مئی ۲۰۲۶ء میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر ایک ہزار۶۵۹؍ حملے ریکارڈ کئے گئے جن میں۵۵۱؍ حملے آبادکاروں نے کئے۔درختوں کو بھی نقصان پہنچایاگیا۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 10:32 AM IST | Ramla
مئی ۲۰۲۶ء میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر ایک ہزار۶۵۹؍ حملے ریکارڈ کئے گئے جن میں۵۵۱؍ حملے آبادکاروں نے کئے۔درختوں کو بھی نقصان پہنچایاگیا۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے خطرناک حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں مساجد، گھروں، گاڑیوں اور زرعی اراضی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
راملہ کے قریب ایک قصبے میں رہائش پذیر۹۲؍ سالہ فلسطینی نژاد امریکی یاسر سقر راشد نے الجزیرہ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ایک شام مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں قرآن پاک کی تلاوت کے دوران آبادکاروں نے حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق ایک حملہ آور نے مسجد کی کھڑکی پر آتش گیر مواد ڈال کر مسجد اور مجھے زندہ جلانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: دورۂ فرانس میں وزیر اعظم مودی نے نور عنایت خان کی قربانی کو یاد کیا
سقر راشد کے مطابق حملے کے دوران مسجد کے اندر توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ مقامی افراد کی۶؍ گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی، اسی رات قریبی قصبے برقہ میں واقع ایک اور مسجد کو بھی نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔فلسطینی حکام کے مطابق مئی۲۰۲۶ء میں مسلم عبادت گاہوں پر ۲۲؍ حملے ریکارڈ کئے گئے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کی منظم مہم کا حصہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نابلس کے قریب ایک گاؤں میں۴۱؍ سالہ صادق فقیہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ آبادکاروں کے حملوں کے بعد میرا گھر قلعے میں تبدیل ہو چکا ہے، اپریل ۲۰۲۶ء میں آبادکاروں نے میرے گھر پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کے دوران میری حاملہ اہلیہ شدید خوف کا شکار ہوئیں، میرے گھر قبل از وقت بچے کی پیدائش ہونے کے سبب میرا بچہ آج بھی اسپتال میں زیرعلاج ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیل کو لبنان سے۶۰؍ دن میں واپس جانا ہوگا‘‘
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی ۲۰۲۶ء میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر ایک ہزار۶۵۹؍ حملے ریکارڈ کئے گئے جن میں۵۵۱؍ حملے آبادکاروں نے کئے۔ اسی عرصے میں۷؍ ہزار ۲۲۲؍درختوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ متعدد گھروں، مساجد اور دیگر املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق آبادکاروں کے حملوں کے باعث مغربی کنارے کی۱۱۷؍ سے زائد فلسطینی بستیوں اور دیہاتوں میں مکمل یا جزوی بے دخلی ہو چکی ہے۔
اس سلسلےمیں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے حملے فلسطینی آبادی پر دباؤ بڑھانے اور اِنہیں اپنی زمینوں سے ہٹانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔