امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے’’ سنگھ کو گاڑی چلانی نہیں آتی‘‘ کے عنوان سے ایک پوسٹ کیجسے ہند مخالف قرار دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 10:01 PM IST | Washington
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے’’ سنگھ کو گاڑی چلانی نہیں آتی‘‘ کے عنوان سے ایک پوسٹ کیجسے ہند مخالف قرار دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سےسوشل میڈیا ویب سائٹ پر کی گئی ایک پوسٹ، جس میں کہا گیا تھا کہ ”مسٹر سنگھ کو گاڑی چلانی نہیں آتی“، آن لائن تنقید کی زد میں آ گئی۔ سیاست دانوں اور ہندوستانی تارکینِ وطن گروپوں نے اسے نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔بدھ کو ایکس پر کی گئی اس پوسٹ میں مصنوعی ذہانت سے بنایا گیا ایک پوسٹر تھا، جس میں ٹرانسفارمرز کے کردار آپٹمس پرائم اور ایک بھورے رنگ کے آدمی کو ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تصویر میں لکھا تھا: ”خود ہی ملک بدر ہو جاؤ ورنہ انجام بھگتو۔“پوسٹر میں کہا گیا تھا: ”امریکہ امریکیوں کے لیے۔ ہماری سڑکوں سے ہٹ جاؤ، تمہیں گاڑی چلانی نہیں آتی مسٹر سنگھ۔“تصویر میں موجود آدمی کی شکل اگست ۲۰۲۵ءمیں فلوریڈا میں گرفتار ہندنژاد ٹرک ڈرائیور سے ملتی جلتی تھی، جسے ایک ایسے حادثے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات دوپہر۱۲؍ بجے تک اس پوسٹ کو۴۲؍ لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا تھا اور اسے ایک ہزار سے زیادہ بار ری پوسٹ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ پوسٹ محکمے کی جانب سے خود ایک ویڈیو کے جواب میں کی گئی تھی، جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ امریکہ میں مقیم مبینہ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی اطلاع دیں۔نارتھ امریکن پنجابی ٹرکرز ایسوسی ایشن کا اندازہ ہے کہ امریکہ میں ٹرک ڈرائیونگ کے شعبے میں پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والےایک لاکھ ۳۰؍ہزار سےڈیڑھ لاکھ ڈرائیور ملازم ہیں۔‘تاہم اس پوسٹ پر امریکہ کے سیاست دانوں اورہندوستانی تارکینِ وطن گروپوں نے تنقید کی۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ماہوا موئترا نے کہا کہ امریکی محکمہ ہندوستانیپنجابیوں کو یہ بتا رہا ہے کہ انہیں گاڑی چلانی نہیں آتی، جسے انہوں نے نسل پرستانہ اشتہار قرار دیا۔موئترا نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں۔ علاوہ ازیں مشی گن ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں ڈیموکریٹس کے لیڈر رنجیو پوری نے کہا کہ وہ ایک فخریہ امریکی سکھ ہیں اور ان کا درمیانی نام سنگھ ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا: ”یہ نام کوئی لطیفے کی بات نہیں، بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں سکھوں کا فخر سے پکارا جانے والا خاندانی نام ہے، جن کی نسلوں نے اس ملک کی خدمت کی، کاروبار بنائے اور جمہوریت کے تانے بانے کو مضبوط کیا۔“انہوں نے کہا: ”جب کوئی سرکاری حکومتی ادارہ لوگوں کے نام، عقیدے یا ان کی شکل و صورت پر مذاق اڑاتا ہے تو یہ طاقت نہیں ہے۔ یہ عوامی پالیسی کا لباس پہنے ہوئے اجنبیوں سے نفرت ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی بیان بازی امریکہ کو تقسیم کرتی ہے اور ان حقیقی چیلنجوں سے توجہ ہٹاتی ہے جنہیں حل کرنے کے لیے امریکیوں کو واشنگٹن کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پرھئے: جرمنی کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی: نکاراگوا
اس کے علاوہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن، ایک غیر منافع بخش ادارہ جو امریکہ میں ہندوؤں کی وکالت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، نے کہا کہ سنگھ ہندو، سکھ اور امریکی بھی ہیں، اور وہ گاڑی بھی چلاتے ہیں۔اس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی طرف سے نسل پرستانہ، غیر امریکی، ہندمخالف پروفائلنگ/ٹرولنگ کوہماری قوم کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے۔اس تنظیم نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وفاقی ادارے کی جانب سے امتیازی پوسٹ ہے جو سیاسی پیغام رسانی سے کہیں آگے کی بات ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور وکالتی گروپ، کولیشن آف ہندوز آف نارتھ امریکہ، نے کہا کہ اگرچہ قانون نافذ ہونا چاہیے، لیکن پوری برادریوں کا مذاق نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اس گروپ نے کہا کہ خطرناک ڈرائیور ہر پس منظر، نسل، عقیدے اور خاندانی نام سے تعلق رکھتے ہیں۔اس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا، ’’کچھ مخصوص خاندانی ناموں کو نشانہ بنانے سے محفوظ سڑکوں کے لیے کچھ نہیں ہوتا، البتہ اس سے سنگھ اور کمار جیسے ناموں والے لاکھوں امریکیوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔‘‘گروپ نے کہا، ”جب امریکی حکومت کا کوئی سرکاری اکاؤنٹ کسی بھورے رنگ کے شخص کو ’غیر ملکی‘ اور ’غیر امریکی‘ دکھاتا ہے تو ہندوؤں اور ہندوستانی امریکیوں کو نشانہ بنانے کا کھلا میدان بن جاتا ہے، جن میں قانونی رہائشی اور شہری بھی شامل ہیں۔“اس نے مزید کہا کہ لاکھوں قانون کی پاسداری کرنے والے ہندو، سکھ اور ہندوستانی امریکیوں کو بدنام کرنا بند کیا جائے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں کئی ایسے واقعات درج ہوئے ہیں جن میں امریکہ میں ہندنژاد ٹرک ڈرائیوروں کو تجارتی گاڑیوں کے مہلک حادثات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا اور الزامات عائد کیے گئے۔یہ گرفتاریاں جنوری۲۰۲۵ء میں شروع ہونے والی ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران امیگریشنکے خلاف مہم کے پس منظر میں بھی ہوئیں۔امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے پیمانے پر جلاوطنی کے پروگرام پر عمل کر رہی ہے، جو انتخابات سے قبل ان کی مہم کا ایک بڑا وعدہ تھا۔دریں اثناء مرکزی حکومت نے جون میں پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ۲۰۲۵ء میں۳۵۰۰؍ سے زیادہ ہندوستانی شہریوں کو اور۲۰۲۶ء میں۱۱۰۰؍ سے زیادہ کو امریکہ سے ملک بدر کیا گیا۔