اقوام متحدہ اور حقوق گروپوں نے آر ایس ایف سے العبید پر فوری طور پر حملہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی خبردار کیا کہ مزید فوجی کشیدگی ہزاروں شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 6:00 PM IST | Khartoum
اقوام متحدہ اور حقوق گروپوں نے آر ایس ایف سے العبید پر فوری طور پر حملہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی خبردار کیا کہ مزید فوجی کشیدگی ہزاروں شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے برائے سوڈان نے بدھ کو العبید شہر اور اس کے گرد و نواح میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا، اور خبردار کیا کہ مزید فوجی کشیدگی ہزاروں شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور سوڈان کے پہلے سے تباہ شدہ انسانی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب سات یورپی ممالک فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہیں حملہ روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے مطالبات کے باوجود العبید پر جاری حملے کی خبروں پر گہری تشویش ہے۔
مزید برآں بیان میں خبردار کیا گیا،’’گزشتہ سال دنیا نے الفاشر میں ہونے والے مظالم کو خوف کے ساتھ دیکھا ایسے جرائم جنہیں نسل کشی کے آثار قرار دیا گیا۔ ہمیں ایسی ناکامیوں کو دہرانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘تاہم ۲۰؍ جون۲۰۲۶ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بیان منظور کیا جس میں اراکین نے بڑے پیمانے پر مظالم کے خطرےپر تشویش کا اظہار کیا اور آر ایس ایف سے مطالبہ کیا کہ وہ العبید پر اپنا حملہ فوری روکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تمام زیادتیوں اور خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانےکا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا میں زلزلے کے بعد لوگ اپنوں کو تلاش کرنے کیلئے خود سے ملبہ ہٹا رہے ہیں
بعد ازاں نمائندے ہاویسٹو نے انکشاف کیا کہ انہوں نے جمعہ کو جنرل محمد حمدان دقلو (معروف بہ حمیدتی)، جو ریپڈ سپورٹ فورسیز(آر ایس ایف) کے لیڈرہیں، سے ال عبید کی صورتحال پر ٹیلی فون پر بات کی۔ نمائندے کے مطابق حمیدتی نے انہیں یقین دلایا کہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یاد رہے کہ سوڈان اپریل۲۰۲۳ء سے جنگ کی لپیٹ میں ہے، جب سابقہ اتحادی سوڈانی مسلح افواج اور آر ایس ایف(نیم فوجی دستہ) کے درمیان لڑائی شروع ہوئی، جس نے افریقہ کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک کو ایسے تنازع میں ڈال دیا جو دنیا کی بدترین انسانی ہنگامی صورتحال میں سے ایک بن گیا ہے۔انسانی امور کے دفتر کے مطابق، جنگ نےایک کروڑ ۳۰؍ لاکھ سے زیادہ افراد کو اندرون ملک بے گھر کیا ہے اور مزید لاکھوںافراد کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جبکہ ملک کے بیشتر حصوں میں انسانی رسائی شدید محدود ہے۔
دریں اثنا، متعدد انسانی حقوق گروپوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو ایک مشترکہ خط میں درخواست کی ہے کہ وہ شمالی کردفان کے العبید اور اس کے گرد و نواح کی صورتحال کو فوری طور پر حل کرے اور مظالم کی روک تھام اور جوابدہی کے لیے جرات مندانہ اقدامات کرے۔خط میں کہا گیا کہ ’’کونسل کو سوڈان کے لیے آزاد بین الاقوامی حقائق تلاش مشن (ایف ایف ایم) سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ صورتحال کی فوری تحقیقات کرے۔مزید مظالم کو روکنے، سوڈان میں ہونے والی تمام خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہی کو آگے بڑھانے، اور مجرموںاور ان کی پشت پناہی اور مدد کرنے والوں کے استثنیٰ کو ختم کرنے کے لیے، کونسل کو جنگجو فریقین کی حمایت کرنے والے بیرونی عناصر بشمول متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی واضح طور پر مذمت کرنی چاہیے۔‘‘