• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مینیسوٹا: آئی سی ای ایجنٹ کے ذریعے خاتون کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے

Updated: January 10, 2026, 10:05 PM IST | Washington

مینیسوٹا میں آئی سی ای ایجنٹ کی جانب سے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے ہورہے ہیں، گلوکارہ بیلی آیلیش نے منیاپولس میں پیش آنے والی آئی سی ای فائرنگ کی مذمت کی ہے۔

Renee Nicole Good, a 37-year-old American woman and mother of three, was shot by an ICE officer. Photo: X
۳۷؍ سالہ امریکی خاتون اور تین بچوں کی ماں رینی نکول گڈ جسے آئی سی ای اہلکار نے گولی مار دی۔ تصویر: ایکس

 امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک اہلکار نے مینیسوٹا میں ایک ۳۷؍ سالہ امریکی خاتون اور تین بچوں کی ماں رینی نکول گڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے بعد  ملک بھر میں احتجاج پھیل گئے ہیں۔ممکنہ بے امنی کے خدشے کے پیش نظر مقامی حکام نے جمعرات اور جمعہ کے دن اسکول بند کر دیے ہیں۔نیویارک شہر میں، مظاہرین نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے باہر احتجاج کیا جہاں محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے سیکرٹری کرسٹی نوم پریس کانفرنس کر رہے تھے، اس سے چند گھنٹے قبل مظاہرین نے بدھ کی شام قریب ہی فولی اسکوائر پر مارچ کیا تھا۔جمعرات کو مزید کئی شہروں میں اضافی احتجاجوں کی توقع ہے، بشمول واشنگٹن ڈی سی، نیویارک شہر، سیئٹل، لاس اینجلس اور شکاگو، نیز دیگر مقامات۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ گولی چلانا ایک دفاعی عمل تھا تاکہ خاتون کو اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے سے روکا جا سکے۔تاہم، گواہوں، ویڈیو فوٹیج اور منیاپولس کے میئر جیکب فری اور گورنر ٹِم والز کے بیان نے اس پر شکوک پیدا کر دیے ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ گڈ جان بوجھ کر اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کے بجائے فرار کی کوشش کر رہی تھیں۔سوشل میڈیا پر متعدد زاویوں سے لی گئی فوٹیج تیزی سے پھیل گئی۔جن میں اس واقعے کو قید کیا گیا۔ جس کے مطابق گولی باری کے بعد بھی اہلکاروں کی جانب سے رینی کو طبی امداد بہم پہنچانے سے انکار کیا گیا، جبکہ موقع پر ایک ڈاکٹر موجود تھا، جس نے رینی کی نبض دیکھنے کی اجازت مانگی تھی،لیکن اہلکاروں نے منع کردیا۔

دریں اثناء نائب صدر جے ڈی وینس نے گڈ پر الزام لگایا کہ وہ ایک وسیع تر بائیں بازو کے نیٹ ورک کا حصہ تھی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ رینی کا مقصد اہلکاروں کو اپنے کام سے روکنا تھا یعنی امیگریشن قوانین کو نافذ کرنے سے۔جبکہ اس ہلاکت پر اٹارنی جنرل پام بانڈی نے ایک الگ سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ پرامن احتجاج ایک مقدس امریکی حق ہے جو پہلی ترمیم کے تحت محفوظ ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے محکمہ پر سخت تنقید کی۔ بعد ازاں یو ایس اٹارنی آفس نے ایف بی آئی کو گولی باری کی تحقیقات کا واحد اختیار دے دیا۔
رینی کی ہلاکت کے خلاف متعدد عوامی شخصیات نے آواز بلند کی ہے۔گلوکارہ بیلی آیلیش تازہ ترین ہیں جنہوں نے آئی سی ای کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ گرامی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر فیڈرل قانون نافذ کرنے والے ادارے کو دہشت گرد گروپ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’آئی سی ای ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے کے تحت ایک فیڈرل فنڈڈ اور سپورٹڈ دہشت گرد گروپ ہے جس نے ہماری سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ وہ گھریلو دہشت گرد ہیں جو خاندانوں کو تباہ کر رہے ہیں، شہریوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں، اور اب معصوم لوگوں کا قتل کر رہے ہیں۔ بس بہت ہوگیا۔  بس بہت ہوگیا۔ بس بہت ہوگیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں، ممالک پر دباؤ ڈالنے کیلئے فوج استعمال کرنے کا فخر: ٹرمپ

انہوں نے ایک اور پیغام بھی دوبارہ پوسٹ کیا جس میں آئی سی ای کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ان۳۲؍ افراد کے ناموں کی فہرست دی گئی تھی جو گزشتہ سال ایجنسی کی تحویل میں انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے اپنے امریکیمداحوں  سے اپنے کانگریسی نمائندوں سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ادارے کو فنڈز بند کرنے اور فائرنگ کے ذمہ دار افسر کو گرفتار اور مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا جا سکے۔بیلی آیلیش واحد مشہور شخصیت نہیں ہیں جنہوں نے رینی نکول گڈ کے قتل پر آئی سی ای کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اداکارہ امانڈا سیفرائڈ نے منیاپولس کے میئر جیکب فری کا ایک کلپ شیئر کیا جس میں انہوں نے آئی سی ای سے کہا، ’’منیاپولس سے باہر نکل جاؤ۔‘‘
 مارول اسٹار سمو لیو نے ایکس پر پوسٹ میں کہا، ’’منیاپولس میں آئی سی ای ایجنٹس کے قاتلانہ اقدامات پر سخت افسوس ہے۔ یہ واضح طور پر ایک غیر مسلح عورت کا قتل دکھاتی ہے ۔‘‘ ساتھ ہی انہوںنے مطالبہ کیا کہ امیگریشن قوانین کو باوقار طریقے سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایوا لونگوریا نے بھی اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر فائرنگ کے بارے میں متعدد پوسٹس شیئر کیں، جن میں سے ایک پر لکھا تھا، ’’یہ قتل ہے، ‘‘اور دوسری جگہ انہوں نے لکھا، ’’شوٹر کو گرفتار کرو۔‘‘ مارک روفالو نے بھی بلیوا سکائی پر فائرنگ کے بارے میں متعدد پوسٹس دوبارہ شیئر کیں، جن میں سے ایک صحافی مولی جونگ فاسٹ کی تھی، جس پر لکھا تھا، ’’میرے خیال میں اب ہم جانتے ہیں کہ وہ اپنے چہرے کیوں ڈھانپتے ہیں۔‘‘آیو ایڈیبری نے اپنی انسٹاگرام سٹوری پر ایک تصویر شیئر کی جس میں گڈ کے گلوو کمپارٹمنٹ کی اشیا دکھائی گئی تھیں، جس میں بچوں کے کھلونے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی فوج کا قومی مفادات کے تحفظ کا عزم

واضح رہے کہ انتظامیہ نے اس سے قبل ریاست میں دستاویزات کے بغیر تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں تقریباً ۲۰۰۰؍ وفاقی اہلکاروں کو مینیسوٹا بھیجا تھا، خاص طور پر منیاپولس اور سینٹ پال کے جڑواں شہروں میں۔جس کے خلاف وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج کے درمیان منیاپولس کے میئر نے زور دے کر مطالبہ کیا کہ’’ آئی سی ای ان کے شہر سے باہر نکلیں۔‘‘ آئی سی ای کی موجودگی کے خلاف مینیسوٹا کے باشندوں، بشمول مقامی اہلکاروں، کا کہنا ہے کہ آئی سی ای اہلکار ریاست کو محفوظ بنانے کے بجائے زیادہ خطرناک بنا رہے ہیں، اور ان کے اہلکاروں کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK