Inquilab Logo Happiest Places to Work

’آپ‘ سے اختلاف کے بعد راگھو چڈھا کے سیاسی مستقبل پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم

Updated: April 05, 2026, 12:04 PM IST | Mumbai

کیا کریں گے: عام آدمی پارٹی سے استعفیٰ دیں گے یا اختلاف دور کرنے کی کوشش کریں گے؟ بی جے پی کا ہاتھ تھامیں گے یا اپنی انفرادی عوامی شناخت بنائیں گے؟

Raghav Chadha. Photo: INN
راگھو چڈھا۔ تصویر: آئی این این

عام آدمی پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر کے عہدہ سے ہٹائے جانے کے بعد راگھو چڈھا کے سیاسی مستقبل پرقیاس آرائیوں کا دور تیز ہو گیا ہے۔ راگھو چڈھاجو گزشتہ چند برسوں سے خود اپنی پارٹی سے کٹے کٹے نظر آرہے تھے۔ اُن کی پارٹی (آپ) کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم مودی اور بی جےپی کے خلاف کچھ کہنے یا جواب طلب کرنے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ میں دیئے گئے نوٹس میں ابھی انہوں نے دستخط نہیں کیا جبکہ اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کا بھی وہ ساتھ نہیں دیتے۔محسوس کیا جارہاہے کہ وہ مودی اور حکومت کی ’’گُڈ بُک‘‘ میں رہناچاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: باونکولے کے نام سیکڑوں ایکڑ زمین ہونے کا دعویٰ، ویڈیو بنانے والے پر کارروائی

میڈیا رپورٹس کے مطابق راگھو چڈھا اور پارٹی قیادت، خاص طور پر اروند کیجریوال کے درمیان اختلافات کافی عرصے سے چل رہے تھے، جو اَب ایک واضح ٹکراؤ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ راگھو چڈھا کی پارٹی سے دوری کلیدی مسائل پر خاموشی اور اہم مواقع پر ان کی عدم موجودگی سے بھی ظاہر ہوئی جس میں کیجریوال اور منیش سیسودیا کو عدالت سے راحت ملنے کے موقع پر وہ منظر نامہ سے ہی غائب ر ہے۔  یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی جانب سے نہ صرف انہیں عہدے سے ہٹایا گیا بلکہ راجیہ سبھا میں پارٹی کے کوٹہ سے ان کے بولنے کے مواقع بھی محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جسے سخت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت راگھو چڈھا کے سامنے کئی متبادلات ہیں۔

پہلا اِمکان: پہلا امکان یہ ہے کہ وہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے اختلافات کو کم کریں اور دوبارہ مرکزی کردار حاصل کریں۔ تاہم موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئےخود راگھو اس کیلئے کوشاں نظر نہیں آتے۔

دوسرا اِمکان: دوسرا امکان یہ ہے کہ وہ پارٹی سے علیحدگی اختیار کریں تاہم اس صورت میں انہیں راجیہ سبھا کی رکنیت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے جس کی میعاد ۹؍ اپریل ۲۰۲۸ء تک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرض کے سبب گردہ بیچنے والے کسان نے خود کشی کی اجازت طلب کی

تیسرااِمکان: راگھو چڈھا جس طرح وزیراعظم مودی اورسرکار پر تنقید سے بچ رہے ہیں،اس کو دیکھتے ہوئے ان کے بی جےپی میں شامل ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور سے اس پس منظر میں کہ زعفرانی پارٹی راجیہ سبھا کی سیٹ سے محرومی کا ازالہ کرسکتی ہے۔

چوتھاامکان: چوتھا راستہ ان کے پاس یہ ہے کہ وہ خود کو عوامی لیڈر کے طور پر متعارف کرائیں، اپنی الگ پہچان بنائیں اور ۲۰۲۹ء کا لوک سبھا الیکشن لڑکر پارلیمنٹ پہنچیں۔ حالیہ چند مہینوں میں ایئر پورٹ پر سموسہ کی قیمت سے لے کر ۲۸؍ دنوں کے موبائل ریچارج جیسے ’’عوامی معاملات‘‘اٹھاکر انہوں نے خود کو عام آدمی سے جوڑنے کی کوشش کی بھی ہے۔ بہرحال آنے والے چند ماہ راگھو چڈھا اور عام آدمی پارٹی دونوں کیلئے اہم ہوں گے، کیونکہ یہ تنازع نہ صرف ان کے ذاتی سیاسی مستقبل بلکہ پارٹی کے اندرونی اتحاد اور آنے والے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK