• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ جج بھویان نے کھانے، نظموں، سوشل میڈیا پوسٹس پر ”مضحکہ خیز“ فوجداری مقدمات پر کڑی تنقید کی

Updated: September 19, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi

حراستی تشدد پر بات کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے کہا کہ وہ اپنے اس یقین پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ۱۹۹۷ء کے ڈی کے باسو فیصلے کے بعد ایسے طریقوں میں کمی آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہندوستان میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔“ انہوں نے اسے پولیسنگ اور تفتیش کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے رات گئے ملزمان کو جائے وقوع پر لے جانے کے معمول پر بھی سوال اٹھایا اور نوجوان پولیس افسران کے مظاہرین کا ذاتی طور پر سامنا کرنے پر تنقید کی۔

Justice Ujjal Bhuyan. Photo: X
جسٹس اجل بھویان۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھویان نے جمعہ کے روز کھانے کے انتخاب، شاعری پڑھنے، دوسروں کی ضمانت کا مطالبہ کرنے والے نعروں، مظاہروں، سوشل میڈیا تبصروں، اسٹینڈ اپ کامیڈی اور یہاں تک کہ فلموں اور کتابوں کے عنوانات پر درج کئے جانے والے فوجداری مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تنقید کی اور کہا کہ انہیں انصاف کے نظام میں کبھی داخل ہی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ مقدمات مضحکہ خیز ہیں اور اکثر کسی کی عقل کی توہین کے مترادف ہوتے ہیں۔ بعض اوقات چارج شیٹس داخل کی جاتی ہیں اور مقدمات کی سماعت اس بات کو بخوبی جانتے ہوئے شروع کی جاتی ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔“

انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں سینٹر فار ڈسکورس آن کریمنل اینڈ کانسٹیٹیوشنل جیورسپروڈنس کے زیرِ اہتمام ”فوجداری قانونی چارہ جوئی میں اخلاقیات — دفاع اور استغاثہ کے فرائض“ کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے مقدمات پہلے سے ہی بوجھ تلے دبے نظام پر مزید بوجھ ڈالتے ہیں۔ نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ ۱۷ ستمبر تک ۲۷ء۴ کروڑ سے زائد فوجداری مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں ٹرائل کورٹس کا حصہ اس التوا کا ۹۵ فیصد بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’چائے اختلافات ختم کرسکتی ہے‘ پر یقین رکھنے والے واگھ بکری کے سربراہ پیوش دیسائی کا انتقال

انہوں نے ”فضول قانونی چارہ جوئی“ کو نمٹانے کیلئے ٹرائل کورٹس کی جانب سے ایک خصوصی مہم کی تجویز پیش کی اور غیر سنگین اور نان سیشن مقدمات کیلئے ایک بار عام معافی (one-time amnesty) کی تجویز دی تاکہ عدالتیں ان معاملات پر توجہ مرکوز کر سکیں جنہیں توجہ کی ضرورت ہے۔

حراستی تشدد پر بات کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے کہا کہ وہ اپنے اس یقین پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ۱۹۹۷ء کے ڈی کے باسو فیصلے کے بعد ایسے طریقوں میں کمی آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہندوستان میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔“ انہوں نے اسے پولیسنگ اور تفتیش کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے رات گئے ملزمان کو جائے وقوع پر لے جانے کے معمول پر بھی سوال اٹھایا اور نوجوان پولیس افسران کے مظاہرین کا ذاتی طور پر سامنا کرنے پر تنقید کی۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کےالیکشن میں اے بی وی پی پر دھاندلی کا الزام، آج نتیجہ

سرکاری وکلاء (پبلک پراسیکیوٹرز) کا رخ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانونی کارروائی واپس لینے کے فیصلے انتظامیہ کی ہدایت کے بجائے آزادانہ سوچ کی عکاسی کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر شک کا اظہار کیا کہ آیا کوئی ایسا پراسیکیوٹر بچا ہے جو اس طرح کے دباؤ کا مقابلہ کر سکے، ان کے مطابق، جو ایسا کرتے ہیں وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ منصفانہ نظام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت کے زریعے دی گئی سزاؤں پر اس لئے اعتماد ہونا چاہئے کیونکہ وہ منصفانہ طور پر حاصل کی گئیں،" اور بریت پر اس لئے اعتماد ہونا چاہئے کیونکہ اس پر دیانتداری سے دلائل دیئے گئے تھے۔ تقریب سے جسٹس ابھے ایس اوکا اور دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس امت شرما نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں سابق ججوں، سینئر وکلاء اور بار کے ارکان نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK