سابق کھلاڑی نے ہرمن کو دنیا کے بہترین ڈریگ فلکرمیں شمار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہاکی ورلڈ کپ میں ہندوستان کو طویل عرصہ بعد تمغہ دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 12:41 PM IST | Agency | New Delhi
سابق کھلاڑی نے ہرمن کو دنیا کے بہترین ڈریگ فلکرمیں شمار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہاکی ورلڈ کپ میں ہندوستان کو طویل عرصہ بعد تمغہ دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہندوستان کے عظیم ڈریگ فلکروں میں شمار کئے جانے والے جگراج سنگھ کے شاندار سفر پر ۲۰۰۳ء میں ایک کار حادثے نے فل اسٹاپ لگا دیا تھا لیکن انہیں ہرمن پریت سنگھ میں اپنا عکس نظر آتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ ہندوستانی کپتان اس ہفتے شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں ٹیم کے’ٹرمپ کارڈ‘ ثابت ہوں گے۔ جگراج سنگھ نے ایک انٹرویو میں کہا ’’اس وقت دنیا کے سرفہرست ۳؍ ڈریگ فلکروں میں سے ایک ہرمن پریت ہیں۔ وہ ٹوکیو اولمپکس کے وقت سے ہی شاندار کھیل رہے ہیں۔ ٹیم کی ضرورت کے وقت مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا کھلاڑی ہی ’ٹرمپ کارڈ‘ ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ ہرمن پریت ہوں گے۔ ان کی فٹنس بھی بہت اچھی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بندروں سے نمٹنے کی کوششوں کی پی وی سندھو نے حمایت کی
ہرمن میری طرح کھیلتے ہیں
ہرمن پریت کی طرح سرجیت ہاکی اکیڈمی سے ہی ابھرنے والے جگراج نے کہا’’ان کا کھیلنے کا انداز ہو بہو میرے جیسا ہے۔ ان کا کھیلنے کا طریقہ اور جارحیت مجھے میری یاد دلاتی ہے۔ ان میں مجھے اپنا عکس نظر آتا ہے۔ میں اکثر کہتا بھی ہوں کہ کھیل تو وہ رہے ہوتے ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں خود میدان پر موجود ہوں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ ہر ٹورنامنٹ یا کیمپ کے بعد ہرمن پریت سے ان کی بات چیت یا ملاقات ہوتی ہے اور وہ ان کے کھیل کو باریکی سے دیکھ کر انہیں قیمتی مشورے بھی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم باہر بیٹھ کر ان کی بہت سی چیزوں کو نوٹ کر سکتے ہیں اور ان کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔ یقینی طور پر کوچنگ اسٹاف بھی یہ کر رہا ہوگا لیکن میں نے ہرمن کے ساتھ کافی طویل وقت تک کام کیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فیفا صدارت کے لیے انفانٹینو کی راہ مشکل، ۱۲۴؍ اراکین مخالفت میں
انہوں نے مزید کہا’’یہ بھی ان کی بڑی خوبی ہے کہ وہ ہمیشہ سیکھنے کیلئے بے تاب رہتے ہیں اور رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اولمپکس کے ۲؍ تمغے اور اپنی کپتانی میں ایک تمغہ جیتنے کے باوجود ان کے پاؤں زمین پر ہیں۔ ان کے پاس جو خدا داد صلاحیتیں ہیں ایسا کھلاڑی برسوں میں ایک بار پیدا ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا ’’ہاکی میں اب جدید ٹیکنالوجی اتنی آگے آ چکی ہے کہ کوچنگ اور رہنمائی بہت ضروری ہو گئی ہے۔ ہر ٹیم کی توجہ ہرمن پریت پر ہوگی اور یقیناً مخالف ٹیموں نے ان کے کھیل کا مکمل ویڈیو تجزیہ کیا ہوگا۔ ایسے میں انہیں کچھ نیا کرنا ہوگا تاکہ حریف ٹیموں کو حیران کیا جا سکے۔‘‘یہ پوچھنے پر کہ ورلڈ کپ کیلئےانہوں نے کیا ٹپس دئیے ہیں تو جگراج نے کہا کہ پُشر، اسٹاپر اور فلکر کے بہترین تال میل سے ہی گول بنتا ہے اور اسی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ میں تو ہمیشہ ٹپس دیتا رہتا ہوں۔ فلکر کیلئے بال پشر سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر اس نے اچھی گیند دی اور اسٹاپر نے درست پرفارم کیا تو پھر گول کو کوئی نہیں روک سکتا۔ تینوں کا گیم پلان بہترین ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ دیگر فلکرز کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس بار ہاکی ورلڈ کپ ہمارا ہوگا: سلیمہ ٹیٹے
مسلسل کچھ نیا کرنا ضروری
جگراج سنگھ نے یہ بھی کہا کہ صرف ایک اچھا ڈریگ فلکر ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ موجودہ دور کی ہاکی میں مسلسل کچھ نیا کرتے رہنا اور میدان پر مجموعی کارکردگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا’’آج کی ہاکی میں صرف ایک ڈریگ فلکر ہونا کافی نہیں۔ آپ کی انفرادی صلاحیتیں، گول کرنے میں آپ کتنی مدد کر پا رہے ہیں اور باقی کھلاڑیوں کے ساتھ آپ کا تال میل کیسا ہے، یہ سب بہت اہم ہے۔ ہاکی ایک ٹیم گیم ہے اس لئے ساتھی کھلاڑی بھی ان کا پورا ساتھ دیتے ہیں۔ اس بار ٹیم کی باؤنڈنگ(تال میل) زبردست دکھائی دے رہی ہے۔مجھے امید ہے کہ اس بار ہمارے کھلاڑی شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتےہوئے میڈل جیت لیںگے۔‘‘
طویل عرصہ بعد تمغے کی امید
جگراج سنگھ کو پورا یقین ہے کہ یہ ہندوستانی ٹیم ۵۱؍ سال کے طویل انتظار کے بعد ورلڈ کپ کے پوڈیم پر رہنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا’’میری ہرمن سے یہی بات ہوئی تھی کہ تم نے ہمیں اولمپک کا تمغہ دلایا، کامن ویلتھ، ایشیاڈ اور ایشیا کپ کے تمام تمغے ہمارے پاس ہیں، بس ورلڈ کپ کا تمغہ کم ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس بار یہ کمی بھی پوری ہو جائے گی۔ اس ٹیم کی تیاری شاندار ہے اور اچھا تال میل نظر آ رہا ہے، اس لئے یہ ٹیم ۵۰؍سال کا طویل انتظار ختم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔طویل عرصہ سے ورلڈ کپ کا تمغہ ہم سے دور ہے اور امید ہے کہ اس بار ہماری ٹیم اس کمی کو پورا کر دے گی۔‘‘