ہائی کورٹ نے کہا : جو لوگ قانون کی پاسداری کرتے ہیں، انہیں اجازت کے باوجود فلیٹ میں تبدیلی یا توسیع کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن بہت سے لوگ بغیر اجازت تبدیلی یا توسیع کرتے ہیں ، انہیں اکثر روکا تک نہیں جاتا۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 12:17 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
ہائی کورٹ نے کہا : جو لوگ قانون کی پاسداری کرتے ہیں، انہیں اجازت کے باوجود فلیٹ میں تبدیلی یا توسیع کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن بہت سے لوگ بغیر اجازت تبدیلی یا توسیع کرتے ہیں ، انہیں اکثر روکا تک نہیں جاتا۔
شہر کی ایک عمارت میں ٹیریس فلیٹ میں کی جانے والی تعمیراتی تبدیلی اور کھلے ہوئے ٹیریس کو بند کرنے کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی ۔ اس معاملہ پر شنوائی کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے فلیٹوں یا مکانوں میں توسیع کرنے یا تعمیراتی تبدیلی کرنے کے علاوہ غیر قانونی توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ فلیٹوں یا مکانوں میں کی جانے والی توسیع یا تعمیراتی تبدیلی سے متعلق حکومت کو یکساں قانون بنانا چاہئے اور ایسے رہنما خطوط بنانا چاہئے جس سے مکینوں کو سہولت ہو نہ کہ انہیں ہراساں کیا جائے ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: شیواجی پارک: ادھو ٹھاکرے کی سی جے پی کی حمایت میں بنا اجازت ریلی کیخلاف۳؍کیس درج
ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمل کاتھا کے روبرو کلمبولی میں واقع ایک رہائشی عمارت کے کھلے ٹیریس کو بنااجازت غیر قانونی تعمیرات کرنے کےخلاف عرضداشت داخل کی گئی تھی ۔ مذکورہ عمارت کے فلیٹ میں ٹیریس کو بنا اجازت بند کرنے اور بلڈنگ پلان کے خلاف تعمیرات کرنے پر کورٹ نے جہاں پنویل شہری انتظامیہ کو مذکورہ حصہ کو منہدم کرنے کا حکم دیا ہے وہیں کورٹ نے شہر و مضافات یا ریاست میں اس طرح کی غیر مجاز تعمیرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ فلیٹوں یا مکانوں میںتبدیلی یا توسیع کے مقصد سے کی جانے والی تعمیرات کیلئے درخواست دینے کے باوجود اجازت نہیں دی جاتی یا اتنی شرائط عائد کردی جاتی ہے کہ لوگ تعمیرات یا توسیع کا ارادہ ہی ترک کر دیتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اکثر بنا اجازت کے غیر قانونی تعمیرات کرتے ہیں اور مکانوں یا فلیٹوں میں توسیع بھی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی بھی نہیں کی جاتی اور نہ ہی انہیں روکا جاتا ہے ۔‘‘ کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ اکثر شہری انتظامیہ مذکورہ معاملہ میں دوہرا معیار رکھتا ہے ۔اس طرح کےمعاملات میںبلدیاتی اداروں کے متعلقہ افسران و اہلکار بنا اجازت غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں سے سانٹھ گانٹھ کرکے خاموش رضا مندی ظاہر کردیتے ہیں اور شکایت کے باوجود کارروائی نہیں کرتے جبکہ قانون کی پابندی کرنے والے اکثر شہریوں کو اجازت لینے کے باوجود نہ تو توسیع کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی اندورن فلیٹ یا مکان کسی تبدیلی کی اجازت دی جاتی ہے ۔شہری انتظامیہ کے متعلقہ افسران کا یہ غیرمنصفانہ رویہ ہی لوگوں کو غیر قانونی تعمیرات یا توسیع پر مجبور کرتا ہے ۔‘‘ دو رکنی بنچ نے مزید کہا کہ مذکورہ درخواست اور اس طرح کے مسائل کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت یا شہری انتظامیہ نے اس ضمن میں کوئی رہنما اصول نہیں بنایا ہے ۔ کورٹ نے حکومت اور شہری انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اس ضمن میں جامع رہنما خطوط ترتیب دیں اور ایسی پالیسی بنائیں جس سے ہر شہری آسانی سے گھروں میں تعمیرات یا توسیع کر سکیں ۔