Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ رخ خان نے پرمٹ نہیں لیا، ڈرائیوروں نے لیا: مراٹھی لازمی کرنے پر سرنائک

Updated: May 18, 2026, 10:00 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر (ہندوستان) کے وزیر برائے نقل و حمل پرتاپ سرنائک نے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان کی لازمی شرط پر اٹھنے والے تنازع کے درمیان کہا ہے کہ شاہ رخ خان نے ہم سے کبھی پرمٹ نہیں لیا، لیکن رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے لیا ہے، اس لیے ان پر مراٹھی کی شرط لاگو ہوتی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ اصول نیا نہیں بلکہ ۱۹۸۹ء سے نافذ ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مہاراشٹر میں آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان لازمی قرار دینے کے فیصلے پر جاری سیاسی اور سماجی بحث کے درمیان ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے حکومت کے مؤقف کا مضبوط دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کسی خاص طبقے یا تارکین وطن مزدوروں کے خلاف نہیں بلکہ عوامی رابطے اور قانونی شرائط کے نفاذ کا مسئلہ ہے۔ انڈین ایکسپریس کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں سرنائک نے کہا کہ یہ شرط کوئی نئی پالیسی نہیں بلکہ ۱۹۸۹ء سے موجود ہے، جسے اب مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، مسئلہ صرف زبان نہیں بلکہ روزمرہ ٹرانسپورٹ میں پیدا ہونے والے تنازعات کا بھی ہے، خاص طور پر ایسے مسافروں کے لیے جو صرف مراٹھی بولتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : اداکارہ صبا آزاد ’الفا میل‘ کے تصور کو نہیں مانتیں

انہوں نے کہا کہ ’’بہت سے مسافر، خاص طور پر دیہی مہاراشٹر سے آنے والے لوگ، ہندی میں آسانی محسوس نہیں کرتے۔ اس وجہ سے ڈرائیوروں اور مسافروں کے درمیان جھگڑے بڑھتے ہیں۔‘‘ سرنائک نے انکشاف کیا کہ میرا بھائندر علاقے میں ۳۵۰۰؍ ڈرائیوروں کے سروے میں ۵۶۵؍ ایسے نکلے جو بنیادی مراٹھی بھی نہیں جانتے تھے۔ اسی لیے حکومت نے یونینوں کے مطالبے پر ۱۵؍ اگست تک کی مہلت دی ہے تاکہ ڈرائیور مکالماتی مراٹھی سیکھ سکیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے واضح کیا کہ حکومت کسی سے ادبی یا تعلیمی سطح کی مراٹھی نہیں مانگ رہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کسی کو ماہر یا پروفیسر بننے کے لیے نہیں کہہ رہے۔ صرف اتنی مراٹھی کہ مسافر سے بات ہو سکے اور تنازع نہ پیدا ہو۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ممبئی مراٹھی ساہتیہ سنگھ کی مدد سے ایک خصوصی کتابچہ تیار کیا گیا ہے اور ڈرائیوروں کو ہر تربیتی سبق کے لیے ۱۰۰؍ روپے بھی دیے جا رہے ہیں۔ تاہم، سب سے زیادہ توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب سرنائک نے ناقدین کے اس الزام کا جواب دیا کہ صرف محنت کش طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ اشرافیہ اور فلمی ستارے اس دائرے سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’شاہ رخ خان اور سلمان خان نے کبھی ہم سے لائسنس یا پرمٹ نہیں لیا۔ مکیش امبانی اور گوتم اڈانی نے بھی نہیں لیا۔ لیکن رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے اجازت نامہ لیا ہے، اور مراٹھی جاننا ان شرائط میں شامل تھا۔‘‘ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی، جہاں ایک طبقے نے اسے ’’مراٹھی شناخت کے دفاع‘‘ سے تعبیر کیا، جبکہ ناقدین نے کہا کہ اصل مسائل — جیسے خراب پبلک ٹرانسپورٹ، مہنگائی، بے روزگاری اور آخری میل کنیکٹیویٹی — پس منظر میں دھکیل دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : مراٹھی زبان معاملہ: ریاستی حکومت کے دُہرے معیار پر ہائی کورٹ کا اظہار برہمی

سرنائک نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بیک وقت کئی بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں میٹرو توسیع، بیسٹ اور ایس ٹی بسوں کی تعداد میں اضافہ، ای وی چارجنگ اسٹیشنز اور پوڈ ٹیکسی منصوبے شامل ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے اولا، اوبر اور ریپیڈو جیسی بائیک ٹیکسی کمپنیوں پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کے مطابق حکومت نے عارضی اجازت نامے جاری کیے تھے، لیکن کمپنیوں نے مطلوبہ دستاویزات جمع نہیں کرائیں اور ’’غیر قانونی طور پر ہزاروں پیٹرول بائیک ٹیکسیاں سڑکوں پر اتار دیں۔‘‘ انہوں نے خاص طور پر ریپیڈو پر الزام لگایا کہ وہ جرمانہ ہونے پر اپنے سواروں کو معاوضہ دینے کی پیشکش کر رہی تھی، جسے انہوں نے ’’غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی‘‘ قرار دیا۔
سرنائک نے کہا کہ کابینہ کا فیصلہ واضح ہے کہ ’’صرف ای وی بائیک ٹیکسیوں کو اجازت دی جائے گی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ایم ایس آر ٹی سی کے کرایوں میں اضافہ تقریباً ناگزیر ہو سکتا ہے، کیونکہ ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو ہر ماہ ۱۲۰؍ سے ۱۳۰؍ کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ادھر اپوزیشن اور مزدور تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر زبان کی شرط سختی سے نافذ کی گئی تو ہزاروں تارکین وطن ڈرائیوروں کی روزی متاثر ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بحث نے ’’مراٹھی شناخت بمقابلہ روزگار‘‘ کی نئی تقسیم پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ممبئی جیسے کثیر لسانی شہر میں جہاں لاکھوں افراد مختلف ریاستوں سے آ کر کام کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK