بڑی تعداد میں طلباء و طالبات ترنگا لئے پہنچے۔ ادھوٹھاکرے ، آدتیہ ٹھاکرے اور امیت ٹھاکرے نے خطاب کیا ، کہا : پیار سے بات کرو گے تو پیار ملے گااور ڈرانے آؤ گےتو درد ملے گا ۔ استعفیٰ تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 12:32 PM IST | Iqbal Ansari | Dadar
بڑی تعداد میں طلباء و طالبات ترنگا لئے پہنچے۔ ادھوٹھاکرے ، آدتیہ ٹھاکرے اور امیت ٹھاکرے نے خطاب کیا ، کہا : پیار سے بات کرو گے تو پیار ملے گااور ڈرانے آؤ گےتو درد ملے گا ۔ استعفیٰ تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم۔
جنترمنتر پر طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں شیو سینا ( یوبی ٹی) کے نوجوان لیڈر اورر کن اسمبلی آدتیہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے یوتھ لیڈر امیت ٹھاکرے کی جانب سے جمعہ کو شیواجی پارک میںماں صاحب مینا تائی ٹھاکرے کے مجسمہ کے پاس ترنگا ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں کسی سیاسی پارٹی کے پرچم کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اس ریلی میں بڑی تعداد میں نوجوان ترنگا لئے پہنچے جن میں برقع پوش خواتین بھی تھیں۔ اس موقع پر آدتیہ اور امیت ٹھاکرے نے اعلان کہ جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔ ریلی میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نےبھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے: آج کانگریس کا پورے مہاراشٹر میں کینڈل مارچ اور ستیہ گرہ
ریلی میں شریک طلبہ اپنے ہاتھوں میں مختلف نعروں والے پلے کارڈز لئے ہوئے تھے جن پر حکومت کے خلاف مختلف نعرے تحریر تھے اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے ہندی، مراٹھی اور انگریزی میں مجمع سے خطاب کیا۔ اپنی تقریر کی شروعا ت میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب سونم وانگ چک کا شکریہ ادا کریںکہ انہوں نے ۲۵؍ دنوں تک ہمارے حق کیلئے بھوک ہڑتا ل کی۔ان کی بھوک ہڑتال ختم ہوئی ہے لیکن ہمارا احتجاج ختم نہیں ہوا ہے۔ دہلی کے جنتر منتر پر آج بھی کاکروچ جنتا پارٹی( سی جے پی)کے سربراہ ابھیجیت دپکے اور دیگر نوجوان احتجاج کررہے ہیں۔ان کی حمایت کرنے کیلئے ہم شیو تیرتھ پر قومی پرچم لے کر وندے ماترم گانے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔‘‘انہوںنے مزید کہا کہ’’مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لینا ہی چاہئےاور جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیتے،ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔‘‘
’’جب جب وہ ڈرتے ہیں ، ہندومسلم کی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘
آدتیہ ٹھاکرےنے گزشتہ روز وزیر اعظم کے انسٹا گرام پیغام کے تعلق سے مظاہرین سے پوچھا کہ کیا انہوں نے یہ ویڈیو دیکھا ہے؟تو اکثریت نے ’ہاں‘ میں جواب دیا۔ اس کے بعد آدتیہ ٹھاکرے نے مجمع سے متعدد سوالات پوچھے کہ’’لاٹھی کھانے کے بعد کیا آپ ان کے دوست بن سکتے ہو؟آنسو گیس کے گولے داغے جانے کے بعد کیا آپ ان کے دوست بن سکتے ہو؟ پیپر لیٖک ہونے کےبعد کیا آپ ان کےدوست بن سکتے ہو؟ آئین بدلنے کی کوشش کرنے اور ظلم کرنے والوں کے کیا آپ دوست بن سکتے ہو؟ جب جب وہ ڈرتے ہیں ہندو مسلم کی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیا تم ان کے دوست بن سکتے ہو؟جب بھی وہ ڈرتے ہیں ذات اور مذہب میں عوام کوتقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں تو کیا ان کے تم دوست بن سکتے ہو؟اور جو ناگزیر حالات میں ہمارے بیچ نہیں لیکن بیرون ملک چلے جاتے ہیں تو ایسوں کےتم دوست بن سکتے ہو؟جب تک دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے کیا تم خاموش بیٹھنے والے ہو؟‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ’’ یہ چھترپتی شیواجی مہاراج، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور بالا صاحب ٹھاکرے کی سرزمین ہے اور ہم کبھی بھی دہلی کے سامنے نہیں جھلیں گے ۔پیار سے بات کروگے تو پیار ملے گا اورڈرانے آؤگے تو درد ملے گا۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپر سے متعلق مقدموں کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتوں کا قیام
’’تمہاری وجہ سے ملک زندہ ہوگیا ہے‘‘
امیت ٹھاکرے نے کہا کہ شیواجی پارک میں تمہاری طاقت نظر آرہی ہے اور تمہارا پیغام دہلی تک پہنچ رہا ہےلہٰذا ہم آپ لوگوں کے’ فین ‘ہو گئے ہیں ۔تم جو کر رہے ہوں، وہ صحیح ہے اور تمہاری وجہ سے ملک زندہ ہو گیا ہے۔ تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا اور نہ ہی تمہارے خلاف کوئی مقدمہ درج جائےگا۔
اتوار کے مارچ میں شرکت کی اپیل
شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نےشیواجی پارک پر ترنگا ریلی میں کہا کہ مَیں حکومت کو وارننگ دیتا ہوں کہ تمہارے ہاتھ میں بندوق اور لاٹھی ہے لیکن ہمارے ہاتھوں میں آج ترنگا ہے، اس سے لڑنے کی آج تک کسی میں ہمت نہیں ہوئی ہے ۔ تم لاٹھی اور بندوق لے کر آؤ ہم ترنگا لے کر آئیں گے، دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے؟ ادھو ٹھاکرے اور تشار گاندھی چھوٹے سے عارضی اسٹیج پر کھڑے ہوئے اوراس کے بعد قومی ترانہ’جن گن من‘گایا گیا ۔اس موقع پر ادھوٹھاکرےنے اتوار کوبھی اسی طرح ترنگا لے کر شیواجی پارک سے سدھی ونائیک مندر تک نکالے جانے والے مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔ اس ریلی میں بھی جمعہ کی ریلی کی طرح کسی سیاسی پارٹی کا پرچم لانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔