• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹارلنک کو ہندوستان میں خدمات کیلئے ضروری منظوری حاصل، جیواور ایئرٹیل سے مقابلہ

Updated: October 17, 2026, 4:03 PM IST | New Delhi

بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کے معاملے پر اسٹارلنک، ریلائنس جیو اور ایئرٹیل کے درمیان مقابلہ تیز ہوگیا ہے۔ اسٹارلنک نے ضروری منظوریوں کے ساتھ خدمات شروع کرنے کی تیاری کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ تجارتی خدمات کے لیے تمام کمپنیوں کو یکساں ضابطوں اور سلامتی سے متعلق شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اسٹارلنک نے کہا ہے کہ اس نے ہندوستان میں حکومت کی ضروری منظوریوں کے ساتھ مخصوص بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیا ہے اور وہ تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیٹیلائٹ مواصلاتی مارکیٹ میں مقابلے اور ضابطہ جاتی منظوریوں کے معاملے پر ریلائنس انڈسٹریز اور ایئرٹیل کے ساتھ اس کا تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ ایلون مسک کی قیادت والی کمپنی نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ برس سے زیادہ عرصے سے ہندوستانی ریگولیٹری اداروں، صنعت اور ٹیلی کام آپریٹروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں ریلائنس انڈسٹریز کے ایک سابقہ بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں کمپنی نے سیٹیلائٹ مواصلات کے شعبے میں مقابلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام آپریٹروں کیلئے ہندوستانی قوانین کی پابندی کو ضروری قرار دیا تھا۔ 
اسٹارلنک نے ایکس پر لکھا، ’’ہم گزشتہ پانچ برس سے زیادہ عرصے سے ہندوستان میں ریگولیٹری اداروں، صنعت اور آپریٹروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ ہم نے ہندوستانی صارفین کی انٹرنیٹ ٹریفک کو محفوظ طریقے سے خدمات فراہم کرنے کیلئے ملک کے اندر ہی مخصوص نظام، گیٹ ویز اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے، جس کیلئے حکومت کی ضروری منظوری بھی حاصل کی گئی ہے۔ ‘‘کمپنی نے مزید کہا کہ وہ ہندوستان کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنے کیلئے تیار ہے۔

یہ بھی پرھئے: مہنگے فضائی سفرسے جلدراحت ملنے کی اُمید

ریلائنس کو اسٹارلنک کے مقابلے پر اعتراض نہیں، مگر قوانین کی پابندی ضروری قرار
ایلون مسک کے حالیہ بیانات پر اپنے پہلے براہِ راست ردعمل میں ریلائنس انڈسٹریز نے کہا کہ وہ ’’حقائق کو ریکارڈ پر رکھنا‘‘ چاہتی ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا، ’’ریلائنس نے کبھی مقابلے سے خوف محسوس نہیں کیا۔ ہم مقابلے کو اس بات کا سب سے حقیقی امتحان سمجھتے ہیں کہ صارفین کو بہترین خدمات کون فراہم کرتا ہے۔ ‘‘ریلائنس نے ۲۰۱۶ء میں ہندوستانی ٹیلی کام مارکیٹ میں جیو کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کمپنی کے پاس ایک بھی صارف نہیں تھا، لیکن گزشتہ دس برس میں ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے اور سستی ڈیٹا خدمات کی فراہمی کے ذریعے اس نے۵۳؍کروڑ سے زیادہ صارفین کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ 
ریلائنس نے کہا، ’’ہم سیٹیلائٹ مواصلات کے شعبے میں مقابلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس میں اسٹارلنک بھی شامل ہے۔ جیو سمیت ہر کمپنی کو ہندوستان کے عوام کی خدمت کرنی چاہئے اور ملک کے قوانین و پالیسیوں کی پابندی کرنی چاہئے۔ ‘‘کمپنی نے مزید کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری اور جدت طرازی کیلئےہندوستان کا کھلا رویہ قانون کی پابندی پر منحصر ہے۔ ریلائنس کے مطابق، ’’ہندوستانی کمپنی ہونے کے ناطے ہم نے ایسے ملک میں ترقی کی ہے جو ملکی یا بین الاقوامی، ہر اس سرمایہ کاری اور جدت طرازی کا خیرمقدم کرتا ہے جس سے عوام کی زندگی بہتر ہو۔ اس کھلے پن کی بنیاد قانون کی بالادستی ہے۔ ‘‘ ریلائنس نے یہ بھی کہا کہ حکومت تمام درخواست دہندگان کے ساتھ یکساں طریقۂ کار اختیار کرتی ہے، خواہ ان کی قومیت کچھ بھی ہو۔ کمپنی نے نشاندہی کی کہ جیو کی اپنی سیٹیلائٹ خدمات بھی ابھی منظوریوں کی منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر روزگار کا بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ

حکومت کا موقف: تمام سیٹیلائٹ آپریٹروں کو ہندوستانی قوانین پر عمل کرنا ہوگا
حکومتی ذرائع نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ہندوستان میں کاروبار کرنے والی ہر کمپنی کیلئے ملک کے قوانین کی پابندی ضروری ہے۔ ذرائع نے رواں ہفتے کے اوائل میں کہا تھا، ’’حکومت کا موقف بالکل واضح رہا ہے، حتیٰ کہ درخواست دیئے جانے کے وقت بھی یہی موقف تھا کہ اگر آپ ہندوستانی قوانین پر عمل نہیں کرتے تو یہاں کاروبار نہیں کر سکتے۔ لہٰذا، یہاں کاروبار کرنے کیلئے ہندوستانی قوانین کی پابندی ضروری ہے۔ ‘‘وزارتِ مواصلات نے ہندوستان کے ضابطہ جاتی نظام یا اس کے نفاذ میں ناانصافی اور امتیاز برتنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی‘‘ قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تجارتی خدمات شروع کرنے سے پہلے تمام سیٹیلائٹ آپریٹروں کو یکساں ضابطہ جاتی تقاضے پورے کرنے ہوں گے، جن میں سلامتی سے متعلق شرائط اور اسپیکٹرم کی تقسیم کے قواعد شامل ہیں۔ 
وزیرِ مواصلات جیوتی رادتیہ سندھیا کے مطابق، تین کمپنیوں یا منصوبوں، یعنی اسٹارلنک، ریلائنس کے جیو سیٹ کام اور بھارتی ایئرٹیل کی حمایت یافتہ یوٹیل سیٹ ون ویب (Eutelsat OneWeb) کو سیٹیلائٹ مواصلات کے لائسنس مل چکے ہیں۔ امیزون کے پروجیکٹ کوائپر نے بھی اس شعبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اسے طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ سندھیا نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آمدنی کی بنیاد پر فیس وصولی کا نظام حتمی شکل اختیار کرنے اور متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے سلامتی سے متعلق شرائط پوری کیے جانے کے بعد اسپیکٹرم مختص کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا (ٹرائی) اور محکمۂ مواصلات (ڈی او ٹی) سیٹیلائٹ اسپیکٹرم کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر فیصلے کے قریب ہیں۔ اس تنازع میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ سیٹیلائٹ مواصلات کا لائسنس ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی فوراً تجارتی خدمات شروع کر سکتی ہے۔ اس کیلئے اسپیکٹرم کی تخصیص اور سلامتی سے متعلق شرائط کی تکمیل بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ورک پرمٹ کی خودکار توسیع ختم، ہندوستانی ملازمین کیلئے ۵۴۰؍ دن کی سہولت بند

سنیل متل کا دعویٰ: منظوری کی دوڑ میں ون ویب، اسٹارلنک سے آگے
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب بھارتی ایئرٹیل کے چیئرمین سنیل متل نے بلومبرگ نیو اکانومی فورم۲۰۲۶ء میں کہا کہ ان کا سیٹیلائٹ مواصلاتی منصوبہ، یوٹیل سیٹ ون ویب، ہندوستان میں خدمات شروع کرنے کی منظوری حاصل کرنے کی دوڑ میں اسٹارلنک سے کافی آگے ہے۔ متل نے کہا، ’’میرے خیال میں میں منظوری کے انتظار میں اس سے کافی آگے ہوں۔ میں نے پانچ برس پہلے درخواست دی تھی۔ ہمیں ابھی تک اجازت نہیں ملی ہے، اس لئے ہمیں خوشی ہوگی اگر ہمیں اس سے کم از کم چند دن پہلے اجازت مل جائے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ ون ویب کا زمینی نیٹ ورک گزشتہ تین برس سے تیار ہے اور اس کے سیٹیلائٹ پانچ برس سے ہندوستان کے اوپر گردش کر رہے ہیں، لیکن کمپنی اب بھی تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت کی منتظر ہے۔ سنیل متل اور ریلائنس کے یہ بیانات ایلون مسک کے ان الزامات کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بااثر کاروباری مفادات اسٹارلنک کی ہندوستانی مارکیٹ میں آمد کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ 
ایکس پر اپنی حالیہ متعدد پوسٹوں میں مسک نے ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کو نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ انداز میں انہیں ’’وزیرِ اعظم امبانی‘‘ کہا اور سوال اٹھایا کہ آیا ہندوستان کے فیصلوں پر ان کا اثر و رسوخ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بھی زیادہ ہے۔ مسک نے الزام لگایا ہے کہ بعض کاروباری گروپ ہندوستانی صارفین پر ’’اجارہ دارانہ گرفت‘‘ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، حکومت نے ضابطہ جاتی امتیاز کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام آپریٹروں کو یکساں شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK