Inquilab Logo Happiest Places to Work

محفوظ فٹپاتھ شہریوں کا بنیادی حق: سپریم کورٹ نے حکومت کو قانون بنانے کی ہدایت دی

Updated: June 20, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں محفوظ فٹ پاتھ کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دیا ہے، ساتھ ہی حکومت کواس ضمن میں قانون بنانے کی ہدایت دی، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک موٹر حادثے کے کلیم کیس میں آیا، جو ایک پانچ سالہ بچے کی موت سے متعلق تھا جو اسکول جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ محفوظ فٹ پاتھ پر چلنے کا حق ایک بنیادی حق ہے اور اس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسا قانون بنائے جو اس حق کا اعلان کرے اور میونسپل اتھارٹیز اور مقامی اداروں کی ذمہ داری کو تسلیم کرے کہ وہ ضروری پیدل چلنے والوں کے انفراسٹرکچر کی تعمیر، حد بندی اور دیکھ بھال کریں۔جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اتل ایس چندرکر کی بنچ نے کہا، ’’چلنے کا حق آئین کے حصہ سوم کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔ یہ آرٹیکل ۱۹؍ (۱؍) (ڈی) کے تحت ضمانت کردہ نقل و حرکت کے حق کا لازمی جزو ہے، جب اسے آرٹیکل ۱۹؍ (۱؍)(اے)، آرٹیکل ۱۹؍ (۱؍)(بی)، آرٹیکل ۱۹؍ (۱؍)(سی) اور آرٹیکل۲۱؍ کے ساتھ پڑھا جائے۔ چلنے کا بنیادی حق اپنے دائرے میں متعین فٹ پاتھ کا حق بھی شامل کرتا ہے۔ یہ حقوق ابتدائی ہیں اور موٹر گاڑیوں کی نقل و حرکت پر ترجیح رکھیں گے۔‘‘بعد ازاں عدالت نے کہا کہ متعین فٹ پاتھ پر چلنے کا بنیادی حق ایک متقابل ذمہ داری کا حامل ہے۔ بنچ نے کہا، ’’اگر سڑک موجود ہے تو اس بات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہے کہ چلنے والوں کے لیے متعین اور اچھی طرح سے دیکھ بھال شدہ فٹ پاتھ ہوں۔ ذمہ دار ادارے شہری ترقیاتی اتھارٹیز، میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی اور حتیٰ کہ پنچایتیں ہیں، جنہیں فٹ پاتھوں اور دیگر ضروری پیدل چلنے والوں کے انفراسٹرکچر کی حد بندی، تعمیر، دیکھ بھال اور تحفظ کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ چلنا زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘عدالت نے مزید کہا کہ ’’متعین فٹ پاتھ پر چلنے کے حق کی خلاف ورزی شہریوں کو ذمہ دار اداروں کے خلاف آئینی اور قانونی علاج معاوضے اور ہرجانے کے لیے اختیار دے گی۔ یہ علاج موٹر وہیکل ایکٹ،۱۹۸۸ء کے تحت دستیاب علاج سے آزاد ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندو تنظیم کی شکایت کے بعد بہرائچ کے آستانہ پنچ پیر کی قانونی حیثیت پر سوال                       

واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک موٹر حادثےکے انشورنس دعوے  میں آیا جو ایک پانچ سالہ بچے کی موت سے متعلق تھا۔ ایک شخص اور اس کا بیٹا اس کے اسکول کی طرف جا رہے تھے کہ ایک ٹینکر نے پیچھے سے بچے کو ٹکر ماری، جس سے اس کی کمر اور نچلا جسم کچل گیا۔ بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ۳۰؍ مئی۲۰۱۶؍ کو موٹر ایکسیڈنٹ کلیم ٹریبونل (MACT) نے۷؍ لاکھ ۸۲۰۰۰؍ روپے کا معاوضہ ۶؍ فیصد سالانہ سود کے ساتھ منظور کیا۔جبکہ انشورنس کمپنی کی اپیل کے بعد ہائی کورٹ نے معاوضہ کم کرکے ۴؍لاکھ ۷۰؍ ہزار روپے کر دیا۔ تاہم سپریم کورٹ کی رائے تھی کہ ہائی کورٹ نے MACT کی طرف سے دیے گئے معاوضے کو کم کرنے میں غلطی کی‘‘ اور اسے بڑھا کر  ۱۱؍ لاکھ ۴۴؍ ہزار ۶۲۸؍روپے کر دیا اور ہدایت دی کہ یہ رقم دو ماہ کے اندر ادا کی جائے۔
مزید برآں سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ ’’اس سڑک کے اس حصے پر نہ تو کوئی فٹ پاتھ تھا اور نہ ہی پیدل چلنے والوں کی کراسنگ جہاں حادثہ پیش آیا‘‘ اور کہا کہ اس طرح کے واقعات مسلسل رونما ہوتے رہتے ہیں، شاید یہ ناگزیر ہیں جب تک کہ ہم سڑکوں تک رسائی کے حوالے سے اپنے حقوق کے نظام کی تشکیل نو نہ کریں اور انس تعلق سے اپنے فرائض کو تسلیم نہ کریں۔‘‘عدالت نے کہا کہ "جبکہ چلنے کا حق زندگی سے جڑا ہوا ہے، ہمارا آئین اسے آرٹیکل۱۹؍ (ڈی) میں ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم اور ضمانت دیتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تمام شہریوں کو حق ہوگا... پوری ہندوستان کی سرزمین میں آزادانہ نقل و حرکت کا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی کا خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندان کو ایک کروڑ روپئے معاوضے کا مطالبہ

بعد ازاں اس موضوع پر قانون کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے عدالت نے کہا، ’’جہاں تک متعین فٹ پاتھوں پر چلنے کے حق کا تعلق ہے، اگرچہ یہ آرٹیکل۲۱؍ اور۱۹؍ (۱؍) (ڈی) کا لازمی جزو ہے، لیکن اس پر کوئی قانون نہیں ہے۔ نہ صرف اس حق کے اعلان کے لیے بلکہ ذمہ دار اداروں کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قانونی فریم ورک وضع کرنا ضروری ہے۔ اس قانون کو حق کا تحفظ، فروغ اور خلاف ورزیوں کے لیے فوری علاج فراہم کرنا چاہیے، نیز اس قیمتی حق کی منصوبہ بندی، نفاذ اور عمل درآمد کے لیے ایک مکملطریقہ کار وضح کرنا چاہیے۔‘‘اس کے مطابق، سپریم کورٹ نے اپنے رجسٹری کو ہدایت دی کہ وہ فیصلے کی ایک کاپی وزارتوں ،ہاؤسنگ اور شہری امور، دیہی ترقی، سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کو بھیجیں تاکہ ضروری قانونی فریم ورک شروع کرنے کی فوری ضرورت پر غور کیا جا سکے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ،حق کے تحفظ، ذمہ دار اداروں کی نشاندہی اور علاج کی فراہمی کے لیے قانونی فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے  ایک کاپی قانون کمیشن کو بھیجی جائے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK