• Sat, 17 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا کشش ثقل ختم ہوجائے گی؟ سوشل میڈیا پر وائرل دعویٰ کی حقیقت

Updated: January 17, 2026, 12:01 PM IST | Mumbai

سوشل میڈیا پر ایک وائرل تھیوری میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو زمین سات سیکنڈ کیلئے اپنی کششِ ثقل کھو دے گی، جس سے کروڑوں ہلاکتیں ہوں گی۔ تاہم، اس دعوے کی کوئی سائنسی یا سرکاری تصدیق موجود نہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک حیران کن اور خوف پھیلانے والا دعویٰ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ ۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو زمین تقریباً سات سیکنڈ کے لیے اپنی کششِ ثقل کھو دے گی۔ ان دعوؤں کے مطابق اس مختصر وقفے کے دوران ہر وہ چیز جو زمین سے مضبوطی سے جڑی نہیں ہوگی، اوپر کی طرف اڑ جائے گی اور جب کششِ ثقل دوبارہ بحال ہوگی تو شدید تباہی کے ساتھ نیچے آ گرے گی۔ ان وائرل ویڈیوز اور پوسٹس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں ۴۰؍ سے ۶۰؍ ملین افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ناسا کو اس مبینہ واقعے کا علم کئی برسوں سے ہے اور اسی وجہ سے خفیہ تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان پوسٹس کے مطابق امریکی اور عالمی لیڈروں، سائنسدانوں اور فوجی اہلکاروں کو محفوظ رکھنے کیلئے خصوصی بنکرز اور محفوظ مقامات تعمیر کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایسی جنگ بندی بے معنی ہے جس میں بچوں کی ہلاکتیں جاری ہیں: یونیسف

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام معلومات ناسا کی ایک مبینہ خفیہ دستاویز میں درج ہیں، جس کا عنوان ’’پروجیکٹ اینکر‘‘ بتایا جا رہا ہے۔ دعویٰ ہے کہ یہ دستاویز نومبر ۲۰۲۴ء میں آن لائن لیک ہوئی، جبکہ یہ منصوبہ مبینہ طور پر ۲۰۱۴ء میں شروع کیا گیا تھا۔ ان دعوؤں کے مطابق اس منصوبے کے لیے ۸۹؍ ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا گیا جس کا مقصد ۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو ہندوستانی وقت کے مطابق شام ۸؍ بجکر ۳؍ منٹ پر پیش آنے والی سات سیکنڈ کی کششِ ثقل کی بے ضابطگی کے دوران بقا کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ میں چلتی ٹرین پر کرین گر گیا، ۲۹؍افراد ہلاک ، ۶۴؍ سے زائد افرادزخمی

مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس مبینہ واقعے کی وجہ دو بلیک ہولز ہوں گے، جن سے نکلنے والی کششِ ثقل کی لہریں آپس میں مل کر زمین کے ثقلی نظام کو متاثر کریں گی۔ پوسٹس میں اس پیش گوئی کی درستگی ۷ء۹۴؍ فیصد تک بتائی گئی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بنکروں تک رسائی صرف مخصوص ’’اہم افراد‘‘ تک محدود رکھی جائے گی اور عام لوگوں کو اس بارے میں اس لیے آگاہ نہیں کیا جا رہا تاکہ عالمی سطح پر خوف و ہراس نہ پھیلے۔ تاہم ان دعوؤں پر سوشل میڈیا صارفین کا ردِعمل منقسم ہے۔ کچھ افراد اس تھیوری کو درست مان رہے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں صارفین اور سائنسی شعور رکھنے والے لوگ اسے بے بنیاد، غیر سائنسی اور غلط معلومات پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔ کئی صارفین نے وضاحت کی ہے کہ زمین کی کششِ ثقل کسی ایک کائناتی واقعے یا بلیک ہولز کے ٹکراؤ سے اچانک ختم نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی فوج ہائی الرٹ، سعودی، ترکی اور امارات کو انتباہ

اہم بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی سرکاری ادارے یا سائنسی تنظیم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، اور نہ ہی کوئی مستند سائنسی ثبوت موجود ہے جو یہ ثابت کرے کہ زمین کی کششِ ثقل اس طرح عارضی طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایک بے بنیاد پوسٹ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، جسے بغیر تحقیق کے بار بار شیئر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK