Updated: August 24, 2026, 5:15 PM IST
| New Delhi
امریکی سفیر سرجیو گور نے ہندوستانی ٹی وی نیوز چینلوں کے شور شرابے اور سنسنی خیزی پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض خبریں امریکہ کے ’’فیک نیوز‘‘ کے مسئلے سے بھی آگے ہیں۔ گور نے جی۷؍اجلاس میں مودی اور ٹرمپ کی ملاقات کے دوران میڈیا سے متعلق ہندوستانی حکومت کی درخواست کا دلچسپ پسِ منظر بھی بیان کیا۔
امریکہ کے سفیر سرجیو گور۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی کے ٹیلی ویژن نیوز چینلوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی شہرت حاصل کرلی ہے۔ امریکی سفیر سرجیو گور نے ہندوستانی نیوز چینلوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’جتنا وقت گزرتا جاتا ہے، شوز اتنے ہی پاگل پن کی حد تک پہنچتے جاتے ہیں ‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی چینلوں پر نشر ہونے والی بعض خبریں امریکہ کے ’’فیک نیوز‘‘ کے مسئلے سے بھی کہیں آگے ہیں۔ گور نئی دہلی میں ایک مالیاتی اخبار کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے گھر واپس آکر ہندوستانی ٹی وی نیوز شوز دیکھنا بہت پسند ہے۔ جتنا وقت گزرتا جاتا ہے، شوز اتنے ہی زیادہ عجیب ہوتے جاتے ہیں۔ شام۶؍ بجے ایک پروگرام میں آٹھ افراد بحث کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ رات۱۰؍ بجے۱۲؍ افراد بیک وقت بول رہے ہوتے ہیں اور حقیقتاً کسی ایک کی بات بھی سنائی نہیں دیتی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: حکومت نوئیڈا کے کارکنوں کی طرح طلبہ کو بھی نشانہ بنانا چاہتی ہے: ابھیجیت دپکے
گور نے کہا کہ ابتدا میں انہیں لگتا تھا کہ امریکہ کو غلط معلومات کے حوالے سے ایک سنگین مسئلے کا سامنا ہے، لیکن ہندوستانی ٹیلی ویژن نے انہیں حیران کردیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں پہلے سمجھتا تھا کہ ہمارے ملک امریکہ میں فیک نیوز کا مسئلہ ہے، لیکن یہاں نشر ہونے والی بعض خبریں تو حقیقت سے بالکل میل نہیں کھاتیں۔ ‘‘سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے گور کے تبصروں پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ایک صارف نے کہا کہ ’’ہندوستانی جمہوریت کا چوتھا ستون‘‘ اب ’’سستی بین الاقوامی تفریح‘‘ میں تبدیل ہوچکا ہے۔
’جی ۷؍کا راز افشا‘
امریکی سفیر نے فرانس میں جی ۷؍سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ملاقات کے پسِ پردہ ہونے والی غیر معمولی پیش رفت پر بھی دلچسپ تبصرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے ملاقات کے دوران میڈیا کو موجود رہنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی، تاہم صحافیوں کو سوالات کرنے کی اجازت نہ دینے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ گور نے کہا کہ یہ درخواست ملاقات سے قبل ٹرمپ کے ساتھ شیئر کی گئی تھی، جس پر انہوں نے کہا، ’’یقیناً، کوئی مسئلہ نہیں۔ ‘‘ تاہم، مودی اور ٹرمپ کی ابتدائی میڈیا بریفنگ ختم ہونے کے فوراً بعد صورتحال بدل گئی۔ امریکی صدر نے کیمروں کی طرف رخ کرتے ہوئے پوچھا: ’’کوئی سوال؟‘‘ گور نے کہا، ’’اور اس کے بعد سب کچھ کھل گیا۔ ‘‘ ان کے مطابق، یہ بات چیت بالآخر ۴۵؍ منٹ طویل پریس سیشن میں تبدیل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: اُردو سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر پھر ایکسائز افسر اور اب ڈی ایس پی تک کا شاندار سفر
گور نے اس موقع کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسٹیج کے پیچھے موجود تھے اور ایک موقع پر صرف صدر ٹرمپ اور وہ وہاں تھے۔ ٹرمپ نے ان سے پوچھا کہ ہندوستانی فریق ملاقات میں کیا معاملہ اٹھا سکتا ہے اور کیا اس کی کوئی خاص درخواست ہے۔ گور کے مطابق انہوں نے ٹرمپ کو بتایا کہ وزارتِ خارجہ میڈیا کی موجودگی چاہتی ہے، لیکن سوالات کو ترجیح نہیں دیتی۔ گور نے کہا، ’’میں نے صدر سے کہا کہ ہندوستانی فریق سوالات نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ ‘‘ تاہم یہی ملاقات بعد میں ۴۵؍ منٹ طویل میڈیا سیشن میں تبدیل ہوگئی۔ مودی اور ٹرمپ کی یہ ملاقات۱۷؍ جون کو فرانس میں جی۷؍ سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران سے متعلق تنازع اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں سمیت متعدد اہم معاملات جاری تھے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی پربی جے پی کی تنقید، جواب طالبات نے دیا
’سی جے پی کے تعلقات ڈیپ اسٹیٹ امریکہ سے‘
سی جے پی کے شریک کنوینر سورَو داس نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ آیا امریکی سفیر سرجیو گور نے مودی حکومت کے کسی سینئر وزیر کو فون کرکے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کو ایک پرائم ٹائم پروگرام میں ’’ڈیپ اسٹیٹ امریکہ‘‘ سے سی جے پی کے مبینہ تعلقات کا الزام لگانے سے روکنے کیلئے کہا تھا۔ داس نے دعویٰ کیا کہ یہ پروگرام اور اس کے کلپس اگلی صبح تک حذف کردیئے گئے تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ آیا مذکورہ فون کال ہوئی تھی اور اگر ہوئی تھی تو گور نے کس وزیر سے بات کی تھی۔ انہوں نے گوسوامی سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا وہ ’’امریکہ کے کنٹرول‘‘ میں ہیں۔ داس نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’ارنب کو یہ بھی جواب دینا چاہئے کہ کیا وہ امریکہ کے کنٹرول میں ہیں۔ ارنب ہمیں بتاؤ، قوم جاننا چاہتی ہے!‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۸؍سال سے صندوق میں پیسے پس انداز کرنے والی خاتون کے۱۲؍ لاکھ روپے چوہے کھا گئے!
’معمول کا پروٹوکول‘
حکومتی ذرائع نے پیر کو کہا کہ لیڈروں کی عوامی تقریبات اور میڈیا سے متعلق انتظامات پر بات چیت معمول کی بات ہے۔ یہ بیان امریکی سفیر سرجیو گور کے ان تبصروں کے جواب میں سامنے آیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ فرانس میں جی۷؍ اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی ملاقات سے قبل نئی دہلی نے پریس سے سوالات نہ کرانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ذرائع نے کہا کہ اعلیٰ سطحی شخصیات کے دوروں سے قبل اس طرح کی مشاورت معیاری پروٹوکول کا حصہ ہوتی ہے۔ ایک حکومتی ذریعے نے کہا، ’’لیڈروں کی عوامی تقریبات کے انتظامات کے حوالے سے بات چیت کسی بھی وی وی آئی پی دورے سے قبل معمول کا طریقہ کار ہے۔ ‘‘