• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر :جھارکھنڈ اور دہلی میں مسلم اور دلت نام کاٹنے کیلئے بی جے پی سرگرم

Updated: September 03, 2026, 9:00 AM IST | Agency | New Delhi

ملک کے معروف وکیل کپل سبل کا سنسنی خیز الزام ، الیکشن کمیشن نے بی جے پی ایجنٹوں کے ذریعے جمع کرائے گئے فارم کے تعلق سے انکوائری کا حکم دے دیا۔

Serious questions have been raised about the entire FIR process from the very beginning. Picture: INN
ایس آئی آر کے پورے عمل پر شروع سے ہی سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ایس آئی آر سے مسلمانوں اور دلتوں کے نام کاٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ جھارکھنڈ اور دہلی میں خصوصاً ایسی کوششیں کی جارہی ہے اور یہ کام بی جے پی کے ایجنٹ کررہے ہیں۔ یہ سنسنی خیز الزام ملک کے معروف وکیل اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے لگایا اور کہا کہ  اس سلسلے کو روکنے کی ضرورت ہے ورنہ ایس آئی آر کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کپل سبل  نے  ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ جھارکھنڈ ایس آئی آر میں ’اخراج کی سیاست‘ ہو رہی ہے۔ کپل سبل کے الزامات اور میڈیا رپورٹس کے بعدالیکشن کمیشن نے اس معاملے میں انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے ایجنٹوں کی جانب سے بی ایل او کو ’بلک ‘ میں فارم ۷؍ دئیے گئے تھے اور کئی نام کاٹنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ یہ تمام نام مسلم ووٹرس کے تھے۔ اس پر بی ایل او نے اعتراض کیا تھا لیکن بی جے پی ایجنٹ نام حذف کروانے پر مصر تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۲۰۰؍ سال بعد خاندان میں بیٹی کی پیدائش، جشن کا اہتمام

اس معاملے میںکپل سبل نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر ایک ایسی مشق ہے جس کا مقصد ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کرنا اور بی جے پی کو انتخابات میں کامیابی دلانے میں مدد دینا ہے۔ سبل نے الزام عائد کیا کہ کیا کسی بھی سیاسی پارٹی کا ممبر یا کارکن کسی شخص کے بارے  میں یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ یہاں نہیں رہتا اور اس کا نام ہٹا دیا جانا چا ہئے؟ بی ایل او کے پاس بڑی تعداد میں فارم ۷؍جمع  کئے گئے، پھر نام ہٹا دئیے گئے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی ایل او نے اس کی مخالفت کی کیوںکہ اس کے پیچھے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ جب یہ معاملہ سامنے آیا تو پتہ چلا کہ جن جگہوں پر ایس آئی آر کے تحت فارم۷؍ بھرے جا رہے تھے وہاں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بہار: نیپال کے سیلاب کے بعد نامعلوم مچھلیاں کھانے کے خلاف حکومت کا انتباہ

کپل سبل کے مطابق پھر پتہ چلا کہ وہ وہاں صدیوں سے رہ رہے تھے۔راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ میں اپوزیشن کی حکومت ہے اس لیے وہاں دباؤ نہیں ڈال سکتے لیکن جہاں ان (بی جے پی) کی اپنی حکومت ہے وہاں انہوں نے من مانی کی تو پھر ایس آئی آر کا کیا مطلب ہے؟ سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو یہ متنازع ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو لوگ بی جے پی کے ووٹرس نہیں ہیں ان کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔ دریں اثناءدہلی کی ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کے نام کٹنے والے ہیں۔ ۳۱؍ اگست کو ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کے بعد جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ۴۷؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار ۷۲۲؍ ووٹرس کے نام شامل نہیں ہیں۔ دہلی میں مجموعی طور پر ایک کروڑ  ۴۵؍ لاکھ ۱۰؍ ہزار۲۹۹؍ رجسٹرڈ ووٹرس ہیں  یعنی تقریباً ۳؍ میں سے ایک ووٹر کا نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہے۔ دہلی اسمبلی سیٹوں میں جہاں دلتوں اور مسلمانوں کا ووٹ زیادہ ہے، وہاں کافی تعداد میں ووٹرس ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہیں۔ خصوصاً ایس سی ریزرو سیٹوں پر نام نہیں ملنے والے ووٹرس کی تعداد زیادہ ہے۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سبھی لوگوں کے نام حتمی طور پر ووٹر لسٹ سے کٹ گئے ہیں۔ ڈرافٹ رول میں ۹۷؍ لاکھ ۵۶۳؍ ہزارووٹرس کے نام شامل کیے گئے ہیں، جن لوگوں کے نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں، انہیں دعویٰ اور اعتراض داخل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ جانچ کے بعد صحیح ثابت ہونے والے نام حتمی لسٹ میں شامل  کئےجا سکتے ہیں۔  ایس آئی آر کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق تغلق آباد اسمبلی سیٹ پر  ۹۲؍ ہزار اینومریشن فارم نہیں ملے۔ یعنی یہاں ۴۷؍فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے بعد اوکھلا میں۴۵؍ فیصدر ووٹرس ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہیں۔ بدرپور میں یہ اعداد و شمار۴۲ء۶؍ فیصد ہے۔ مہرولی میں ۴۱؍ فیصد ہے،  پٹ پڑگنج میں ۴۰؍ فیصد اور براڑی میں ۳۹؍فیصد ہے۔  واضح رہے کہ یہ وہ سیٹیں ہیں جہاں دلت اور مسلم ووٹرس کا فیصد زیادہ ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK