سینٹرل ریلوے نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک چھوٹے سے بلاک کے دوران ماٹونگا اور کرلا کے درمیان سائن میں ’روڈ اوور بریج(آر او بی)‘ کی از سر نو تعمیر میں اہم کام انجام دیتے ہوئے ایک ۵۰۰؍ ٹن وزنی گرڈر بچھادیا۔
سائن بریج۔ تصویر:آئی این این
سینٹرل ریلوے نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک چھوٹے سے بلاک کے دوران ماٹونگا اور کرلا کے درمیان سائن میں ’روڈ اوور بریج(آر او بی)‘ کی از سر نو تعمیر میں اہم کام انجام دیتے ہوئے ایک ۵۰۰؍ ٹن وزنی گرڈر بچھادیا جس کی وجہ سے اس بریج کی تکمیل جلد ہونے کی امید ہے۔ اس پل کا کام مکمل ہوناسی ایس ایم ٹی سے کرلا کے درمیان لوکل ٹرینوں کیلئے پانچویں اور چھٹی لائن بچھانے کے پروجیکٹ میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔واضح رہے کہ قدیم سائن بریج کو از سر نو تعمیر کیلئے بند کردیا گیا تھا۔ اس کی تعمیر نو میں اس بات کا خیال رکھا جارہا ہے کہ نیچے سے گزرنے والی ریلوے لائن میں پانچویں اور چھٹی لائن کے ٹریک شامل ہوسکیں۔ بریج کی تعمیر میں پہلے سے تیار شدہ اسٹیل کا بنا ہوا ۵۰۰؍ ٹن وزنی گرڈر بریج کے حصہ کے طور پر بچھانا تھا۔ یہ کام گزشتہ رات مکمل کرلیا گیا۔یہ گرڈر امبالا میں مختلف حصوں میں تعمیر کیا گیا تھا اور ان حصوں کو کلیان میں ریلوے لائن کے آخری سرے کے علاقہ میں جوڑا گیا اور پھر سائن لاکر بریج کی جگہ پر بچھادیا گیا ۔ سائز میں بہت زیادہ بڑا اور وزنی ہونے کے باوجود اسے کامیابی کے ساتھ اس کے مقام پر رکھ دیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ ۲؍ مراحل میں پورا کیا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں قدیم پل کو منہدم کیا گیا ہے اور دوسرے مرحلے میں اسٹیل کے گرڈر بچھا کر نیا پل بنایا جائے گا۔ اگرچہ اس بریج کو ۱۸؍ مہینوں میں تعمیر کرنے کا ہدف طے کیا گیا تھا لیکن بہت زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود اب تک یہ مکمل نہیں ہوسکا ہے۔
شیل پھاٹا میں ۳۰؍ تا ۳۵؍ سال پرانی دکانوں کے خلاف انہدامی کارروائی روکنے کا مطالبہ
تھانے میونسپل کارپوریشن(ٹی ایم سی) کی جانب سے ممبرا کے قریب شیل علاقے میں واقع اچار گلی میں ۳۰؍ تا ۳۵؍ برس پرانی دکانوں اور گالوں کو بغیر کوئی نوٹس دیئے منہدم کرنے کی کارروائی پیر کو شروع کی گئی ۔ اس کارروائی کے خلاف علمائے کرام اور مقامی دکانداروں پر مشتمل ایک وفد نے مجلس اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم) کے ٹی ایم سی میں گروپ لیڈر سیف پٹھان کے ساتھ مل کر تھانے کی میئر شرمیلا پمپولولکر اور میونسپل کمشنر سوربھ راؤ، ایڈیشنل میونسپل کمشنر سے ملاقات کی اور اس انہدامی کارروائی کو فوراً روکنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران سیف اور علمائے کرام نے بتایاکہ شہری انتظامیہ نے کوئی نوٹس دیئے بغیر ہی اچانک انہدامی کارروائی شروع کر دی ہے جو دکانداروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پہلے متاثرین کو نوٹس دیا جائے، سروے کیا جائے، ان کا جواب لیا جائے اور اس کے بعد اگر کوئی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہو تو قانونی کروائی کی جائے۔میونسپل کمشنر اور میئر نے وفد کی باتوں کو سنجیدگی سے سنا اور انہدامی کو روکنے کا یقین دلایا ہے۔ ان عہدیداروں نےافسران کو قانون کےمطابق کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وفد میں جمعیۃ علماء کے حافظ کرم حسین ،مولانا ارشد کمال حافظ محمد ایوب ،حافظ عظمت، اکبر چاچا، نظام صدیقی، دیونت جیسوال، افضل خان اور دیگرافراد موجود تھے۔