• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت کی ترقی سست ، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا نقصان کا خدشہ

Updated: November 06, 2026, 4:10 PM IST | New York

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت میں ترقی کی رفتار سست پڑنے کے خدشات نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست ہلچل پیدا کردی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ارب پتی کاروباری شخصیات کو ایک ہی دن میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Musk And Huang.Photo:INN
مسک اور ہوانگ۔ تصویر:آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت میں ترقی کی رفتار سست پڑنے کے خدشات نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست ہلچل پیدا کردی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ارب پتی کاروباری شخصیات کو ایک ہی دن میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ نئی سیاسی صورتحال میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً ڈیٹا سینٹروں کی تعمیر پر سخت پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔ اس خدشے نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص پر فروخت کا دباؤ بڑھا دیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیت ایلون مسک، این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ اور دیگر معروف ارب پتیوں کی دولت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 
۵؍نومبر کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل نیس ڈیک کمپوزٹ انڈیکس ۵ء۵ فیصد گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی ۵۰۰ ؍انڈیکس میں ۴ء۴ ؍فیصد اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں ۳ء۴ ؍فیصد کی کمی درج کی گئی۔ نیس ڈیک کی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً ۲ء۵ ؍ٹریلین ڈالر صاف ہوگئے۔ یہ اپریل ۲۰۲۵ء کے بعد امریکی بازار حصص کی بدترین گراوٹ میں سے ایک رہی۔

یہ بھی پڑھئے:راجیہ سبھا کے رکن بننے کے بعد بھی تھرڈ کلاس میں سفر کرتے تھے پرتھوی راج کپور

سرمایہ کاروں کی تشویش کا بنیادی سبب یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی، کمپیوٹنگ صلاحیت اور ڈیٹا سینٹرس کی تعمیر پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اب اس سرمایہ کاری سے متوقع منافع اور اس کی پائیداری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔  دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیات میں شامل ایلون مسک کو اس گراوٹ سے سب سے بڑا ذاتی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ فوربس کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی دولت میں ایک دن کے دوران تقریباً ۷۴ ؍سے ۸۰ ؍ارب ڈالر تک کی کمی کا تخمینہ لگایا گیا۔ٹیسلا کے حصص میں تقریباً ۱۱؍فیصد جبکہ اسپیس ایکس سے متعلق حصص میں تقریباً ۸ ؍فیصد گراوٹ نے ان کی مجموعی دولت کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ۵ ؍نومبر کی رات تک ان کی دولت تقریباً ۷۸۹ء۵ ؍ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ مسک کی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں بھی ۳۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی کا تخمینہ سامنے آیا۔  مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سب سے اہم کمپنیوں میں شمار ہونے والی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو جینسن ہوانگ کو بھی بھاری نقصان ہوا۔ فوربس کے مطابق ان کی دولت میں ایک ہی دن میں تقریباً ۱۵ء۸ ؍ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔
این ویڈیا کے حصص میں تقریباً ۹؍ فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ قدر میں تقریباً ۴۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔ حصص کی قیمت میں اس کمی کے باعث ہوانگ دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست سے بھی نیچے آگئے۔ مصنوعی ذہانت کے لیے جدید چپس کی بڑھتی ہوئی مانگ نے گزشتہ برسوں میں این ویڈیا کو غیر معمولی بلندیوں تک پہنچایا تھا، لیکن اب ڈیٹا سینٹرس کی تعمیر میں ممکنہ سست روی کے خدشات نے کمپنی کے مستقبل کے کاروبار پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:AMU طلبہ یونین انتخابات: نعمان اشرف صدر، نشریٰ نعیم پہلی خاتون نائب صدر منتخب

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دولت بھی اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ سے متاثر ہوئی۔ فوربس کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی دولت میں ۵ ؍نومبر کی صبح تقریباً ۲۱۹؍ ملین ڈالر کی کمی ہوئی۔ اس کی بڑی وجہ ان کی کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کے حصص میں تیز گراوٹ بتائی گئی ہے۔ٹرمپ کے پاس اس کمپنی کے تقریباً ۴۱؍ فیصد حصص ہیں۔ انتخابات کے بعد کمپنی کے حصص میں مسلسل گراوٹ کے باعث ان کی ذاتی دولت بھی متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً ۶ء۳؍ ارب ڈالر رہ گیا تھا، جو دو روز قبل تقریباً ۶ء۵ ؍ارب ڈالر تھی۔ امریکہ میں ۳ ؍نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ نئی سیاسی قیادت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سخت ضابطے نافذ کرسکتی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹک امیدواروں نے کئی علاقوں میں ڈیٹا سینٹرس کی بے تحاشہ تعمیر، بجلی کی بڑھتی ہوئی کھپت اور ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ مختلف ریاستوں میں ووٹرس نے ڈیٹا سینٹرس کی تعمیر پر پابندیوں یا سخت شرائط سے متعلق متعدد مقامی اقدامات کی حمایت بھی کی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ صورتحال تشویش کا باعث ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے بڑے ڈیٹا سینٹر، جدید سیمی کنڈکٹر چپس، بجلی اور بھاری کمپیوٹنگ صلاحیت بنیادی ضرورت ہیں۔ اگر ان مراکز کی تعمیر سست پڑتی ہے تو این ویڈیا، اے ایم ڈی اور دیگر چپ ساز کمپنیوں کے آرڈرس اور مستقبل کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK