Updated: February 09, 2026, 9:56 PM IST
| Seoul
جنوبی کوریا کے معروف عالم اور پروفیسر ڈاکٹر حامد چوئی ینگ کل نے سات سال کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد قرآنِ مجید اور صحیح بخاری کا کورین زبان میں ترجمہ مکمل کیا۔ یہ علمی اور دینی خدمت کوریا میں قرآن فہمی، اسلامی تعلیم اور آنے والی مسلم نسلوں کے لیے ایک طویل مدتی وراثت قرار دی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر حامد چوئی۔ تصویر: ایکس
قرآنِ مجید کا ترجمہ محض ایک لسانی عمل نہیں بلکہ ایک گہرا دینی، فکری اور اخلاقی فریضہ ہوتا ہے۔ کوریا کے عالم ڈاکٹر حامد چوئی ینگ کل نے اسی فریضے کو سات برس کی خاموش، مسلسل اور انتہائی محتاط محنت کے ساتھ انجام دیتے ہوئے قرآنِ مجید کا کورین زبان میں ترجمہ مکمل کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کام ایسے معاشرے میں انجام پایا جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور بڑی تعداد عربی زبان سے براہِ راست واقف نہیں۔ اس تناظر میں قرآن کا معیاری کورین ترجمہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک دروازہ ہے، ایسا دروازہ جو قرآن فہمی، دینی شعور اور روحانی وابستگی کو نئی نسلوں تک منتقل کرے گا۔ علما کے مطابق، قرآن کے ترجمے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ مفہوم کی امانت برقرار رہے، نہ لفظی جمود پیدا ہو اور نہ مفہوم میں کمی یا زیادتی۔ ڈاکٹر حامد چوئی نے اس نازک توازن کو ملحوظ رکھتے ہوئے کام مکمل کیا ہے۔ خیال رہے کہ اس کیلئے عربی زبان، تفسیری روایت اور کورین زبان کے فکری و ثقافتی مزاج پر گہری گرفت درکار ہوتی ہے۔حامد چوئی نے صحیح بخاری کا بھی کورین زبان میں ترجمہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے خلاف بحیرۂ روم کی ۲۰؍ سے زائد بندرگاہوں پر ورکرز یونین کی ہڑتال
کوریا میں بسنے والے مسلمان طویل عرصے سے ایسے مستند ترجمے کے منتظر تھے جو نہ صرف قابلِ فہم ہو بلکہ اعتماد کے ساتھ دینی تعلیم میں استعمال کیا جا سکے۔ اس ترجمے سے مساجد، دینی مراکز، گھریلو مطالعے اور تعلیمی حلقوں میں قرآن فہمی کے امکانات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر عام ہونے کے بعد عالمی سطح پر حامد چوٹی کی خدمات کو سراہا جارہا ہے۔ دینی حلقے اسے صدقۂ جاریہ کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں۔اس کام کو ذاتی کامیابی نہیں بلکہ امت کے لیے ایک اجتماعی نعمت سمجھا جا رہا ہے۔ ضروری بات یہ ہے کہ یہ ترجمہ غیر مسلم قارئین کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ کوریا میں اسلام سے متعلق فہم اکثر بالواسطہ یا ثانوی ذرائع پر منحصر رہا ہے۔ قرآن مجید کا براہِ راست مطالعہ کورین زبان میں ممکن ہونا مذہب کے بارے میں موجود بہت سی غلط فہمیوں کے ازالے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حماس لیڈر خالد مشعل کا غیر مسلح ہونے سے انکار، اسرائیل کے مکمل انخلاء کا مطالبہ
کوریا کی مسلم کمیونٹی حامد چوٹی کی اس خدمت سے سرشار ہے۔ ڈاکٹر حامد چوئی ینگ کل کی یہ سات سالہ محنت اب ایک فرد کی کہانی نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی علمی اور روحانی وراثت بن چکی ہے جو کوریا میں قرآن مجید کے ساتھ تعلق کو آنے والے وقتوں میں نئی بنیاد فراہم کرے گی۔