Inquilab Logo Happiest Places to Work

ساورکرگائے کی پوجا کے خلاف تھے، وہ اسے صرف جانور سمجھتے تھے: ساورکر کا پڑ بھتیجہ

Updated: August 06, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi

ساورکر کے پڑبھتیجے ستیاکی ساورکرنے عدالت میں دئے ایک بیا ن میں کہا کہ ساورکر گائے کی پوجا کے خلاف تھے، وہ اسے صرف جانور سمجھتے تھے،انہوں نے جانور کے گوبر اور پیشاب کو مقدس اشیاء قرار دینے اور انہیں استعمال کرنے کی روایت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

Hindutva ideologue Vinayak Damodar Savarkar. Photo: INN
ہندوتوا نظریہ دان ونایک دامودر ساورکر۔ تصویر: آئی این این

ہندوتوا نظریہ دان ونایک دامودر ساورکر گائے کو صرف ایک جانور سمجھتے تھے اور اس کی پوجا کے خیال کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے، یہ بات ان کے پڑبھتیجے ستیاکی ساورکر نے منگل کو پونے کی ایک عدالت میں تسلیم کی۔ ساورکر کا ماننا تھا کہ’’ کسی جانور کو دیوتا سمجھنا نہ صرف انسانیت بلکہ الوہیت کے تصور کے لیے بھی توہین ہے‘‘، ان کے پڑبھتیجے ستیاکی ساورکر نے کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے خلاف جاری مجرمانہ توہین عدالت کے مقدمے میں خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت کے سامنے اپنی جرح کے دوران یہ بات کہی۔جرح کے دوران، گاندھی کے وکیل نے ایک کتاب پیش کی جس کا عنوان تھا ’’ویگیان نشٹھا نِبندھ‘‘ یا ’’سائنسی استدلال پر مبنی مضامین۔ 

یہ بھی پڑھئے: عتیق احمد کے چھوٹے بیٹے ابان احمد کی جھانسی میں سڑک حادثے میں موت

بعد ازاں ستیاکی ساورکر نے تسلیم کیا کہ یہ کتاب ان کے پڑ چچا نے لکھی تھی۔ستیاکی ساورکر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہندوتوا لیڈرنے لکھا تھا کہ گائے انسانوں کے لیے اسی طرح مفید ہے جیسے کتا، گھوڑا یا گدھا، اور ان جانوروں کی طرح اس کی حفاظت کی جانی چاہیے، نہ کہ پوجا۔وی ڈی ساورکر نے لکھا تھا،’’جانور دیوتا بن جاتا ہے، جبکہ دیوتا صفت انسان کو جانور سمجھا جاتا ہے۔ اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ مذہب کے دباؤ میں کس طرح محض عدم مطابقت، غیر معقولیت اور حماقت کو حکمت، فضیلت اور تقدس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور خود انسانی عقل کو کس طرح تباہ کر دیا جاتا ہے؟ راہل گاندھی کے وکیل نے کتاب کے مزید  ایک حصے کا حوالہ دیا جس میں ساورکر نے لکھا کہ جب گائے مفید نہ رہے اور کچھ حالات میں نقصان دہ ہو جائے، تو اسے ذبح کرنا ضروری ہو گا۔
اپنی کتاب میں ساورکر نے یہ بھی استدلال کیا کہ اگرچہ گائے کو استعاراتی طور پر ’’گؤماتا‘‘ کہا جا سکتا ہے، لیکن اس اظہار کو لفظی معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے گائے کے گوبر اور پیشاب کو مقدس مادے سمجھنے اور انہیں استعمال کرنے کی روایت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہنگولی: گئو ہتیا کے الزام پر نائب صدر بلدیہ عمران علی کو استعفیٰ دینا پڑا

واضح رہے کہ یہ مقدمہ ایک شکایت سے جنم لیا ہے جو ستیاکی ساورکر نے اپریل ۲۰۲۳ء میں گاندھی کے خلاف دائر کی تھی، جس میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مارچ ۲۰۲۳ء میں لندن میں ایک تقریب کے دوران ساورکر کے بارے میں جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تبصرے کیے تھے۔یکم جولائی کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران، ستیاکی ساورکر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہندوتوا نظریہ دان کو سیاسی دباؤ کی وجہ سے جیل سے رہا کیا گیا تھا، نہ کہ ان رحم کی درخواستوں کی وجہ سے جو انہوں نے برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کو لکھی تھیں۔
یاد رہےکہ ساورکر کو ۱۹۱۱ء سے ۱۹۲۱ء تک انڈمان اور نکوبار جزائر کے سیلولر جیل میں قید رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں مہاراشٹر میں واقع رتناگری جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں سے انہیں ۱۹۲۴ء میں مشروط رہائی ملی۔ ۱۹۲۴ ءسے ۱۹۳۷ء تک، ساورکر ضلع رتناگری تک محدود رہے اور سیاست میں حصہ لینے سے روک دیے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK