• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجتماعی زیادتی کیس میں سنسنی خیز موڑ۔ متاثرہ کی جان کو خطرہ پرتحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

Updated: September 19, 2026, 10:56 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

یہاں باپ گاؤں میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی عصمت دری کے لرزہ خیز معاملے میں اب ایک نیا موڑ  آیا ہے۔۲۲ ؍سالہ متاثرہ کی قانونی اور اخلاقی مدد کرنے والی کانگریس کی سینئر کارپوریٹر  اور پارٹی گروپ لیڈر کانچن کلکرنی نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمین کے  اثرورسوخ والا ہونے کی وجہ سے متاثرہ کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

Senior Corporator Kanchan Kulkarni. Photo: INN.
سینئر کارپوریٹرکانچن کلکرنی۔ تصویر: آئی این این

یہاں باپ گاؤں میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی عصمت دری کے لرزہ خیز معاملے میں اب ایک نیا موڑ  آیا ہے۔۲۲ ؍سالہ متاثرہ کی قانونی اور اخلاقی مدد کرنے والی کانگریس کی سینئر کارپوریٹر  اور پارٹی گروپ لیڈر کانچن کلکرنی نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمین کے  اثرورسوخ والا ہونے کی وجہ سے متاثرہ کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے پولیس اور حکومت سے متاثرہ کو فوری طور پر سیکوریٹی فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:لٹیروں کی بین ریاستی گینگ کے ۵ ؍افراد گرفتار۔ کار اور ہتھیار ضبط

پڑگھا پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت کے تحت  بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی  نریندر پوار اور نوکری سے برطرف پولیس افسر شیلیش پاٹل کے خلاف اجتماعی جنسی زیادتی کا کیس  درج کیا گیا ہے۔ ۱۶ ؍ستمبر کو متاثرہ  نے شدید خوف کے عالم میں کانگریس کی کارپوریٹر کانچن کلکرنی سے رابطہ قائم کرکے اپنے ساتھ پیش آیا دلخراش واقعہ سنایا۔ کانچن کلکرنی نے فوری طور پر متاثرہ کو حوصلہ دیا اور اسے ہمراہ لے کر پڑگھا پولیس اسٹیشن پہنچیں جہاں باقاعدہ طور پر ایف آئی آر کا اندراج عمل میں لایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:پیٹرول پمپ کویوپی آئی کے نئے نظام سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ

جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانچن کلکرنی نے   انتہائی سنگین اور چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی تنہا واقعہ نہیں ہے بلکہ سابق ایم ایل اے نریندر پوار کی دست درازی کا شکار ہونے والی مزید ۳ ؍ خواتین جبکہ برطرف پولیس اہلکار شیلیش پاٹل کی مبینہ زیادتیوں کا شکار ہونے والی کم و بیش ۱۵ ؍خواتین نے ان سے رابطہ کیا ہے۔کانچن کلکرنی کے مطابق دونوں ملزمین اثر ورسوخ والے ہیں اس لئے  متاثرہ   کی جان کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ لہٰذا متاثرہ کو قانونی تحفظ اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK