Updated: July 31, 2026, 10:01 AM IST
| London
نیٹ فلکس سیریز ’’دی کراؤن‘‘ میں دودی الفاید کا کردار ادا کرنے والے برطانوی مصری اداکار خالد عبداللہ نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت کرنے کے باعث انہیں نقصان سے کہیں زیادہ فائدہ ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مؤقف نے انہیں اپنی برادری، نئے تعلقات اور تخلیقی مواقع دیے، جبکہ انہوں نے اپنے عرب تشخص سے بھی زیادہ مضبوط تعلق محسوس کیا۔
خالد عبداللہ۔ تصویر: ایکس
نیٹ فلکس کی معروف سیریز ’’دی کراؤن‘‘ میں دودی الفاید کا کردار ادا کرنے والے برطانوی مصری اداکار خالد عبداللہ نے کہا ہے کہ فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کے باعث انہیں اپنے کریئر میں نقصان سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مؤقف نے نہ صرف انہیں اپنی برادری کے قریب کیا بلکہ ذاتی اور پیشہ ورانہ سطح پر بھی نئی راہیں کھولیں۔ دی نیشنل کو دیے گئے انٹرویو میں خالد عبداللہ نے کہا کہ اب تک میں یہی کہتا ہوں اور اسی پر یقین رکھتا ہوں کہ فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھانے سے مجھے نقصان سے کہیں زیادہ فائدہ ملا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: میانمار: آن لائن فراڈ کے خلاف سخت ترین قانون منظور، سنگین جرائم پر سزائے موت
انہوں نے مزید کہا کہ ’’اپنا مؤقف اختیار کرنے کے بعد مجھے اپنے لوگ مل گئے۔ انہی لوگوں نے میرا ساتھ دیا، میری مدد کی۔ میری برادری مضبوط ہوئی، میرے تعلقات بڑھے، میرے کام کے نئے مواقع پیدا ہوئے اور میں خود اپنے آپ کے زیادہ قریب محسوس کرتا ہوں۔‘‘ یاد رہے کہ خالد عبداللہ گزشتہ برسوں میں فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والی برطانوی فنکار برادری کی نمایاں آوازوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے وہ مسلسل اس مسئلے پر سرگرم رہے، جس کے دوران انہیں قانونی تحقیقات اور پیشہ ورانہ غیر یقینی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑا، تاہم اس کے باوجود انہوں نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
اداکار کے مطابق بہت سے فنکار اور ثقافتی شخصیات فلسطین کے معاملے پر کھل کر بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنے مستقبل، روزگار اور خاندانوں پر ممکنہ اثرات کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’سب سے بڑی رکاوٹ خوف ہے۔ بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن وہ اپنے کریئر، مالی مستقبل اور اپنے خاندانوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘‘ خالد عبداللہ نے کہا کہ فلسطین کی حمایت نے ان کے عرب تشخص کو مزید مضبوط کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ فن اور سماجی ذمہ داری کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، فنکار صرف اسٹیج یا پردے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے اہم سوالات پر بھی اس کی آواز کی اہمیت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کسی مضبوط سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیرنو کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا
اداکار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اختلافِ رائے اور انسانی حقوق کے مسائل پر اظہارِ خیال کو دبانا کسی جمہوری معاشرے کے لیے مثبت علامت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں کو خوف کے بجائے اپنے ضمیر کے مطابق بولنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ خالد عبداللہ برطانوی فلم اور ٹیلی ویژن انڈسٹری کا معروف نام ہیں۔ وہ ’’دی کائٹ رنر‘‘ ، ’’یونائیٹڈ ۹۳‘‘ اور ’’دی کراؤن‘‘ سمیت متعدد بین الاقوامی منصوبوں میں اداکاری کر چکے ہیں۔ وہ ماضی میں مصری انقلاب ۲۰۱۱ء کے دوران بھی سرگرم رہے اور سماجی و سیاسی موضوعات پر مسلسل اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسئلے پر ان کی حمایت کسی وقتی ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ انصاف، انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے اصولوں پر مبنی ایک مستقل مؤقف ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید فنکار بھی خوف سے بالاتر ہو کر انسانی مسائل پر اپنی آواز بلند کریں گے۔