Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ:۱۴۰؍ فٹ بال میدانوں کے برابر لگی جنگل کی آگ جوہری تنصیبات تک پہنچی

Updated: July 31, 2026, 7:33 PM IST | London

برانیہ کے جنگلوں میں لگی ۱۴۰؍ فٹ بال میدانوں کے برابر لگی آگ جوہری تنصیبات کے قریب تک پہنچ چکی ہے، جس کے سبب ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کےانگلش کاؤنٹی سفوک میں بھڑکنے والی یہ شدید جنگل کی آگ برطانیہ کے اہم نیوکلیئر پاور اسٹیشنوں میں سے ایک کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ ڈنویچ ہیتھ میں لگی یہ آگ سیزویل بی نیوکلیئر اسٹیشن سے تقریباً تین میل شمال میں ہے۔ سفوک فائر اینڈ ریسکیو سروس نے اس جنگلی آگ کو ایک بڑا واقعہ قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ہنگامی ردعمل شروع کر دیا گیا اور لوگوں نے علاقہ چھوڑ دیا۔ اگرچہ آگ نیوکلیئر سائٹ کے قریب آتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم پلانٹ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اسے ’’ہائی الرٹ‘‘ پر رکھا گیا ہے۔ تاہم، خدشات ہیں کہ اگر موسمی حالات بدلے تو دھواں نیوکلیئر پلانٹ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بلوچستان: کوئلہ کان میں خوفناک دھماکہ، ہلاکتیں ۳۴؍ ہو گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

بعد ازاں ایک ذرائع نے لندن لوز بزنس کو بتایا کہ اگر ہوا کی سمت بدلی یا آگ سیزویل کے قریب پھیلی تو دھواں اسٹیشن کے ہیٹنگ، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشننگ سسٹمز میں کھنچ سکتا ہے،جس کے نتیجے میں سہولت کے کچھ حصوں میں آپریشن متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ خود پلانٹ کو بہت کم خطرہ ہے۔جبکہ یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ڈالٹن نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ میں رولز رائس چیئر ان نیوکلیئر فیول ٹیکنالوجی کے پروفیسر جوئل ٹرنر نے دی ڈیلی میل کو بتایا کہ ری ایکٹر کو اسکرام (SCRAM) کے ذریعے تیزی سے بند کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ ایک تیز عمل ہے جس میں ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں کنٹرول راڈز کو ری ایکٹر کور میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر اسکرام کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے اگر پلانٹ کو مکمل عملے کے ساتھ رکھنا غیر محفوظ ہو‘‘نہ کہ ’’خود ری ایکٹر کو خطرے کی وجہ سے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلی آگ سے جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے وہ بجلی کی گرڈ سے کنکشن برقرار رکھنا ہے، جو اس کے کولنگ سسٹمز کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اگر اس میں کوئی مسئلہ بھی ہو جائے تو پلانٹ کے متعدد بیک اپ کولنگ سسٹمز اور ڈیزل سے چلنے والے جنریٹر ری ایکٹر کو محفوظ رکھیں گے۔اس کے علاوہ، یہ حقیقت کہ یہ ایک صنعتی سائٹ بھی ہے جو پلانٹ کو تحفظ دے گی، کیونکہ بڑی رسائی والی سڑکوں کا جال قدرتیطور پر آگ روکنے  کا کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ہیروشیما کے ایٹم بم دھماکے کے بارے میں سائنسدانوں کی۸۱؍ سال بعد حیران کن دریافت

 امپیریل کالج لندن میں نیوکلیئر انجینئرنگ کے پروفیسر مائیک بلیک نے کہا کہ ری ایکٹر کو ہر قسم کے خطرات، بشمول آگ، کا مقابلہ  کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر آگ پھر بھی اسٹیشن کے بے حد قریب آ جاتی ہے تو اسے محض بند کر دیا جائے گا، اور بیک اپ کولنگ سسٹمز اسے محفوظ رکھیں گے۔ اس سائٹ پر اپنی مکمل طور پر لیس فائر سروس اور خصوصی تربیت یافتہ ہنگامی عملہ بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا، ’’ری ایکٹر کور ۲۰؍ سینٹی میٹر موٹے اسٹیل کے خول کے اندر ہے، جو مضبوط کنکریٹ کی حفاظتی تہہ سے گھرا ہوا ہے، اور مزید کہا کہ ،اس حفاظتی تہہ اور پریشر خول کو نقصان پہنچنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیپال: فرقہ وارانہ تشدد میں شدت، ۳؍ ہلاک، کرفیو، وزیر اعظم کی امن کی اپیل

علاوہ ازیں بلیک نے واضح کیا کہ یہ کوئی بے مثال صورتحال نہیں ہے، کیونکہ فرانس کے بہت سے نیوکلیئر پاور اسٹیشن ان علاقوں کے قریب واقع ہیں جو معمول کے مطابق بہت بڑی جنگلی آگ سے متاثر ہوتے ہیں، اور اب تک کوئی نیوکلیئر حادثہ پیش نہیں آیا۔سفوک فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق، جمعرات کے وسط تک سفوک کی جنگلی آگ۲۴؍ ایکڑ سے بڑھ کر تقریباً۲۴۷؍ ایکڑ تک پھیل گئی تھی۔ یہ تقریباً ۱۴۰؍ فٹبال کے سائز کے برابر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK