ضبط کی گئی چیزوں پر کوئی بار کوڈ نہیں ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ انہیں کہاں بنایا گیا تھا اور کسے فروخت کیا گیا تھا۔
دھماکہ خیز اشیا ملنے کے بعد پولیس کا بندوبست۔ تصویر:آئی این این
ایک روز قبل ناگپور میں ۱۵؍ جلٹن، ۵۸ ڈیٹونیٹر اور ۸؍کنیکٹر ضبط کئے گئے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ چیزیں ۲؍ ماہ سے ایک ایسے علاقے میں پڑی تھیں جو میٹرو اسٹیشن اور آر ایس ایس کے صدر دفتر سے قریب ہے لیکن اس کارروائی کے بعد ایک اور انکشاف ہوا ہے جس نے دھماکہ خیز مواد کے ٹریکنگ میکانزم کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے سیکوریٹی کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اطلاع کے مطابق دھماکہ خیز اشیاء پر بار کوڈ ہوتے ہیں تاکہ پیداوار سے لے کر استعمال کے اختتام تک اِن دھماکہ خیز مواد کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جا سکے۔ تاہم ضبط کئے گئے دھماکہ خیز مواد پر بار کوڈ موجود نہیں تھے۔ اس کی وجہ سے یہ نہیں معلوم ہو سکے گا کہ یہ چیزیں کہاں بنائیں گئی تھیں اور کسے فروخت کی گئی تھیں۔بتادیں کہ پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسیوز سیفٹی آرگنا ئزیشن (پی ای ایس او) نے بارکوڈنگ متعارف کروائی تھی تاکہ دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانا یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، ڈیٹونیٹر مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والے حساس مواد کی وجہ سے، بارکوڈ ٹیگنگ کو خطرناک سمجھا جاتا ہے، اسلئے اسے نافذ نہیں کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس حد کی وجہ سے اصل یا مطلوبہ صارف کا پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، جیسا کہ حالیہ کیس میں ہوا۔ دوسری اصولی طور پر مینوفیکچرر کو خریداروں کی شناخت سمیت پیداوار کی مقدار اور فروخت کی تفصیل کے ساتھ ریٹرن فائل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بارکوڈ کی وجہ سے حکام کو چوری یا زیادہ پیداوار کا اندازہ کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن ڈیٹونیٹر پر بارکوڈ کی غیر موجودگی، اس طرح کی تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔
تحقیقات میں شامل ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ وسطی ناگپور سے برآمد کئے گئے ڈیٹونیٹرس پر بار کوڈ کے نشانات نہیں تھے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے، پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسیوز سیفٹی آرگنائزیشن (پی ای ایس او)، الیکٹرانک ڈیٹونیٹرس کو اپنانے پر زور دے رہا ہے، جس سے زیادہ مؤثر طریقے سے دھماکہ خیز اشیاء کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان آلات کو ایک مخصوس ہینڈ ہیلڈ لاگر کے ذریعے ایکٹیویٹ کرنا پڑتا ہے، اور غلط استعمال کو روکنے کیلئے ڈیٹونیٹر اور لاگر دونوں ایک ہی مینوفیکچرر کی طرف سے کام کرنے والے لاک اینڈ کی سسٹم کی طرح ہونے چاہئیں۔ اس کے باوجود، الیکٹرانک ڈیٹونیٹرس کو اپنایا نہیں جارہا۔ گزشتہ سال جولائی میں جاری کردہ ایک ہدایت میں، پی ای ایس او نے مینوفیکچررس کو مشورہ دیا کہ وہ بتدریج روایتی الیکٹرک ڈیٹونیٹرس کو بہتر طریقے سے ٹریس کرنے کیلئےایمبیڈڈ چپس سے لیس کریں۔ یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ایکسپلوڈر ڈیوائس میں پاس ورڈ کے تحفظ کو بھی لازمی قرار دیا جائے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صرف مجاز صارفین ہی ان کو استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم، جب تک اس طرح کے نظام کو وسیع پیمانے پر لاگو نہیں کیا جاتا، ڈیٹونیٹر کے غلط استعمال پر خدشات برقرار رہنے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ ناگپور شہر کے مصروف ترین سی اے روڈ پر واقع دوسر بھون چوک کے قریب زندہ دھماکہ خیز اشیا برآمد کی گئی تھی۔ جس میں شہر میں ۱۵؍ جلٹن، ۵۸ ڈیٹونیٹرز اور ۸؍کنیکٹر شامل تھے۔ اہم بات یہ تھی کہ میٹرو اسٹیشن اور آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر کے علاقے میں اجول لنجوار نامی شخص کے مکان کے قریب یہ اشیا ایک بیگ میں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ بیگ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے وہاں رکھا ہوا تھا۔ اجول کی اطلاع پر پولیس نے پورے علاقے کو سیل کرکے اس دھماکہ خیز مواد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا۔ اس سلسلے میں فی الحال تفتیشی ایجنسیاں دھماکہ خیز مواد کس فیکٹری میں تیار کیا گیا اور باہر کیسے پہنچا اس کی تحقیقات کررہی ہیں۔