Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: ۷۷؍ سال بعد مکمل سورج گرہن، ۶؍ منٹ تک دن میں اندھیرا ہوگا

Updated: July 28, 2026, 8:06 PM IST | Riyadh

سعودی عرب ۲؍ اگست ۲۰۲۷ء کو گزشتہ ۷۷؍ برس میں اپنا پہلا مکمل سورج گرہن (Total Solar Eclipse) دیکھے گا۔ یہ ۲۱؍ ویں صدی کے طویل ترین مکمل سورج گرہنوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے دوران مملکت کے بعض علاقوں میں تقریباً ۶؍  منٹ تک مکمل تاریکی چھا جائے گی۔ سعودی خلائی ایجنسی کے مطابق یہ غیر معمولی فلکیاتی واقعہ سائنس دانوں، فلکیات کے ماہرین اور دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک منفرد موقع ہوگا، جبکہ لاکھوں افراد اسے براہِ راست دیکھ سکیں گے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

سعودی عرب آئندہ سال ایک ایسے فلکیاتی منظر کا گواہ بننے جا رہا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ ۲؍ اگست ۲۰۲۷ء کو مملکت میں ۷۷؍ برس بعد پہلا مکمل سورج گرہن ہوگا، جس کے دوران مغربی اور جنوبی سعودی عرب کے کئی علاقوں میں دن کے وقت تقریباً چھ منٹ تک مکمل تاریکی چھا جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ ۲۱؍ ویں صدی کے طویل ترین مکمل سورج گرہنوں میں سے ایک ہوگا۔ سعودی خلائی ایجنسی کے مطابق ابہا (Abha) میں مکمل گرہن کی مدت تقریباً چھ منٹ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ جدہ اور مغربی ساحلی علاقوں میں تقریباً ۵؍ منٹ ۵۰؍  سیکنڈ تک سورج مکمل طور پر چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ مملکت کے دیگر علاقوں میں بھی جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا، جہاں بعض مقامات پر سورج کا ۸۰؍ فیصد تک حصہ چاند سے ڈھک جائے گا، اگرچہ اس کی شدت اور دورانیہ علاقے کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کا سعودی خام تیل ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سعودی عرب کو دنیا کے بہترین Eclipse Observation مقامات میں شامل کر دے گا، جہاں سائنس دان سورج کے بیرونی حصے کورونا (Corona) کا تفصیلی مطالعہ کر سکیں گے۔ مکمل گرہن کے دوران دن کا منظر عارضی طور پر شام جیسا محسوس ہوگا، درجہ حرارت میں واضح کمی آسکتی ہے، سورج کی روشن بیرونی فضا نمایاں نظر آئے گی، جبکہ بعض روشن ستارے اور سیارے بھی آسمان پر دکھائی دے سکتے ہیں۔ جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے صدر ماجد ابو زہرہ نے کہا کہ ’’مکمل گرہن کا راستہ بحیرۂ احمر کے ساحل سے شروع ہوگا اور مکہ، جدہ، طائف، الباحہ، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت درجنوں شہروں اور گورنریوں سے گزرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ مکمل گرہن کے دوران سورج کی کورونا کو ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکے گا، جو عام حالات میں سورج کی شدید روشنی کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتی۔ سعودی خلائی ایجنسی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ گرہن کو براہِ راست بغیر حفاظتی انتظامات کے نہ دیکھیں۔ ایجنسی نے زور دیا کہ صرف مصدقہ Eclipse Glasses یا خصوصی فلٹر شدہ مشاہداتی آلات استعمال کیے جائیں، کیونکہ مناسب تحفظ کے بغیر سورج کو دیکھنے سے آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں سول نافرمانی کی لہر، بجلی کی بندش اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے

ماہرین فلکیات کے مطابق ۲؍ اگست ۲۰۲۷ء کا یہ گرہن صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کا مکمل راستہ اسپین، جبرالٹر، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا، مصر، سعودی عرب، یمن اور بحرِ ہند کے بعض علاقوں سے بھی گزرے گا۔ گرہن کی زیادہ سے زیادہ مدت مصر میں تقریباً ۶؍ منٹ ۲۳؍ سیکنڈ ریکارڈ کی جائے گی، جبکہ سعودی عرب بھی دنیا کے بہترین مشاہداتی مقامات میں شمار ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک خوبصورت فلکیاتی منظر نہیں بلکہ ایک اہم سائنسی موقع بھی ہے۔ مکمل سورج گرہن کے دوران سورج کی بیرونی فضا، شمسی ہواؤں، مقناطیسی میدانوں اور دیگر فلکیاتی مظاہر کا ایسا مشاہدہ ممکن ہوتا ہے جو عام دنوں میں ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کے سائنس دان، فلکیات دان اور سیاح پہلے ہی اس تاریخی گرہن کی تیاری شروع کر چکے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں ہوٹلوں اور سفری پیکجوں کی بکنگ بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK