سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی ۲۱؍ ہزار۲۲؍ خلاف ورزیاں درجکی گئی ہیں جبکہ۸؍ ہزار۵۱۱؍ غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 7:29 PM IST | Riyadh
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی ۲۱؍ ہزار۲۲؍ خلاف ورزیاں درجکی گئی ہیں جبکہ۸؍ ہزار۵۱۱؍ غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی ۲۱؍ ہزار۲۲؍ خلاف ورزیاں درجکی گئی ہیں جبکہ۸؍ ہزار۵۱۱؍ غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ایس پی اے کے مطابق۲۶؍ فروری سے ۴؍ مارچ۲۰۲۶ء کے درمیان مجموعی طور پر۱۵؍ ہزار۳۸؍ افراد کو اقامہ قانون،۳؍ ہزار۴۸۴؍ کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور دو ہزار۵۰۰؍ کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار۴۶۶؍ افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں ۶۷؍ فیصد ایتھوپین، ۳۲؍ فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ہندوستان کو روسی خام تیل کی فروخت کی ’اجازت‘ پر خاموشی توڑی
علاوہ ازیں۳۳؍ ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔اسکے علاوہ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث ۱۵؍ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر۲۱؍ ہزار۱۷۸؍ تارکین جس میں۱۹؍ ہزار ۶۶۵؍مرد اور ایک ہزار۵۱۳؍ خواتین شامل ہیں اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے عمل سے گزر رہے ہیں۔بعد ازاں ضوابط کی خلاف ورزیوں پر۱۴؍ ہزار۹۸۲؍ کو حراست میں لیا گیا۔انہیں سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے،۲؍ ہزار۱۸۷؍ کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ۸؍ ہزار۵۱۱؍ کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مالدیپ: اسرائیلی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے۱۵؍ برس قید اور۱۰؍ لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘