Updated: September 09, 2026, 10:04 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو ایک طرف سیاسی مخالفت اور دوسری جانب غزہ جنگ کے بعد فوجی اہلکاروں کے بڑھتے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے رکن پارلیمنٹ گیلاد کاریو نے نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کو ’’اسرائیلی معاشرے کی بقا کی ضرورت‘‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیل میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو ایک طرف سیاسی مخالفت اور دوسری جانب غزہ جنگ کے بعد فوجی اہلکاروں کے بڑھتے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے رکن پارلیمنٹ گیلاد کاریو نے نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کو ’’اسرائیلی معاشرے کی بقا کی ضرورت‘‘ قرار دیتے ہوئے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کی ناکامیوں سے متعلق فوجی تحقیقات سے نمٹنے میں ان پر غفلت کا الزام لگایا ہے۔ اسی دوران ۴۶؍ سالہ مذہبی ربی اور فوجی ریزرو اہلکار ایریز برشی شیت نے کریات ملاخی میں خودکشی کرلی۔ رپورٹس کے مطابق وہ غزہ میں فوجی خدمات کے بعد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس کا شکار تھے۔
یہ بھی پڑھئے:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ۸۱؍ واں اجلاس شروع، عالمی نظام پر اعتماد بحال کرنے پر زور
اسرائیلی اپوزیشن رکن گیلاد کاریو نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر نیتن یاہو کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانا اب ’’اسرائیلی معاشرے کی بقا کی ضرورت‘‘ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے معاملے میں بار بار اسرائیل کو ’’ترک‘‘ کیا اور ’’مکمل نااہلی‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔ کاریو نے خاص طور پر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات سے متعلق اسرائیلی فوج کی تحقیقات پر نیتن یاہو کے ردعمل کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم نے ۷؍ اکتوبر کے بعد غزہ کے اطراف کے کِبّوتز کا کئی ماہ تک دورہ نہیں کیا، اسی طرح وہ اب فوجی تحقیقات میں سامنے آنے والے واقعات سے بھی نمٹنے سے گریز کر رہے ہیں۔ کاریو نے کہا کہ ایسے شخص کو اسرائیل اور اس کے بچوں کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
۷؍ اکتوبر کی ناکامیوں کی ذمہ داری کا معاملہ اسرائیل میں بدستور سیاسی تنازع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور اسرائیلی معاشرے کے مختلف حلقے ایک باقاعدہ ریاستی تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ نیتن یاہو کی حکومت نے اس طریقۂ کار کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی طور پر مقرر کردہ تحقیقاتی پینل کی حمایت کی ہے۔ اسی دوران کنیسٹ کے انتخابات ۲۷؍ اکتوبر کو مقرر ہیں، جس سے حکومت پر سیاسی دباؤ مزید نمایاں ہوگیا ہے۔ اسی وسیع تر بحران کا ایک اور پہلو غزہ میں طویل فوجی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوجیوں اور ریزرو اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس ہیں۔ تازہ کیس میں ۴۶؍ سالہ ایریز برشی شیت، جو مذہبی ربی، بچوں کے والد اور فوجی ریزرو اہلکار تھے، کریات ملاخی میں اپنی زندگی ختم کرگئے۔ اسرائیلی یادگاری ریکارڈ میں انہیں مذہبی ریزرو جنگجو کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میکسیکو کسی بھی غیر ملک کی نوآبادی یا محفوظ ریاست نہیں ہے: صدر شین بام
رپورٹس کے مطابق برشی شیت غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران خدمات انجام دے چکے تھے اور بعد ازاں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس سے دوچار تھے۔ ان کی آخری رسومات ہفتے کی شام شبات کے اختتام کے بعد کریات ملاخی کے قبرستان میں ادا کی گئیں، جس میں اہل خانہ، دوستوں اور جاننے والوں نے شرکت کی۔ یہ واقعہ اسرائیلی فوج میں خودکشیوں سے متعلق پہلے سے موجود تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی اخبار ’ہاآرتز‘ کے حوالے سے Anadolu کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء میں جولائی تک کم از کم ۱۶؍ حاضر سروس اسرائیلی فوجی خودکشی کرچکے تھے، جبکہ غزہ جنگ میں خدمات انجام دینے والے کم از کم ۹؍ سابق فوجی بھی فعال سروس مکمل کرنے کے بعد اسی سال خودکشی کرچکے تھے۔ فوجی اعداد کے مطابق ۲۰۲۴ء میں ۲۱, اور ۲۰۲۵ء میں ۲۲؍ حاضر سروس فوجیوں کی خودکشی ریکارڈ ہوئی، جو ۱۵؍ برس میں بلند ترین سالانہ اعداد تھے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکی پابندیوں کے باعث ایران میں ٹوفل (TOEFL) معطل، ہزاروں طلبہ کے بیرونِ ملک تعلیم کے منصوبے متاثر
اپریل میں شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء کے ابتدائی مہینوں میں کم از کم ۱۰؍ حاضر سروس فوجی خودکشی کرچکے تھے، جبکہ غزہ جنگ میں خدمات انجام دینے والے ۳؍ ریزرو اہلکار سروس مکمل کرنے کے بعد اسی عرصے میں خودکشی کرچکے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض ریزرو اہلکاروں میں غزہ میں طویل فوجی خدمات کے بعد پی ٹی ایس ڈی کی تشخیص بھی ہوئی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ فوجیوں کی ذہنی صحت کو اپنی ذمہ داری کا اہم حصہ سمجھتی ہے اور جنگ کے آغاز کے بعد ذہنی صحت کے نظام کو وسعت دی گئی ہے۔ فوج کے مطابق دسیوں ہزار اہلکاروں کو جذباتی مدد اور ڈیبریفنگ فراہم کی گئی ہے اور خودکشی کے ہر معاملے کی الگ تحقیقات کی جاتی ہیں۔
نیتن یاہو کی حکومت پر سیاسی احتساب کا دباؤ اور غزہ جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں میں ذہنی صحت کے مسائل، دونوں الگ الگ معاملات ہیں، تاہم ان واقعات نے جنگ کے اسرائیلی معاشرے اور اس کے سیاسی و فوجی نظام پر پڑنے والے اثرات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔