• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد نے ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

Updated: September 10, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi

مالی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اسناد سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے دوران استعفیٰ؛ صائمہ واجد نے تقریباً ایک سال سے تنخواہ نہ ملنے اور ڈبلیو ایچ او قیادت پر اعتماد ختم ہونے کو بھی وجہ بتایا۔

Saima Wazed. Picture: INN
صائمہ واجد۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد نے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے جنوب مشرقی ایشیا کی علاقائی ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ۹؍ ستمبر کو فوری طور پر مؤثر ہوگیا۔ وہ ۲۰۲۴ء کے آغاز میں ۵؍ سالہ مدت کے لیے اس عہدے پر منتخب ہوئی تھیں، لیکن ۲۰۲۵ء سے انہیں بغیر تنخواہ انتظامی رخصت پر رکھا گیا تھا۔ ان کے خلاف ڈبلیو ایچ او اور بنگلہ دیش کے حکام کی جانب سے مالی بےضابطگیوں، جعل سازی اور دیگر الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

صائمہ واجد کے استعفیٰ کے بعد ڈبلیو ایچ او کے جنوب مشرقی ایشیا خطے کے لیے نئے علاقائی ڈائریکٹر کے انتخاب کی تیاری شروع ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق نامزدگی کا عمل ۱۲؍ اکتوبر سے شروع ہوسکتا ہے، دسمبر میں امیدواروں کی جانچ اور ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۷ء کو انتخاب متوقع ہے۔ علاقائی ڈائریکٹر کا انتخاب رکن ممالک ہر ۵؍ سال بعد کرتے ہیں اور اس خطے میں ہندوستان اور بنگلہ دیش سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایپل نے ہندوستان میں آئی فون کی قیمتوں میں ۴۰؍ فیصد تک اضافہ کردیا

صائمہ کو جولائی ۲۰۲۵ء میں بنگلہ دیش کے انسدادِ بدعنوانی کمیشن کی جانب سے مقدمات درج کیے جانے کے بعد ڈبلیو ایچ او نے غیر معینہ مدت کی انتظامی رخصت پر بھیج دیا تھا۔ بنگلہ دیشی حکام نے ان پر دھوکہ دہی اور جعل سازی سمیت الزامات عائد کیے تھے۔ بعد میں ڈبلیو ایچ او  نے بھی ان کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔

 ڈبلیو ایچ او کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات میں چین کے سفر سے متعلق اخراجات میں مالی بے ضابطگی اور اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں مبینہ طور پر غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنا شامل ہے۔ صائمہ نے دونوں الزامات مسترد کیے ہیں۔ ان کے وکلا کے مطابق چین کے سفر سے متعلق تقریباً ۹۰۱؍ ڈالر کی رقم کا معاملہ ایک معاون کی جانب سے معمول کی رقم واپسی کی درخواست تیار کرتے وقت ہونے والی انتظامی غلطی تھی۔ تعلیمی قابلیت کے معاملے میں صائمہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آٹزم کے شعبے میں کام کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ ہے اور انہوں نے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔

صائمہ کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں بنگلہ دیش میں ایک اراضی پلاٹ کے حصول سے متعلق الزام کا بھی ذکر ہے۔ ڈبلیو ایچ او  نے مبینہ طور پر اسے غیر قانونی حصول قرار دیا، تاہم صائمہ نے اس کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین ڈبلیو ایچ او میں شمولیت سے پہلے حاصل کی گئی تھی اور وہ اس پر ایک ایسے بنگلہ دیشی قانون کے تحت حق رکھتی تھیں جو ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمن کے خاندان کے لیے مخصوص تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ قید مکمل ہونے کا دعویٰ، سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل رد کردی

صائمہ نے استعفیٰ خط میں ڈبلیو ایچ او کی قیادت پر اعتماد ختم ہونے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق انہیں علاقائی ڈائریکٹر منتخب کیا گیا تھا تاکہ وہ خطے کے ممالک کے عوام کی خدمت کرسکیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی قیادت نے انہیں مؤثر طریقے سے اپنے فرائض انجام دینے سے روکا۔ تقریباً ایک سال تک بغیر تنخواہ رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اپنی مالی صورتحال کو ناقابلِ برداشت قرار دیا اور عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔

یہ استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب شیخ حسینہ کی اگست ۲۰۲۴ء میں حکومت سے بے دخلی کے بعد ان کے خاندان اور سیاسی حامیوں کے خلاف بنگلہ دیش میں متعدد قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ صائمہ کی والدہ شیخ حسینہ ملک چھوڑنے کے بعد ہندوستان میں مقیم ہیں، جبکہ ان کی حکومت کے کئی سابق عہدیداروں اور حامیوں کو بدعنوانی یا دیگر مقدمات کا سامنا ہے۔ سائمہ کے معاملے میں تاہم الزامات ابھی قانونی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور انہوں نے تمام الزامات مسترد کیے ہیں۔

صائمہ واجد نے ڈبلیو ایچ او میں فروری ۲۰۲۴ء میں عہدہ سنبھالا تھا اور وہ اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی بنگلہ دیشی اور دوسری خاتون تھیں۔ ان کے انتخاب میں ۱۰؍ میں سے ۸؍ رکن ممالک نے ان کے حق میں ووٹ دیا تھا، جن میں ہندوستان بھی شامل تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK