Inquilab Logo Happiest Places to Work

تراویح کے ذریعے نوجوانوں کی خصوصی تربیت

Updated: March 06, 2026, 10:25 AM IST | Mumbai

اہتمام سے تراویح پڑھنےوالے نوجوان کی مختلف آراء۔قرآن کریم سننے کوذہنی سکون، جسمانی راحت اورطمانیت کا ذریعہ بتایا،اپنے ہم عمروں کو پیغام دیا کہ وہ خشو ع و خضوع سےاسکا اہتمام کریں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

تراویح میں شامل ہونے والے بیشتر نوجوان یکسوئی سے تراویح پڑھتے اورانہماک سے قرآن کریم سنتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ایسے نوجوانوںکاکہنا ہے کہ قرآن پاک سننے سے روحانی خوشی ملتی ہے اور اگریکسوئی سے سنا جائے توذہن بھی منتشر نہیں، طاقت وتوانائی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ اسکے برخلاف دورانِ تراویح کچھ نوجوان موبائل دیکھتے رہتے ہیں اور وہ اس وقت آناً فاناً رکوع میں جاتے ہیںجب امام رکوع کرتا ہے ۔نمائندۂ انقلاب نے ایسے کچھ نوجوانوں سے بات چیت کی ۔

یہ بھی پڑھئے: اِن حفاظ نے ۵؍۶؍ اور۷؍روزہ تراویح میں قرآن مکمل کیا

پوتیا کمپاؤنڈ کی مسجد میں نماز ادا کرنے والے محمدعادل نام کے نوجوان نےکہاکہ ’’ نہ تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے اورنہ ہی دقت محسوس ہوتی ہےبلکہ قرآن پاک سننے سے قلبی اورروحانی خوشی ملتی ہے۔ تراویح کی نماز ہی ایسا موقع ہوتا ہے جب اہتمام سے قرآن پاک سننے کا موقع ملتا ہے۔ ‘‘ محمدعادل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرپوری توجہ قرآن کریم سننے پرکی جائے تو نہ ذہن منتشر ہوتا ہے اورنہ ہی کوئی اورا خیال ذہن میںآتا ہے ۔ اس لئے میرا خیا ل ہے کہ تمام نوجوانوں کو یکسوئی اوراہتمام سے قرآن کریم سننا چاہئے ،اس لئے بھی کہ قرآن کریم سننے کا حکم دیا گیا ہے اورمسجد کھیل کود کی نہیںعبادت کی جگہ ہے۔‘‘

مذکورہ مسجد ہی کے مصلّی محمداویس محمد انور نے کہاکہ ’’ تراویح پڑھنے میںنئی طاقت اورانرجی کا احساس ہوتا ہے ،ایسا لگتا ہےکہ ذہن بالکل تروتازہ ہوگیاہے۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ تراویح جسمانی اورروحانی دونوں اعتبار سے فرحت کا باعث ہے ۔ اس لئے تمام نوجوانوں کوتراویح کے دوران دیگر مشاغل کے بجائے اہتمام اوریکسوئی سے قرآن کریم سننا چاہئے ۔ محض ایک گھنٹہ تراویح میں لگتا ہے،اگر پختہ عزم کیاجائے توآسانی سےاس کا اہتمام کرتے ہوئے روحانی خوشی حاصل کی جاسکتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’ایس آئی آر‘ کے تعلق سے بیداری مہم

مدنپورہ میں رہائش پزیر ۲۱؍ سالہ مدثر شفیع شیخ نے کہا کہ ’’اللہ کا کوئی حکم اور نبی کی کوئی سنت حکمت سے خالی نہیں ہے۔ میں روزانہ پابندی سے مکمل تراویح سنتا ہوں اس کے پیچھے میرے والدین کی تربیت کا بڑا ہاتھ ہے ورنہ میرے کئی دوست بھی نہ صرف تراویح میں سستی کرتے ہیں بلکہ ان کی حرکتیں مسجدوں کی بے حرمتی کے مترادف ہوتی ہیں۔ ان سے زیادہ دیر تک نماز میں کھڑا رہنا مشکل ہے جبکہ اس عمر میں کھیل کود میں وہ بڑے مستعد رہتے ہیں اور آسانی سے تھکتے نہیں۔ یہ صرف سوچ کا فرق ہے، تراویح پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری جسمانی تھکاوٹ دور ہوگئی ہے اور دن بھر کا ذہنی تنائو کم ہوگیا ہے۔ کئی غیرمسلم بھی نماز کی تعریف کرتے ہوئے اس کا موازنہ یوگا سے کرتے ہیں تو نماز کے کئی جسمانی اور ذہنی فائدے خود محسوس کئے جاسکتے ہیں اگر اسے بوجھ سمجھ کر نہ پڑھا جائے۔ رمضان میں عبادتوں کے ثواب میں جو اضافہ ہوتا ہے اس پر نظر ڈالی جائے تو  عبادت آسان ہوتی ہے۔‘‘

ہاشم خان، قادر پیلیس، ممبرا

ممبرا کے قادر پیلیس علاقے میں رہنے والے محمد ہاشم خان(۲۳) دارالعلوم غوث الوریٰ میں عشاء اور تراویح ادا کرتے ہیں۔ تراویح کے اہتمام سے متعلق انہوں نے بتایا کہ’’ تراویح رمضان کی خصوصی عبادتوں میں سے ایک ہے ۔ اس ماہ اللہ رب العزت ثواب دینے کا درجہ بڑھا دیتا ہے۔ عام دنوں میں ایک حرف کی تلاوت یاسننے پر ایک نیکی ملتی ہے تو رمضان میں ایک نیکی کا ثواب ۷۰؍گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اگر ہم تروایح میں کوتاہی برتیں گے،جب امام صاحب تلاوت کر رہے ہوتے ہیں اس وقت ہم بیٹھیں رہیں گے تو اس سے ایک تو ہمیں اتنی دیر نماز ادا کرنے اور قرآن سننے کا ثواب نہیں ملے گا دوسرے مسجد میں بیٹھ کر موبائل کا استعمال کرنے یا بات چیت کرنے سے مسجد کی بھی بے احترامی ہوتی ہے۔‘‘

محمد کامران انصاری، رے روڈ

رے روڈ کے ۲۰؍سالہ محمد کامران انصاری کےمطابق ’’میں ۱۰۔۹؍سال کی عمر سے روزہ اور تراویح کا اہتمام کر رہا ہوں ۔گزشتہ ۵؍سال سے پوری تراویح پڑھ رہاہوں۔ عشاءکی اذان کےساتھ مسجدمیں پہنچنےکی کوشش ہوتی ہے ۔پہلی صف میں جگہ ملنے پر بڑی خوشی ہوتی ہے۔ عشاء کی نماز کے بعد امام صاحب کے ساتھ پوری ۲۰؍رکعت تراویح خصوع وخضوع کے ساتھ پڑھنے کی بھرپور کوشش کرتاہوں ۔ اس دوران پوری توجہ تراویح میں سنائی جانے والی آیات پر ہوتی ہے۔ چونکہ عام دنوںمیں بھی قرآن کریم کی تلاوت کامعمول ہے ،لہٰذا تراویح میں ان آیات کو سن کر بڑی خوشی ہوتی ہے۔ روحانی احساس سے دل کو بڑا سکون ملتا ہے۔۲۰؍رکعت میں پڑھی جانےوالی آیتوں سے ذہن وقلب کو جو راحت میسر آتی ہے ،اسے الفاظ میں بیان کرنامشکل ہے۔‘‘

نویر سلیمان، کرافورڈ مارکیٹ

صابو صدیق کالج میں زیر تعلیم کرافورڈ مارکیٹ کے ۱۷؍سالہ نویر سلیمان کےبقول’’ میں گزشتہ ۸۔۷؍ سال سے پابندی سے پوری تروایح پڑھ رہاہوں، امسال بھی اہتمام کررہا ہوں۔ کوشش ہوتی ہے اگلی صفوںمیں جگہ ملے۔ چونکہ عام دنوںمیں بھی قرآن کریم پڑھتاہوںاسلئے دوران تراویح ساری آیتوںکے سامنے سے گزرنے کا احساس  بہت مسرورکن ہوتاہے۔ پوری توجہ تراویح میں سنائی جانےوالی آیتوں پر ہوتی ہے اسلئے اطراف کاکوئی خیال نہیں آتاہے۔ تراویح میں یکسوئی سے قرآن پاک سننے سے روحانی اور قلبی تسکین ملتی ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK