Updated: July 18, 2026, 7:03 PM IST
| Juba
افریقی ملک جنوبی سوڈان میں تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہے جہاں سرکاری خزانہ تقریباً خالی ہونے کے باعث گزشتہ ایک سال سے اساتذہ کو تنخواہیں نہیں ملیں، تاہم ہزاروں اساتذہ اسکول بند ہونے سے بچانے اور بچوں کا مستقبل محفوظ رکھنے کیلئے رضاکارانہ طور پر درس و تدریس جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جنوبی سوڈان میں جاری معاشی بحران نے ملک کے تعلیمی نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، لیکن اس سنگین صورتحال کے باوجود ہزاروں اساتذہ بغیر کسی معاوضے کے اسکولوں میں پڑھا کر آنے والی نسل کو جہالت کے اندھیروں میں جانے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق کئی اساتذہ گزشتہ ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے تنخواہوں سے محروم ہیں، اس کے باوجود انہوں نے تدریس کا سلسلہ منقطع نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی سوڈان کے ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر پال سانٹینو کی زندگی بظاہر کسی عام استاد جیسی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایک سال سے زائد عرصے سے کوئی تنخواہ نہیں ملی۔ یہی صورتحال ملک بھر کے سرکاری اساتذہ کی ہے، کیونکہ حکومت کے پاس تنخواہیں ادا کرنے کیلئے مالی وسائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے، کینسر اسپتال بال بال بچا، ۵؍دن میں ۳۵؍ افراد جاں بحق
جنوبی سوڈان نے ۲۰۱۱ء میں عشروں پر محیط آزادی کی جدوجہد کے بعد ایک آزاد ریاست کے طور پر جنم لیا تھا۔ اس وقت امید کی جا رہی تھی کہ نیا ملک تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھرپور توجہ دے گا، مگر گزشتہ برسوں کے دوران سیاسی عدم استحکام، خانہ جنگی، بدعنوانی، معاشی بدحالی اور کمزور حکمرانی نے ان امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق حکومت کے بجٹ میں تعلیم کیلئے مختص رقم انتہائی محدود رہی، جس کے باعث سرکاری اسکول بنیادی سہولتوں، تدریسی سامان اور تربیت یافتہ عملے سے محروم ہوتے گئے۔ اب صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پورا تعلیمی نظام ٹھپ پڑجانے کے خطرے سے دوچار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی سوڈان کی آبادی تقریباً ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ ہے، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نسل کو معیاری تعلیم نہ ملی تو ملک کی معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی تعمیر کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔بہت سے نوجوان اساتذہ اپنی ذاتی مشکلات کے باوجود رس و تدریس جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعض کو طلبہ کے والدین کبھی کبھار معمولی مالی مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ذاتی تعلیم یا روزمرہ ضروریات پوری کر سکیں، مگر یہ امداد مستقل نہیں۔ کئی اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس لیے اسکول آتے ہیں کیونکہ ان کا یقین ہے کہ تعلیم ہی ملک کو بہتر مستقبل دے سکتی ہے۔ ایک نوجوان رضاکار استاد سائمن اوبا، جو گمبو بیسک اسکول میں پڑھاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’’تعلیم کے بغیر کوئی تبدیلی ممکن نہیں، یہی ہر چیز کی بنیاد ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق وہ یونیورسٹی آف جوبا میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے کبھی کبھار طلبہ کے والدین سے مالی تعاون حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: ٹرمپ کے تابوت میں لیٹنے کا پوسٹر آویزاں
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان کی موجودہ صورتحال صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے افریقہ کیلئے ایک اہم تنبیہ ہے۔ براعظم افریقہ نوجوان آبادی میں تیزی سے اضافے کے دور سے گزر رہا ہے اور اگر تعلیم پر مناسب سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہ آبادی معاشی طاقت بننے کے بجائے ایک بڑا سماجی اور اقتصادی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جنوبی سوڈان کی موجودہ حالت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آزادی کے بعد ملک کی قیادت عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ تعلیمی نظام کا زوال اس وسیع تر حکومتی ناکامی کی علامت بن چکا ہے جس نے آزادی کے وقت وابستہ امیدوں کو ماند کر دیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت، بین الاقوامی اداروں اور امدادی تنظیموں نے فوری اقدامات نہ کیے تو جنوبی سوڈان کی ایک پوری نسل تعلیم سے محروم ہو سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی عشروں تک محسوس کیے جائیں گے۔