کے نتیجے میں یوکرین میں اپنے سفارت خانے کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا، تاہم اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ کسی بھی سفارت کار یا سفارت خانے کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ قطری وزارت خارجہ نے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ سفارت خانوں، سفارتی مشن، بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر اور شہری تنصیبات کو بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جانا چاہئےاور بین الاقوامی قانون کے تحت ان سے وابستہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ وزارت نے روسی یوکرینی بحران کے حل کیلئے مکالمے اور پُر امن ذرائع کے ذریعے مسئلے کے حل کی حمایت پر قطر کے مستقل موقف کا اعادہ کیا۔ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور کشیدگی میں کمی کیلئے تمام بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت کا بھی اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کو اگرانسانیت پر یقین ہے تو نیتن یاہو کواغوا کرے: پاکستانی وزیرخواجہ آصف
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ۴؍ سال سے جنگ جاری ہے۔ امن کی ساری کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔