Inquilab Logo Happiest Places to Work

سانپ کے کاٹنے کا معاملہ : آشرم اسکول کا لائسنس منسوخ کرنے کی وزیر اعلیٰ کی ہدایت

Updated: August 12, 2026, 11:34 AM IST | Ali Imran | Gadchiroli

گڈچرولی کے ایک پرائیویٹ آشرم اسکول میں سانپ کے ڈسنے سے ۳؍ طالبات کی موت کے افسوسناک واقعہ کے بعد انتظامیہ نے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

The injured girls were airlifted to Nagpur. Picture: INN
زخمی بچیوں کو ہیلی کاپٹر سے ناگپور لے جایا گیا۔ تصویر: آئی این این

گڈچرولی کے ایک پرائیویٹ آشرم اسکول میں سانپ کے ڈسنے سے ۳؍ طالبات کی موت کے افسوسناک واقعہ کے بعد انتظامیہ نے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں ادارہ کے ڈائریکٹر اور انتظامیہ کی غفلت ہے۔ ریاستی وزیر مملکت آشیش جیسوال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں ادارہ کے ڈائریکٹر، لاپتہ پرنسپل اور سپرنٹنڈنٹ کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کی ہدایت کے بعد جیسوال نے فوری طور پر جائے حادثہ کا دورہ کیا اور معائنہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کو تسلی دی۔ اس موقع پر انہوں نے آشرم اسکولوں کی خستہ حالی اور بدانتظامی کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی کے کرلا میں پہاڑی تودہ گرنے سے ۲؍ ہلاکتیں، ۶؍ سے ۸؍ افراد ملبے میں پھنسے

آشیش جیسوال نے بتایا کہ لڑکیاں گراؤنڈ فلور پر سو رہی تھیں۔ لکڑیوں اور اینٹوں کے کم از کم چار پانچ ٹرکوں کا ایک بہت بڑا ڈھیر کھڑکی کے پاس اور اس کمرے کی دیوار کے سامنے پڑا تھا۔ کمرے کے باہر پڑی اینٹوں اور لکڑی کے سہارے ایک ’انڈین کریٹ‘ (منیار) سانپ کھڑکی سے اندر داخل ہوا۔ جنگل کے علاقے میں بچوں کو گراؤنڈ فلور پر سونا اور کھڑکیوں پر جالی نہ لگانا بہت بڑی غفلت تھی۔ جیسوال نے بتایا کہ یہ آشرم اسکول پچھلے تقریباً ۲۸؍سال سے جاری ہے اور اس کی ملکیت کانگریس کے سابق رکن اسمبلی، رکن پارلیمان اور وزیر ماروت راؤ کوواسے کے پاس ہے۔ کروڑوں روپے کی گرانٹ ملنے کے باوجود لڑکیوں کے پاس سونے کیلئے سادہ بستر نہیں تھے، وہ شطرنجیوں پر سوتی تھیں۔ جیسوال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ادارے کو صرف گرانٹ لوٹنے کیلئے چلایا جارہا ہے اور طلبہ کو مناسب خوراک اور سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ واقعہ کی رات سپرنٹنڈنٹ آشرم اسکول میں موجود نہیں تھے اور پرنسپل بھی غائب تھے جبکہ ۹۰؍فیصد اساتذہ کیلئے ہیڈ کوارٹرز یا آشرم اسکول میں رہنا لازمی ہے، لیکن یہ بات سامنے آئی ہے کہ اساتذہ وہاں نہیں رہتے۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس آشرم اسکول کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK