Inquilab Logo Happiest Places to Work

ششی تھرور نے ’وندے ماترم‘ کے پانچوں بند لازمی گانے پر سوال اٹھایا

Updated: June 03, 2026, 9:51 PM IST | Thiruvananthapuram

کیرالا اسمبلی میں ’وندے ماترم‘ کی مکمل پیشکش کے تنازعہ کے درمیان کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے سرکاری تقریبات میں قومی گیت کے پانچوں بند گانے کو لازمی بنانے پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی گیت کا احترام سب کرتے ہیں، لیکن ہر تقریب کے آغاز اور اختتام پر مکمل گیت گانے کی شرط سامعین پر غیر ضروری بوجھ ڈالتی ہے۔

Shashi Tharoor. Photo: INN
ششی تھرور۔ تصویر: آئی این این

کیرالا اسمبلی میں ’وندے ماترم‘ کے متعلق ہوئے تنازعہ کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے سرکاری تقریبات میں قومی گیت کے تمام پانچ بند گانے کی روایت یا اصرار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ گزشتہ دن صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ قومی گیت کا احترام ملک کے تمام شہری کرتے ہیں، تاہم ہر تقریب کے آغاز اور اختتام پر مکمل گیت گانا سامعین کے لیے غیر ضروری طور پر طویل اور بوجھل ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وندے ماترم ہمارا قومی گیت ہے اور جب یہ بجایا یا گایا جاتا ہے تو ہم احتراماً کھڑے ہوتے ہیں۔ پہلا بند یا پہلے دو بند وہ حصہ ہیں جنہیں زیادہ تر لوگ یاد رکھتے ہیں اور برسوں سے یہی حصہ عوامی تقریبات میں گایا جاتا رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: مالویہ نگر میں ہولناک آتشزدگی، ۲۱؍ ہلاک، متعدد زخمی؛ تحقیقات کا آغاز

تھرور کے مطابق ماضی میں سرکاری اور عوامی تقریبات میں قومی گیت کا مختصر حصہ آغاز میں پیش کیا جاتا تھا جبکہ قومی ترانہ الگ موقع پر بجایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر تقریب کے آغاز اور اختتام پر پانچوں بند گانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو ان کی نظر میں ایک غیر ضروری مسلط کردہ عمل ہے۔ اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے نئی دہلی میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی کا حوالہ دیا جس میں ہندوستان کے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن شریک تھے۔ تھرور کے مطابق اس تقریب میں آغاز اور اختتام دونوں مواقع پر وندے ماترم کے تمام بند گائے گئےجس کے باعث حاضرین کو طویل وقت تک کھڑا رہنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ سامعین میں موجود بہت سے افراد کے لیے دو مرتبہ مکمل گیت کے دوران کھڑے رہنا آسان نہیں تھا، خاص طور پر اس لیے کہ گیت کے کئی حصے عام لوگوں کے لیے زیادہ مانوس نہیں ہیں۔ ششی تھرور نے زور دے کر کہا کہ وہ خود قومی گیت کے مخالف نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے احترام پر کوئی سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سب وندے ماترم کا احترام کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں ابھی خوشی سے یہ گیت گا سکتا ہوں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف یہ ہے کہ آیا ہر تقریب میں مکمل گیت دو مرتبہ گانے کی واقعی ضرورت ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر، نائب صدر یا وزیر اعظم کی موجودگی والے بڑے سرکاری پروگراموں میں مکمل گیت ایک مرتبہ گایا جانا قابل فہم ہو سکتا ہے، لیکن مختصر تقریبات میں اسے بار بار دہرانے کی منطق سمجھنا مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مرکزی وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو۶؍ جون کے احتجاج میں شریک ہوں گا: سونم وانگچک

تھرور نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ملک میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو وندے ماترم کے تمام بند گانے کو لازمی قرار دیتا ہو۔ ان کے مطابق یہ معاملہ زیادہ تر روایات اور انتظامی فیصلوں سے متعلق ہے، نہ کہ کسی پارلیمانی قانون سے۔ واضح رہے کہ یہ تنازع ۲۹؍ مئی کو اس وقت سامنے آیا جب ۱۶؍ ویں کیرالہ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے دوران کیرالہ پولیس بینڈ نے وندے ماترم کا صرف ایک حصہ پیش کیا۔ بعد ازاں کیرالہ کے گورنر راجندر آرلیکر نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قومی گیت کو مکمل طور پر پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ 

بعد میں گورنر نے وضاحت کی کہ راج بھون کی جانب سے صرف موسیقی بجانے کے بجائے گیت کو مکمل طور پر گانے پر زور دیا گیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ قومی گیت کی مکمل پیشکش اس کے وقار اور احترام کے مطابق ہے۔ ششی تھرور نے اس پورے تنازعہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی گیت کے احترام پر کسی کو اختلاف نہیں، لیکن اس مسئلے کو تنازعہ کی شکل دینا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق روایتی طور پر عوامی سطح پر مقبول اور معروف حصے کو پیش کرنا ہی کافی سمجھا جاتا رہا ہے اور یہی طریقہ زیادہ عملی بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK