مہم کے دوران بچوںکے والدین سے اسکول مینجمنٹ کمیٹی کےاراکین ملاقات کریں گے، اسکولوں میں اسمارٹ ٹی وی، مفت یونیفارم، نصابی کتابیں اور غذائیت سے بھرپور خوراک جیسی سہولیات کے بارے میں معلومات ہر گھر تک پہنچائی جائیں گی۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 11:49 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
مہم کے دوران بچوںکے والدین سے اسکول مینجمنٹ کمیٹی کےاراکین ملاقات کریں گے، اسکولوں میں اسمارٹ ٹی وی، مفت یونیفارم، نصابی کتابیں اور غذائیت سے بھرپور خوراک جیسی سہولیات کے بارے میں معلومات ہر گھر تک پہنچائی جائیں گی۔
سرکاری اسکولوں میں بالخصوص مراٹھی میڈیم میں طلبہ کی تعداد بڑھانے کیلئے ریاستی وزیر تعلیم دادا بھُسے کی ہدایت پر مارچ سے جون ۲۰۲۶ء کے درمیان ’ اسکول آپ کی دہلیز پر‘ مہم شروع کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ریاستی سطح کی کمیٹی نے حال ہی میں پرائیویٹ کے مقابلے سرکاری اسکولوں کا فیصد بڑھانے کیلئے اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے جس میں اختراعی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ اسی رپورٹ کی بنا پر گڈی پاڑوا کے موقع پر ’اسکول آپ کی دہلیز پر ‘مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کیلئے ایک خصوصی گیت تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے ضلع پریشد اسکولوں میں اسمارٹ ٹی وی، مفت یونیفارم، نصابی کتابیں اور غذائیت سے بھرپور خوراک جیسی سہولیات کے بارے میں معلومات ہر گھر تک پہنچائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: مالونی : شوبھایاترا میں نتیش رانے کی اشتعال انگیزی
تشہیر کے علاوہ، اساتذہ اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین ذاتی طور پر اہل طلبہ کے گھر وںکا دورہ کریں گے۔ ’اسکول آپ کی دہلیز پر‘ مہم کے تحت والدین سے بات چیت کریں گے۔ بچوں کی ترقی میں ماؤں کی شرکت کو بڑھانے کیلئے والدین سے ملاقات کی جائےگی۔ ملاقات کے دوران بچوں کی خوراک، صحت اور مطالعہ کی عادات پر بات کی جائے گی۔
انگلش میڈیم کی طرف والدین کے جھکاؤ کے مدنظر، وزیر تعلیم کی رہنمائی میں مقامی خودمختار اداروں کے اسکولوں میں اب سیمی انگلش کلاسیز شروع کرنے پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسکول کے کامیاب سابق طلبہ کی اپنی کامیابی کا جشن منانے کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائے جائیں گے تاکہ اسکولوں کی ساکھ کو بڑھایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حقائق اس بنیاد پر نہیں بدلے جا سکتے کہ حکومت میں کون ہے‘‘
اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مقامی انتظامیہ بھی شامل ہوگا۔ ترغیب کے طور پر، گرام پنچایتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹیکس معافی مہم کو نافذ کریں، جیسے کہ ان والدین کو مقامی ٹیکس میں رعایت دینا جو اپنے بچوں کو ضلع پریشد کے اسکولوں میں داخل کرائیں گے۔ مہم پر عملدرآمد کیلئے انتظامی سطح پر بھی سختی کی جائے گی۔
اس بارے میں دادا بھُسے نے کہا ہے کہ’’ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ریاست کے ہر طالب علم کو معیاری اور اعلیٰ تعلیم حاصل ہو۔ اپنے ضلع پریشد اسکولوں کو جو دیہی علاقوں میں تعلیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے ہم نے سیمی انگلش اور سمارٹ کلاس رومز متعارف کرائے ہیں۔‘‘