گرفتارشدہ ۲۲؍ سالہ نوجوان پر نابالغ لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے کیلئے اکسانے کا الزام۔ دوسرا مقدمہ برطانوی شہری کے خلاف درج کیا گیا ہے جس پر مذہبی اجتماعات کے دوران لوگوں کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 11:47 AM IST | Agency | Pune
گرفتارشدہ ۲۲؍ سالہ نوجوان پر نابالغ لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے کیلئے اکسانے کا الزام۔ دوسرا مقدمہ برطانوی شہری کے خلاف درج کیا گیا ہے جس پر مذہبی اجتماعات کے دوران لوگوں کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ریاست میں نئے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ ۲۰۲۶ء نافذ ہونے کے چند ہی دن بعد پونے شہر پولیس نے اس کے تحت پہلا مقدمہ ۲۲؍ سالہ نوجوان کے خلاف درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اترپردیش سے تعلق رکھنے والے نوجوان پر الزام ہے کہ اس نے ایک نابالغ لڑکی جس کے ساتھ اس کے تعلقات تھے، سے مذہب تبدیل کرنے کو کہاتھا۔ اس قانون کے تحت پونے میں دوسرا مقدمہ برطانیہ کے شہری اور اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (اوسی آئی)کارڈ ہولڈر کے خلاف بھی درج کیا گیا ہے جس پر مذہبی اجتماعات کے دوران لوگوں کو عیسائیت اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔
مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ۲۰۲۶ءکو۳۱؍جولائی کو نوٹیفائی کیا گیا اور یکم اگست سے نافذ ہوا۔ پہلے معاملے میں پونے پولیس نے۵؍ اگست کو۲۲؍ سالہ نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق نوجوان اور نابالغ لڑکی اتر پردیش کے ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں کے درمیان تعلق قائم ہوا اور بعد میں وہ کرناٹک اور پھر پونے منتقل ہوگئے۔ سینئر انسپکٹر امول مورے کے مطابق ملزم کے خلاف اس قانون کی دفعہ۳؍ اور دفعہ۹؍کی ذیلی دفعہ۲؍ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دفعہ۳؍ میں زبردستی، دھوکہ دہی، لالچ، غلط بیانی، طاقت، دھمکی، ناجائز دباؤ یا دیگر ممنوعہ ذرائع سے مذہب تبدیل کرنے، اس کی کوشش کرنے یا اس میں مدد کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ نابالغ سے متعلق جرم میں دفعہ۹؍کی ذیلی دفعہ۲؍کے تحت ۷؍ سال تک قید اور ۵؍ لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خستہ حال سڑکوں اور ٹریفک جام کے سبب ۲۰؍ کمپنیاں پونے کو الوداع کہنے کیلئے تیار
پولیس کے مطابق ملزم نے نابالغ لڑکی سے مذہب تبدیل کرنے کیلئے کہا تھا۔ تاہم ایف آئی آر اور تفتیش کے دوران یہ طے کیا جائے گا کہ یہ کوشش کن حالات اور کن ذرائع سے کی گئی۔ چونکہ لڑکی نابالغ ہے اس لئے پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول اوفینسیس (پاکسو) ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی عائد کی گئی ہیں۔ ملزم گرفتار ہوچکا ہے اور فی الحال عدالتی حراست میں ہے۔
دوسرا مقدمہ برطانیہ کے شہری اور او سی آئی کارڈ ہولڈر کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مذکورہ شخص دعائیہ اجتماعات اور دیگر مذہبی پروگراموں میں شریک ہوتا تھا۔ تاہم مطلوبہ اجازت کے بغیر مذہبی وعظ یا تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس نے اس کی اس سرگرمیوں کی بنیاد پر نئے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو اسمبلی میں ’نیٹ‘ پیپر نظام ختم کرنے کی قرارداد منظور
نئے قانون میں زبردستی، دھوکہ دہی، لالچ، غلط بیانی، طاقت، دھمکی اور ناجائز دباؤ کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ قانون میں شادی یا شادی کے وعدے سے منسلک غیر قانونی تبدیلی مذہب سے متعلق بھی دفعات شامل ہیں۔ رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مند شخص یا تبدیلی مذہب کی تقریب منعقد کرنے والے ادارے کو مجوزہ تبدیلی سے کم از کم۶۰؍ دن قبل متعلقہ مجاز اتھاریٹی کو اطلاع دینی ہوگی۔