سعودی عرب کے ’’قومی مرکز برائے موسمیات‘‘ کے مطابق، سال۲۰۲۶ّ ء سے حج کے لیے ایک نیا موسمی مرحلہ شروع ہو گا، جس کی رو سے کہ اس سال کا حج ۲۵؍سالوں تک گرمیوں میں آنے والا آخری حج ہوگا۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 10:03 PM IST | Riyadh
سعودی عرب کے ’’قومی مرکز برائے موسمیات‘‘ کے مطابق، سال۲۰۲۶ّ ء سے حج کے لیے ایک نیا موسمی مرحلہ شروع ہو گا، جس کی رو سے کہ اس سال کا حج ۲۵؍سالوں تک گرمیوں میں آنے والا آخری حج ہوگا۔
سعودی عرب کے ’’قومی مرکز برائے موسمیات‘‘ کے مطابق، سال۲۰۲۶ّ حج کے لیے ایک نیا موسمی مرحلہ شروع کرے گا، جس کی رو سے کہ اس سال کا حج ۲۵؍سال تک گرمیوں میں آنے والا آخری حج ہوگا۔واضح رہے کہ۲۰۲۶ءسے شروع ہونے والے اگلے آٹھ حج موسم بہار میں ہوں گے، اس کے بعد آٹھ حج موسم سرما میں، پھر خزاں میں جب درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھے گا، اور تقریباً۲۵؍ سال بعد دوبارہ گرمیوں میں واپسی ہوگی۔تاہم سال۲۰۲۶ء کا حج۲۵؍ سے۳۰؍ مئی کے درمیان متوقع ہے، جو مکمل طور پر موسم بہار میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: خلیج کا مستقبل ’امریکی موجودگی کے بغیر‘ ہوگا: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں حجاج کرام مسجد الحرام اور اطراف کے مقدس مقامات پر۴۵؍ سے۴۷؍ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں حج کے ارکان ادا کر رہے تھے۔بعد ازاں یہ تبدیلی قمری ہجری کیلنڈر سے منسلک ہے، جو عیسوی سال سے تقریباً ۱۱؍ دن چھوٹا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہر حج کا موسم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۱۱؍ دن پہلے آتا ہے، اور تقریباً ۳۳؍ سال کے عرصے میں موسموں کا ایک چکر مکمل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیوزی لینڈ، کرائسٹ چرچ مسجد حملہ کیس: برینٹن ٹیرنٹ کی اپیل مسترد، عمر قید برقرار
دریں اثناء محکمہ نے ۲۵؍سالہ حج کیلنڈر جاری کیا ہے جس میں۲۰۵۰ء تک حج کی تاریخوں کا عیسوی موسموں سے موازنہ کیا گیا ہے، جس سے حاجیوں اور حکام کو پہلی بار طویل المدتی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔جبکہ موسم بہار میں منتقلی سے لاکھوں حاجیوں کو معتدل موسم میسر آئے گا۔ اس موسمی تبدیلی سے حج کی جسمانی مشقت میں کمی کی توقع ہے، خاص طور پر بوڑھوں اور صحت کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے، ساتھ ہی حاجیوں کے انتظام، رسد اور حفاظتی منصوبہ بندی میں بھی مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ اس تبدیلی کا مطلب ٹھنڈا موسم نہیں ہے۔ کیونکہ مئی کے آخر میں بھی مکہ میں گرمی رہتی ہے، لیکن یہ گرمی کے اس عروج کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابل برداشت ہوتی ہے، جب مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں درجہ حرارت اکثر۴۵؍درجہ سیلسیس سے تجاوز کر جاتا ہے۔تاہم آیندہ سال سے حج کادورانیہ بتدریج قدرے کم گرم ہوتا چلا جائے گا۔