’کون بنے گا کروڑپتی‘ میں ایک کروڑروپے کا سوال چھوڑنے والا نوجوان کون ہے؟ یہ اپنے خواب کیلئے ایک’ جاب آفر‘بھی ٹھکراچکا ہے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 4:49 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
’کون بنے گا کروڑپتی‘ میں ایک کروڑروپے کا سوال چھوڑنے والا نوجوان کون ہے؟ یہ اپنے خواب کیلئے ایک’ جاب آفر‘بھی ٹھکراچکا ہے۔
یوگیش ساہو نامی نوجوان ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں ایک کروڑ روپے کا سوال چھوڑنے کے بعد موضوع بحث ہے۔ اس نے شو کے میزبان امیتابھ بچن کے ساتھ ساتھ ناظرین کو بھی اپنی معلومات اور صلاحیت سے متاثر کیا۔ تاہم، اس نوجوان کا سفر۵۰؍لاکھ روپے کی انعامی رقم تک ہی رہا۔ معلوم ہوکہ ۲۳؍سالہ یوگیش ساہو، جو چھتیس گڑھ کے بھاٹ پاڑا سےتعلق رکھتا ہے۔اس نے مسلسل کئی سوالات کے درست جواب دے کر اس اہم مرحلے تک رسائی حاصل کی۔ لیکن جب تک وہ ایک کروڑ روپے کے سوال تک پہنچا تو کھیل کیلئے اس کی تمام ’لائف لائنز‘ یعنی جواب کیلئےمدد کے متبادل ختم ہوچکے تھے۔یوگیش کیلئے ایک کروڑ روپے کا سوال تھا:’’مہاراجا آف بڑودہ کی ملکیت میں سے کس گھوڑے نے ۱۹۴۳ء میں ممبئی کے مہالکشمی ریس کورس میں ہونے والی پہلی انڈین ڈربی جیتی تھی؟‘‘ اس سوال کے چار’آپشن‘ یہ تھے:(اے) پرنسس بیوٹی فل، (بی) ریگل ڈومین، (سی) اسٹار آف گوالیار،(ڈی)پرنس پردیپ۔ یوگیش نے اپنی۵۰؍ لاکھ روپے کی یقینی انعامی رقم کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے کھیل چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سوال کے جواب تک پہنچنے کیلئے آپشنز کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن پرنسس بیوٹی فل کو اس بنیاد پر خارج کردیا کہ سوال میں’ہارس‘ یعنی گھوڑا کہا گیا تھا، جبکہ پرنسس بیوٹی فل ایک مادہ گھوڑا (mare) تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پرنسس بیوٹی فل ہی اس سوال کا درست جواب تھا۔ایپی سوڈ نشر ہونے کے بعد ساہو نے مبینہ طور پر وضاحت کی کہ انہیں لگا کہ اگر مطلوبہ جواب مادہ گھوڑا تھا تو سوال کی زبان مختلف انداز میں لکھی جاتی۔ اسی تشریح کی وجہ سے اس نے درست جواب کو خارج کردیا۔اس کے بعد سوشل میڈیا پر سوال کی زبان اور آخری مرحلے کی مشکل کے حوالے سے بھی بحث ہوئی۔ایک کروڑ روپے جیتنے کا موقع گنوانے کے باوجود ساہو کی’کے بی سی‘ میں شرکت نے ان کے تعلیمی پس منظر اور مستقبل کے عزائم کی وجہ سے خاص توجہ حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: ’بی ایچ ای ایل‘ تریچی میں اپرنٹس بھرتی، گریجویٹس، ٹیکنیشین اور ٹریڈاپرنٹس کیلئے موقع
آئی آئی ٹی بامبے سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر ۱۸؍ لاکھ روپے کی کیمپس پلیسمنٹ کی پیشکش ٹھکرا دی اور یو پی ایس سی امتحان کی تیاری پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ کارپوریٹ ملازمت کے بجائے سول سروسیز کا انتخاب بھی ان کی’کے بی سی‘شرکت کے حوالے سے گفتگو کا ایک اہم موضوع بن گیا۔ ساہو کے لِنکڈاِن پروفائل کے مطابق، اس نے نومبر۲۰۲۱ءسے اپریل۲۰۲۵ء کے دوران انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بامبے سے الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس انجینئرنگ میں بی ٹیک کیا۔اس نے ایچ ایس ایم گلوبل پبلک اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی، جہاں سےجولائی۲۰۲۰ء سے جولائی۲۰۲۱ء تک ہائی اسکول ڈپلوما کیا۔ اس کی تعلیمی کامیابیوں میں جے ای ای ایڈوانسڈ میں۱۶۸۳؍ رینک اور جے ای ای مین میں۹۹ء۵؍ اسکور بھی شامل ہیں۔ اگرچہ یوگیش ساہو کروڑ پتی نہیں بن سکا، لیکن کے بی سی میں اس کی کارکردگی نے اسے خاصی شہرت دلائی ہے۔
یوگیش ساہو کے والد پیشے سے ڈرائیور ہیں
خیال رہے کہ یوگیش ساہو کے والدگیا رام ساہو پیشے سے ڈرائیور ہیں اور وہ مہاراشٹر کے سابق گورنررمیش بیس کے ڈرائیور ہیں۔ معاشی مشکلات کے باوجود یوگیش نے اپنی تعلیم میں مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یو پی ایس سی پریلیم امتحان بھی پہلی ہی کوشش میں پاس کرلیا ہے اور فی الحال وہ مین امتحان کی تیاری کر رہے ہیں۔